الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو عام انتخابات کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، سپریم کورٹ کا اظہار اطمینان
الیکشن کمیشن نے 8 فروری کو عام انتخابات کروانے کا نوٹی فکیشن سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے امید ظاہر کی ہے کہ اب تمام غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی اور انشاللہ انتخابات 8 کو ہی ہوں گے۔
سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان الیکشنز ایکٹ کے آرٹیکل 57(1) اور اس سلسلے میں اسے بااختیار بنانے والی دیگر تمام دفعات کے تحت 8 فروری 2024 کو عام انتخابات کے لیے پولنگ کی تاریخ کا اعلان کرتا ہے۔
سپریم کورٹ میں ملک میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ کئی مہینوں کے انتظار اور بے یقینی کے بعد الیکشن کمیشن اور صدر عارف علوی نے گزشتہ روز انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کر لیا تھا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی تھی جب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے سپریم کورٹ کے حکم پر ایوان صدر میں صدر مملکت سے ملاقات کی۔ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سماعت کے دوران انہیں صدر سے مشاورت کی ہدایت دی تھی۔ کل کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے عدالت کو بتایا تھا کہ حلقہ بندیوں کا عمل 29 جنوری تک مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد 11 فروری کو انتخابات ہوں گے۔
90 روز میں انتخابات کرانے سے متعلق درخواستوں پر آج سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے چیف الیکشن کمشنر کا انتخابات کی تاریخ سے متعلق خط عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن وفد ملاقات کے منٹس بھی عدالت میں پیش کردیے۔
اٹارنی جنرل نے عام انتخابات 8 فروری کو کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن عدالت میں پیش کیا۔ نوٹی فکیشن الیکشن ایکٹ کی دفعہ 217 تحت جاری ہوا ہے۔ عدالت میں پیش کیے گئے نوٹی فکیشن پر 3 نومبر کی تاریخ درج ہے۔ اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن کا جاری کردہ نوٹی فکیشن عدالت میں پڑھ کر سنایا جس کے بعد چیف جسٹس نے حکمنامہ لکھوایا۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ 2 نومبر 2023 کی ملاقات کے بعد انتخابات کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا۔ قومی اسمبلی وزیراعظم کی ایڈوائس پر تحلیل کی گئی یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صدر اور الیکشن کمیشن کے مابین اختلاف ہوا، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز نے حکمنامے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
صدر نے خط میں لکھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومتوں سے مشاورت کرکے تاریخ کا اعلان کرے، صدر کے اس خط پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ کا تاریخ دینے کے معاملے پر کوئی کردار نہیں۔ صدر مملکت اعلیٰ عہدہ ہے، حیرت ہے کہ صدر مملکت اس نتیجے پر کیسے پہنچے۔ حکم کے مطابق تاریخ دینے کا معاملہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کا نہی۔، صدر مملکت کو اگر رائے چاہیے تھی تو 186 آرٹیکل کے تحت رائے لے سکتے تھے۔ ہر آئینی آفس رکھنے والا اور آئینی ادارہ بشمول الیکشن کمیشن اور صدر آئین کے پابند ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ آئین پر علمداری اختیاری نہیں۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی وجہ سے غیر ضروری طور پر معاملہ سپریم کورٹ آیا۔ سپریم کورٹ آگاہ ہے کہ ہم صدر اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر پورا ملک تشویش کا شکار ہوا۔ یہ باتیں کی گئیں کہ ملک میں انتخابات کبھی نہیں ہوں گے۔ سپریم کورٹ سہولت کار کے طور پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان مشاورت کا کہہ سکتی ہے۔
یہ عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ سب ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ صدر مملکت یا الیکشن کمیشن دونوں ہر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انتخابات کے سازگار ماحول پر بہتری ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حلف اُٹھا رکھا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر، ممبران اور صدرمملکت حلف لیتے ہیں عوام کو صدر مملکت یا الیکشن کمیشن آئین کی عملداری سے دور نہیں رکھ سکتے۔
قومی اسمبلی اس وقت تحلیل ہوئی جب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد آئی۔ وزیراعظم کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اس وقت کے وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کر کے آئینی بحران پیدا کیا۔ اسمبلی تحلیل کیس میں ایک جج نے کہا کہ صدر مملکت پر پارلیمنٹ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے۔ حکمنامے کے مطابق عجیب بات ہے صدر مملکت نے وہ اختیار استعمال کیا جو ان کا نہیں تھا۔ عوام پاکستان حقدارہیں کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں۔ ہم محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارا کردار صرف سہولت کاری کا ہے۔ انتخابات کا معاملہ تمام فریقین کی رضامندی سے حل ہو چکا ہے۔ 8 فروری کو عام انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اِس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملاقات کرانے کے لیے اٹارنی جنرل نے کردار ادا کیا اور معاملہ حل ہو گیا۔ اٹارنی جنرل نے صدر مملکت کے سیکرٹری کا خط عدالت میں پیش کیا۔ صدر مملکت کے خط میں کہا گیا کہ عام انتخابات 8 فروری کو ہوں گے۔ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن شیڈول جاری کرے گا، شیڈول دیں تاکہ لوگوں کو پتا تو چلے۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی اعتراض نہیں کیا۔ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے پورے ملک کی تاریخ دے دی ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا۔ انتخابات ان شااللہ 8 فروری کو ہوں گے۔ ہم نے انتخابات کے انعقاد کے لیے سب کو پابند کر دیا ہے۔
حکمنامے میں چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار منیر احمد ایک مشکوک شخصیت ہیں۔ ان پر بہت سے سوالات ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پتا ہے ہم نے کیسے عملدرآمد کروانا ہے۔ میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں۔ اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی کریں گے۔
اس میں چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو شام کو ٹی وی پہ یہ خبر چلے کہ پتہ نہیں کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں۔ میڈیا میں انتخابات نہ ہونے کی خبریں چلنے سے عوامی رائے متاثر ہوتی ہے۔ انتخابات کے انعقاد سے متعلق شک و شبات والی منفی خبریں چلیں تو پیمرا کارروائی کے لیے موجود ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ انتخابات کی تاریخ ہم نے دی ہے۔ اظہار رائے سے متعلق آرٹیکل 19 تو موجود ہے لیکن آئین پر عمل داری بھی ہر شہری پر فرض ہے۔ ان شااللہ ہر کوئی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا۔
سپریم کورٹ نے 90 دن انتخابات کیس میں اپنا حکم نامہ لکھواتے ہوئے تمام درخواستیں نمٹا دیں۔