صدر اور چیف الیکشن کمشنر 8 فروری کو عام انتخابات پر متفق ہوگئے

  • جمعرات 02 / نومبر / 2023

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے سپریم کورٹ کے حکم پر صدرعارف علوی سے ملاقات کی۔ دونوں میں 8 فروری کو ملک میں عام انتخابات پر اتفاق ہوگیا ہے۔

ایوان صدر اسلام آباد میں میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے وفد کے ہمراہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔ اس سے قبل اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی صدر سے ملاقات کی تھی۔ ایکس پر ایوان صدر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان اور الیکشن کمیشن کے چار اراکین کے ہمراہ ایوان صدر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کی۔

ملاقات میں ملک میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تاریخ پر تبادلہ خیال کیا گیا اور صدرمملکت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں اور انتخابات کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کو سنا‘۔ ایوان صدر نے بتایا کہ  تفصیلی بحث کے بعد اجلاس میں متفقہ طور پر ملک میں عام انتخابات 8 فروری 2024 کو کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن آف پاکستان سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجا کی سربرہای میں اراکین کمیشن نے صدر پاکستان سے ایوان صدر میں انتخابات کی تاریخ کے سلسلے میں ملاقات کی۔ متفقہ طورپر فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن  8 فروری جمعرات کو منعقد ہوں گے۔

اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر نے صدر مملکت کو عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے خط لکھا تھا اور 11 فروری کو عام انتخابات کی تجویز دی تھی۔ خط میں انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کی توجہ آج سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے حکم کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آج صدر مملکت سے ملاقات کرے اور ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کا تعین کرے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے اٹارنی جنرل اس ملاقات کا انتظام کرے اور صدرمملکت کو عدالت کا 23 اکتوبر 2023 اور آج کا حکم نامہ پہنچائے اور تعاون کے لیے دستیاب ہو۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ عام انتخابات کے لیے ایک تاریخ دی جائے گی اور عدالت کو کل (3 نومبر) آگاہ کردیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر نے خط میں صدر مملکت سے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن مشاورت کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات کے لیے 11 فروری 2024 کی تاریخ تجویز کرتا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملک میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لیے صدر سے مشاورت کی ہدایت کی تھی۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا تھا کہ 11 فروری کو الیکشن کروائے جائیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب بظاہر آئین کے خلاف ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی خط و کتابت میں نہیں جائے گی۔ فاروق نائیک نے کہا کہ صدر کا کام تھا تاریخ دیتے۔ الیکشن کمیشن شیڈیول جاری کرتا، انتخابات 90 دن میں کرانے کیلئے تاریخ دینے کی ذمہ داری صدر کی ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ 11 فروری والے اتوار کو الیکشن کروائے جائیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئینی خلاف ورزی پر جس کے خلاف کارروائی کرنی ہے اس کے فورمز موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تو صدر سے مشاورت نہ کرکے آئین کو دوبارہ تحریر کر لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا صدر مملکت آن بورڑ ہیں۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم صدر مملکت کو آن بورڑ لینے کے پابند نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے تاریخ دینے سے قبل صدر سے مشاورت نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صدر بھی پاکستانی ہیں اور الیکشن کمیشن بھی پاکستانی ہے۔ الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت کرنے پر کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اگر وہ آپ کو نہ بھی بلائیں پھر بھی آپ ان کا دروازہ کھٹکھٹا دیں۔ چیف جسٹس نے آج ہی صدر مملکت سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اٹارنی جنرل مشاورت میں آن بورڈ رہیں۔

یاد رہے کہ 21 ستمبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں عام انتخابات جنوری 2024 کے آخری ہفتے میں کرا دیے جائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے 90 روز کے اندر عام انتخابات کرانے کی تاریخ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس وقت کے صدر عابد شاہد زبیری نے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواست میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے اور نئی حلقہ بندیوں کے تحت انتخابات کرانےکا مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ بھی چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلےکی روشنی میں جاری نوٹی فکیشن غیر قانونی قرار دیا جائے۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں خیبرپختونخوا (کے پی) اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ شریک تھے اور اس طرح مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل آئینی نہیں۔