پی ٹی آئی کا مستقبل

پاکستان 2024 میں نئے عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے بقول یہ عام انتخابات فروری میں ہوں گے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ  کو عام انتخابات کی تاریخ بھی بتا دی گئی ہے۔

پاکستان عام انتخابات کے تنائج ہمیشہ متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو ہار جاتا ہے، وہ دھاندلی یا انجینئرڈ الیکشن کا واویلا کرتاہے جبکہ جیتنے والا اسے شفاف ترین قرار دیتا ہے۔ یہ سیاسی کلچر جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے کیونکہ یہ انتخابی نتائج اور ساکھ کو ہی متنازعہ نہیں بناتا بلکہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بھی کمزور بناتا ہے۔ آج کے سیاسی ماحول میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ نئے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟  پی ٹی آئی کی قیادت اور بعض کارکن زیرعتاب ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کہیں پی ٹی آئی جلسہ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست کا خاتمہ ہونے والا ہے ؟

دوسرا سوال ہے کہ کیا جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی کا انتخابی نشان کرکٹ بیٹ ہوگا؟ سوئم، کیا چیئرمین تحریک انصاف کی رہائی ممکن ہوسکے گی ؟ چہارم، کیا انتخابی نتائج پی ٹی آئی کے حق میں نہیں ہوں گے؟ پنجم، کیا طاقت ور امیدوار پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے سکیں گے؟

پی ٹی آئی پر سیاسی عتاب نو مئی کے واقعات کی بنیاد پر سامنے آیا ہے ۔ پی ٹی آئی کی سیاسی مہم جوئی اور 9مئی کی حکمت عملی نے ان کی جماعت کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ ان کے لیے سیاسی راستے بند کیے ہیں ۔ اس لیے پی ٹی آئی کی غلط سیاسی حکمت عملی یا سیاسی سطح پر مہم جوئی نے اس کو کمزور کیا اورکافی نقصان پہنچایا ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا سیاسی خاتمہ ہوجائے گا ؟ کیا ووٹرز بالخصوص نوجوانوں کی پی ٹی آئی سے جذباتی وابستگی کم ہوسکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی سیاست سے اختلاف کرنا سب سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے۔ یہ حق پی ٹی آئی کے وابستگان کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ اسی طریقے سے پی ٹی آئی کا سیاسی و انتخابی میدان میں رہنا ممکن ہوگا۔ ان کے امیدواروں کی انتخابی مہم بھی اسی اصول پر ہونی چاہیے ۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اگر قانون شکنی کی ہے یا ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا ہے تو ضرور قانون اپنا راستہ بنائے لیکن کسی سیاسی جماعت کو انتظامی ہتھکنڈوں ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا، بلکہ نئے مسائل جنم لیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی وہ لیڈرشپ اور کارکن جو 9مئی کے واقعات میں ملوث ہیں اور وہ لوگ جن کوئی ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے، ان میں فرق کیا جانا چاہیے ۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی غلطیوں کو تسلیم کرے جس کی وجہ سے آج ان کو ان مشکلات کا سامنا ہے۔ اور اگر ان کی قیادت محفوظ سیاسی راستہ چاہتی ہے تو اس کو خود اپنی سوچ اور فکرسمیت ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے ۔

پی ٹی آئی میں مفاہمتی پالیسی سامنے آنی چاہیے ۔ لیکن یہ مفاہمتی پالیسی یک طرفہ نہیں ہوسکتی بلکہ اس کا عمل دوطرفہ ہونا چاہیے ۔ ٹکراؤ کسی کے حق میں نہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھ کر اور حالات و واقعات میں آگے بڑھنے کی حکمت عملی ہی سب کے لیے سودمند ہوگی۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی یا اس کی قیادت کو مائنس کرکے سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں ۔

اصل امتحان عام انتخابات کے شیڈول جاری ہونے کے بعد سامنے آئے گا اور دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا انتخابی عمل میں کردار کیا رہتا ہے۔ کیا وہ سب جماعتوں کو لیول پلینگ فیلڈ مہیا کرنے میں کامیاب ہوگی ؟ یہ سب اسی صورت میں ممکن ہوگا جب سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار کی جائے گی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر پی ٹی آئی کا احساس محرومی ردعمل کی سیاست کع بڑھادے گا۔

ہم طاقت کی بنیاد پر سیاسی مسائل حل نہیں کرسکتے۔ مائنس ون، ون ٹو یا مائنس تھری کی باتیں یا حکمت عملی کامیاب نہیں ہوتی۔ سب قوتوں کو ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جو پاکستان کے عوام اور ریاست کے مفاد میں ہو۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ہم گلوبل دنیا میں رہ رہے ہیں اور گلوبل دنیا میں ہم بہت سے معاملات کو محض سیاسی تنہائی میں نہیں چلاسکتے۔

اس لیے نگرانوں کی حکومت ہو یا الیکشن کمیشن ان پر ہی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عام انتخابات کی ساکھ  قائم کریں۔

(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)