گوادر: سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کا حملہ میں 14 اہلکار شہید

  • جمعہ 03 / نومبر / 2023

بلوچستان کے ضلع گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے 14 اہلکار شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑی ضلع گوادر میں پسنی سے اورماڑہ جا رہی تھی کہ گھات لگائے دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ واقعے میں 14 فوجی اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں پاک فوج کی جانب سے آپریشن جاری ہے اور اس بدترین واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور بہادر جوانوں کی اس طرح کی قربانیوں سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔

نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے گوادر میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے واقعات قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دعائیں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگوہ ہیں، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کھڑا رہے گا۔

بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ علی مردان خان ڈومکی نے بھی دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی اور بیان میں کہا کہ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت پر مامور جوانوں پر حملہ بزدلانہ حرکت ہے۔ علی مردان ڈومکی نے واقعے میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کا حملہ صوبے کا امن سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش ہے۔

کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گزشتہ برس نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گوادر میں سیکیورٹی فورسزکی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے سے قبل خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ٹانک اڈہ کے قریب پولیس پر کیے گئے بم دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور20 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ستمبر میں پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے مرتب اعداد وشمار میں کہا گیا تھا کہ اگست میں دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد 9 سال کے دوران سب سے زیادہ رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نومبر 2014 کے بعد ملک بھر میں ایک مہینے میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ 99 حملے ہوئے۔