اسرائیل نے غزہ دو حصوں میں تقسیم کردیا، ہلاکتیں دس ہزار سے بڑھ گئیں
اسرائیلی فورسز نے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے پیر کو غزہ شہر کا محاصرہ کر لیا ہے اور غزہ کے شمالی حصے کو باقی علاقے سے کاٹ دیا ہے۔
اسرائیلی فوج اس کے بعد زمینی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج پیر یا منگل کو غزہ شہر میں داخل ہوسکتی ہے۔ تاہم خیال ہے کہ حماس اور دیگر جنگجو سرنگوں کے نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے گلی گلی میں مقابلہ کریں گے۔ اس دو بدو جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔
غزہ پر بمباری کی وجہ سے لگ بھگ 15 لاکھ فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ پیر کو غزہ میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور دیگر ٹیلی کمیونی کیشن کے ذرائع ایک بار پھر منقطع ہوئے تھے۔ گزشتہ ماہ سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں تیسری بار غزہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام متاثر ہوا۔
غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے اور اس دوران حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے طبی حکام کے مطابق لگ بھگ 10 ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جب کہ 24 ہزار زخمی ہیں۔ مغربی کنارے میں بھی اب تک 140 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر غیر متوقع اور اچانک حملے میں 1400 اسرائیلی مارے گئے تھے جب کہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حماس نے اس دوران 230 کے قریب اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا جو اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔ حماس کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی بمباری میں کچھ یرغمالی مارے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فورسز نے اتوار کو ایک بار پھر وسطی غزہ میں دو مہاجر کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مقامی طبی حکام نے ان حملوں میں بھی درجنوں فلسطینیوں کی موت کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل امریکہ کی اس تجویز کو مسترد کر چکا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بمباری روکی جائے۔
اسرائیل نے اپنی فوج کی کارروائی کے دو مقاصد بتائے ہیں جن میں ایک غزہ سے حماس کا خاتمہ اور دوسرا یرغمال اسرائیلیوں کی بازیابی ہے۔ ادھر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو حکومت نے اتحادی جماعت کے رہنما اور اپنی کابینہ سے نکال دیا ہے۔ ایمیشے ایلیاہو نے ایک انٹرویو میں غزہ میں کارروائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اس بیان پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔
دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے لبنان میں بھی حملے کیے ہیں جن میں ایک کار بھی زد میں آئی ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس میں سوار چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لبنان کی عسکری تنظیم ’حزب اللہ‘ نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیلی فوج کو اس حملے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ جنوبی لبنان میں جس کار کو نشانہ بنایا گیا ہے اس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس میں تین بچے اور ان کی دادی کی موت ہوئی ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے میزائل حملے کے جواب میں کارروائی کی تھی۔ اس حملے میں ایک اسرائیلی شہری ہلاک ہوا تھا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ میں ایک ماہ کے دوران ڈھائی ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ فضائی ، بحری اور زمینی کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوج کی موجودگی کو بڑھاتے ہوئے ایک جوہری آب دوز بھی خطے میں بھیج دی ہے۔ یہ آبدوز میزائلوں سے لیس ہے جب کہ قبل ازیں امریکہ دو بحری بیڑے خطے میں بھیج چکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی 11 ایجنسیوں نے انسانی بنیادوں پر غزہ میں فوری طور پر جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان اداروں نے مشترکہ بیان میں عام شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی فراہمی کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اتوار کی شب کو جاری کیے گئے بیان میں حماس کے اسرائیل پر حملے کو ہیبت ناک قرار دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امدادی اداروں کے مطابق اس جنگ میں اب تک ان کے 88 رضاکار مارے جا چکے ہیں۔
اردن کے مطابق اس کی فوج کے مال بردار طیاروں نے فضا سے غزہ میں طبی امداد پہنچائی ہے۔ امریکہ کے قریبی اتحادی ملک اردن نے پیر کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ شمالی غزہ میں اردن کے فیلڈ اسپتال میں فضا سے امدادی سامان گرایا گیا ہے۔ اردن کے بادشاہ عبد اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں جنگ میں زخمیوں کے لیے امداد کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب چین کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ایک اور میٹنگ پیر کو ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بھی سیکیورٹی کونسل کی متعدد میٹنگز ہو چکی ہیں۔ لیکن ان اجلاسوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے اور نہ ہی کوئی قرار داد منظور ہوئی ہے۔