قوم انتخابات کے لیے تیار ہوجائے

الیکشن کمیشن  نے صدر عارف علوی سے مشاورت کے بعد   8 فروری کو ملک بھر میں  عام انتخابات کروانے  پر اتفاق کیا ہے۔ اب اس فیصلہ سے  جمعہ کے روز سپریم کورٹ کو مطلع کیا جائے گا۔ آج کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ اب الیکشن کی تاریخ کا اعلان سپریم کورٹ سے ہوگا۔

عدالت نے الیکش کمیشن کو فوری طور سے صدر مملکت سے مشاورت کے بعد  حتمی تاریخ کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے عدالت میں 11 فروری کو انتخابات کی تجویز دی تھی لیکن سپریم کورٹ کا مؤقف تھا کہ اس حوالے سے  صدر مللکت سے مشاورت ضروری ہے۔  پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے 90 روز کے اندر عام انتخابات کرانے کی تاریخ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ آج ان درخواستوں پر دوسری سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے نئی مردم شماری کے مطابق  حلقہ بندیوں کو تاخیر کا سبب قرار دیا اور اتوار 11 فروری کو  انتخابات کروانے کی تجویز دی۔

 دوران سماعت   انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے بارے میں پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرنے کی کوشش  کی گئی۔ فاضل ججوں کا خیال تھا کہ  انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا صدر کا آئینی فرض  ہے جبکہ الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول تیار کرنے کا پابند ہے۔ عدالتی کارروائی میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ صدر عاررف علوی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے میں ناکام رہے بلکہ اس حوالے سے انہوں نے الیکشن کمیشن کو  انتخابات کے لئے 6 نومبر کی تاریخ  مقرر کرنے کا مشور ہ دیا تھا ۔ تاہم عدالتی کارروائی میں ججوں نے یہ سوال اٹھایا کہ صدر نے قومی اسمبلی  تحلیل ہونے کے  بعد یہ ’مشورہ‘ دینے میں ایک ماہ تک کیوں انتظار کیا؟

9 اگست کو قومی اسمبلی  تحلیل کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد صدر عارف علوی نے پہلے چیف الیکشن کمشنر کو خط میں مشاورت کے لیے طلب کیا تھا لیکن چیف الیکشن کمشنر نے  الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ انتخابات کی تاریخ دینا  کمیشن  کا استحقاق ہے ، اس لیے صدر سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے چند ہفتے بعد صدر نے 6 نومبرکو انتخابات منعقد کروانے کی تجویز دی تھی لیکن  عدالتی کارروائی میں واضح ہؤا کہ  آئینی طور سے صدر کو انتخابات کی تاریخ کا  اعلان کرنا تھا۔ الیکشن کمیشن اگر اس حوالے سے مشاورت میں شامل نہیں ہؤا  تو صدر ازخود یہ اعلان کرنے کے مجاز تھے۔ فاضل ججوں نے نوٹ کیا کہ صدر نے اس حوالے سے تساہل سے کام لے کر  اپنی  آئینی ذمہ داری پوری نہیں کی اور نہ ہی مشاورت و اعانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔

اسی پس منظر میں جب الیکشن کمیشن کے وکیل نے 11 فروری کو انتخابات  منعقد کروانے کا ارادہ ظاہر کیا اور عدالت کے سوال پر واضح کیا کہ الیکشن کمیشن اس بارے میں صدر سے مشاورت کا پابند نہیں ہے تو  عدالت نے اس مؤقف کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردیا۔ اور فریقین کو باہمی مشاورت سے  ایک تاریخ پر اتفاق کرنے کا  حکم دیا گیا۔  اسی حکم کی روشنی میں بالآخر صدر اور   چیف الیکشن کمشنر نے مشاورتی اجلاس منعقد کیا اور 8 فروری کو انتخابات منعقدکروانے پر اتفاق کرلیا گیا۔

گو کہ آج کی عدالتی کارروائی کے دوران ججوں کے ریمارکس سے یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ  9 اگست کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے  بعد 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری تھی جبکہ صدر  پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ وہ  مقررہ مدت کے اندر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔ اس بارے میں چونکہ دونوں فریقین سے کوتاہی ہوئی  ہے اور  90 دن کی مدت بھی گزر چکی ہے  ، اس لیے عدالت نے اصرار کیا کہ تفصیلات میں جانے کی بجائے الیکشن کمیشن اور صدر مل کر ایک تاریخ   پر اتفاق کریں اور سپریم کورٹ اس کا حتمی اعلان کردے گی۔ اس کے بعد اس تاریخ میں رد و بدل کی کوئی تجویز قبول نہیں کی جائے گی۔ اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ جمعہ کو اس معاملہ پر سماعت کے دوران میں  90 کے اندر انتخابات منعقد کروانے میں ناکامی  پر صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن کے بارے میں کیا ریمارکس  دیتی ہے۔ لیکن  چونکہ اب یہ مشاورت ہوچکی ہے اور الیکشن کمیشن اور صدر 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پر متفق بھی ہوگئے   ہیں تو غالب قیاس یہی ہے کہ سپریم کورٹ اس تاریخ کو حتمی قرار دے گی۔

