ترکیہ نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

  • ہفتہ 04 / نومبر / 2023

غزہ پر وحشیانہ بمباری کے باعث ترکیہ نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ جنگ بندی کی کوششوں کے لیے مشرق وسطی کا دورہ کررہے ہیں

ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترک سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلایا  گیا ہے۔ سفیر کو غزہ میں اسرائیلی حملوں اور انسانی صورتحال پر واپس بلایا گیا ہے۔ فلسطین نے ترکیہ کے اسرائیل سے سفیر واپس بلانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترکیہ کا فیصلہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا اظہار ہے۔ دیگر ممالک بھی ایسے جرات مندانہ اقدامات کریں۔ تمام ممالک غزہ میں نسل کشی پر اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کریں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل کا سفیر بھی سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ترکیہ سے پچھلے ماہ واپس جا چکا ہے۔ اس سے قبل اردن اور بحرین بھی اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں۔

ادھراسرائیلی فورسز نے غزہ شہر کے ایک اسکول پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ اسکول پر یہ حملہ غزہ میں تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ میں ایسے موقع پر ہوا ہے جب امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن ہفتے کو اردن کے دارالحکومت عمان میں عرب ملکوں کے اعلیٰ سفارت کاروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' ک نے رپورٹ دی ہے کہ غزہ کے الشفا اسپتال کے مطابق اسکول پر اسرائیل کے فضائی حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس اسکول میں لوگ پناہ لیے ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ فضائی حملہ جبالیہ میں الفخورہ اسکول میں ہوا جہاں ہزاروں پناہ گزین موجود تھے۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار انٹونی بلنکن اسرائیل کے دورے کے بعد عمان پہنچے ہیں جہاں انہوں نے لبنان کے قائم مقام وزیر اعظم نجیب میکاتی سے ملاقات کی۔ بلنکن سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور قطر کے وزرائے خارجہ اور فلسطین کی آزادی کی تنظیم، پی ایل او، کے سیکریٹری جنرل سے بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کی ملاقاتوں کا مقصد غزہ میں انسانی بحران اور اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس میں جنگ کا خاتمے کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