آصف زرداری اور نواز شریف کی ملاقات کا امکان، ٹیلی فون رابطہ

  • سوموار 06 / نومبر / 2023

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں لیڈر جلد ملاقات کرسکتے ہیں۔

لیگی ذرائع کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں سابق صدر اور پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے وطن واپسی پر نواز شریف کو مبارک باد پیش کی اور دونوں رہنماؤں نے ریاست کو بچانے کیلیے مل کر کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے معاشی مشکلات اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اہم فیصلے کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان جلد ملاقات کا امکان ہے۔

قبل ازیں مسلم لیگ ن کا نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پارٹی میٹنگ کے حوالے سے ذرائع سے چلنے والی خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ پارٹی قیادت سے متعلق خبریں سکریٹری اطلاعات ہی جاری کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں اور بے بنیاد اطلاعات کو خبریں نہ بنایا جائے۔

قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ ہم لیول پلیئنگ فیلڈکی بات کرتے ہیں اور آپ اسے ایون فیلڈ سمجھ رہی ہیں۔ لیول پلیئنگ فیلڈ کا سن کرآپ کےچہرے پر مایوسی، ماتھے پر پسینہ کیوں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ ملے یا نہ ملے پیپلزپارٹی 1988 کی طرح انتخابات جیتےگی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت مشکلات کامقابلہ کرتی ہے میدان نہیں چھوڑتی۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سب کو برابر موقع ملنا چاہیے۔ ہم رکاوٹ ڈالنے والے نہیں۔ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ سب کو الیکشن میں آنا چاہیے۔ ہم کسی ایسے فعل میں شامل ہیں، نہ اس کی حمایت کریں گے۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کو انتخاب لڑنا چاہیے۔ سب کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر ہونا چاہیے اور اگر کوئی جیل میں ہے تو عدالت کو اس کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہم کسی کو جیل بھیجنے والے نہیں۔ نہ ہمیں کسی کو پکڑنے یا پکڑوانے کا شوق ہے۔ ہم نے میدان میں مقابلہ کرنا ہے، ٹوئٹر فیس بک، سوشل میڈیا کا مقابلہ اور ہے گلی کا میدان اور ہے۔

عمران خان سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کسی کے بھی ہاتھ پاؤں بندھے نہیں ہونے چاہئیں۔ ہم اس کی حمایت نہیں کرتے۔ اگر کسی نے توشہ خانہ میں واردات کی ہے، سائفر کے بنیاد پر سازش کی ہے یا 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہے تو اس کو چاہیے کہ عدالتی نظام سے ریلیف لے۔