انتخابات کے انعقاد کا حکم جاری  ہونے کے بعد  ملک میں جمہوری نظام کے حوالے سے ابہام اور شکوک و شبہات دم توڑ جائیں گے۔ عام طور سے امید کی جارہی ہے کہ انتخابات کے ذریعے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ  معاشرے میں پائے جانے والے افتراق اور سیاسی جماعتوں کے درمیان موجود نفرت و عناد کی صورت حال میں انتخابات کے نتائج کے بارے میں بھی شبہات پیدا ہوں گے اور   انتخابی مہم کے دوران بدمزگی اور تنازعات سامنے آنے کے امکانات بھی ہوں گے۔ حالانکہ پاکستان اس وقت  جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ایک مستحکم اور نمائیندہ  حکومت کا قیام بے حد ضروری ہے۔ البتہ موجودہ سیاسی صورت حال میں قومی اسمبلی میں کسی ایک پارٹی کو اکثریت حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ قیاس کیا جارہاہے کہ   چند بڑی سیاسی پارٹیوں کو    قومی اسمبلی میں پچاس یا اس سے کم زیادہ  نشستیں حاصل ہوں گی جبکہ علاقائی اور چھوٹے گروہوں کو بھی خاطر خواہ نمائیندگی حاصل  ہوسکے گی۔

انتخابات  کے بعد سامنے آنے والی  یہ صورت حال  ملکی  مفادات کے حوالے سے پریشان کن  ہوسکتی ہے۔  مسلمہ جمہوری روایات کے مطابق  جب انتخابات میں کسی ایک سیاسی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ  ہو تو چند ہم خیال پارٹیاں مل کر اکثریتی  مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے سیاسی مفاہمت پیدا کرتی ہیں۔ البتہ اس قسم کی بات چیت میں ایک تو حکومت سازی سے قبل ہم خیال سیاسی جماعتیں و گروہ  کسی مشترکہ حکومتی ایجنڈے پر اتفاق کرلیتے ہیں۔ دوسرے  یہ  مذاکرات یا افہام و تفہیم عام طور ایسی سیاسی پارٹیوں کے درمیان طے پاتی ہے جن کی سیاسی و معاشی پالسییاں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ  مشترکہ نظریے پر استوار ہوتی ہیں۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے جس بلوغت اور جمہوری روایت  سے وابستگی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ فی الوقت پاکستانی سیاست میں عنقا ہے۔

   ملک کی حالیہ  سیاسی تاریخ کا مطالعہ تو یہی واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں  عام طور سے  حکومت سازی کے لیے سیاسی اتحاد یا تو اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر قائم ہوتا ہے یا چھوٹے گروہ  اقتدار میں اپنے جثے سے زیادہ   حصہ لینے کی تگ و دو میں ایسے اتحاد میں شامل ہوتے ہیں۔ پھر مخلوط حکومت  کا سربراہ باقی ماندہ مدت میں ان گروہوں کو خوش کرنے کے  لیے سیاسی نوازشات کا سلسلہ جاری  رکھتا ہے۔ تاہم یہ جاننا بے حد اہم ہے کہ  انتخابات کے بعد اگر ایک بار پھر  مفادات یا سیاسی اقتدار کے لیے اسی قسم کا گٹھ جوڑ کرنے کی کوشش کی گئی تو ملکی مفاد اور ضرورتیں  ایک بار پھر نظر انداز ہوں گی ۔ اس کے نتیجہ میں انتخابات کے انعقاد کے باوجود عوام کی تکلیفوںمیں کمی کا امکان نہیں ہے۔

اس لیے مناسب ہوگا کہ انتخابات کی نوید سننے کے بعد  ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں واضح سیاسی حکمت عملی اختیار کریں۔ پارٹیوں کے  پروگرام کو ذاتی عناد یا شخصی پسند ناپسند سے آلودہ کرنے کی بجائے  اصولوں اور  قومی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی جائے۔ کسی ایک فرد یا لیڈر کو مسیحا بتانے یاماننے کی بجائے یہ دیکھا جائے کہ پاکستان  کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے کون سی سیاسی و معاشی حکمت عملی سب سے  مؤثر اور کارگر ہوگی۔  اسی صورت میں انتخابات کے  بعد  قوم و ملک کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

سیاسی پارٹیوں کے ماضی کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے کوئی زیادہ امیدیں تو نہیں باندھی جاسکتیں لیکن ایک بات بہرصورت  یقین سے کہی  جاسکتی ہے کہ اس بار انتخابات سے پہلے  اور انتخابات کے بعد اسٹبلشمنٹ اگر کسی ایک خاص سیاسی پارٹی  یا گروہ کی حمایت یا مخالفت کا طرز عمل ترک کردے تو  کسی معلق قومی اسمبلی  میں  موجود  سیاسی پارٹیاں ضرور کوئی قابل عمل اور مناسب سیاسی فارمولا تلاش کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ اصل خرابی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی ایک گروہ اسٹبلشمنٹ کا چہیتا کہلاتا ہے اور  پھر دوسرے گروہوں  کو اس کی حمایت پر مجبور کیا  جاتا ہے۔ اس طریقے سے  سیاسی لیڈر خود مختاری سے بات چیت کرنے  کے قابل نہیں رہتے اور کسی بھی قیمت پر اقتدار کا حصول ہر کسی کا مطمح نظر بن جاتاہے۔  چونکہ  ’کامیابی ‘  کا ایک تیر بہدف طریقہ  موجود ہوتا ہے تو ہر سیاسی پارٹی کسی بھی قیمت  پر اسٹبلمشمنٹ کو راضی رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے میں قومی مفادات پس  پشت چلے جاتے ہیں۔

 سیاسی جوڑ توڑ کا یہ طریقہ چونکہ ناکام ہوچکا ہے ، اس لیے امید کرنی چاہئے کہ  اسٹبلشمنٹ اس بار ’غیر سیاسی‘ ہونے کا دعویٰ درست ثابت کرے گی تاکہ منتخب لیڈر حقیقی معنوں میں عوام کے سامنے جوابدہ  ہو سکیں۔