میرے وطن کو آلودہ کس نے کیا؟

پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور سب سے بڑے صوبے پنجاب کا دارالحکومت لاہور مسلسل دوسرے سال دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آ رہا ہے، جس کا ائیر کوالٹی انڈیکس 281 ہے۔ چین کا شہر بیجنگ دوسرے نمبر پر آلودہ ہے جس کا ائیر کوالٹی انڈیکس 196 ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ لاہور انتہائی آلودہ ہے جس کا انڈیکس دوسرے نمبر والے شہر سے لگ بھگ ایک سو زیادہ ہے۔ 2022 میں بھی لاہور ہی آلودگی میں پہلے نمبر پر تھا لیکن تب لاہور کا انڈیکس 172 تھا۔ یعنی ایک سال کے اندر آلودگی انڈیکس میں ایک سو سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے جن مزید شہروں کی آلودگی مضر صحت قرار پائی ہے، ان میں پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد اور ہری پور ہیں. مجھے خوشگوار حیرت ہوئی ہے کہ آلودہ شہروں میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، قصور سمیت کئی اور شہروں کے نام کیوں نہیں آئے ہیں؟ بقول جناب وجاہت مسعود صاحب آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر ایک نامعلوم پرچھائیں کی چادر تنی ہے۔

ہمارا کشمیر آج سے تقریباً 30 برس پہلے تک آلودگی سے پاک علاقہ تھا۔ آج بھی کشمیر کے بعض علاقوں کو آلودگی سے پاک کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ گندگی ہر جگہ پہنچ چکی ہے۔ بالخصوص مومی شاپر ہر جگہ پہنچ چکے اور جگہ جگہ بکھرے ہوتے ہیں لیکن کشمیر کے شہروں میں بھی اب آلودگی بہت زیادہ ہو چکی ہے بڑی وجہ اس کی گاڑیوں کی بے ہنگم آمدورفت ہے۔ اس کے علاوہ پانی کا بے جا استعمال، گرد اور جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ہیں۔ ہمارا ملک دنیا کے ان چند ممالک میں آتا ہے جہاں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ یہ کام مشکل اور مہنگا ضرور ہے لیکن یہ ترجیحاً کرنا چاہیے. اس وقت دنیا میں ایسی ٹیکنالوجی عام ہے جس کو استعمال کرکے کوڑے کی ری سائیکلنگ کی جاتی ہے اور اس سے وافر مقدار میں گیس پیدا کر لی جاتی ہے۔

میرے خیال میں تو ہمیں مواصلات، تعلیم، صحت اور دوسرے کئی شعبوں سے بھی کوڑا ٹھکانے لگانے کے منصوبے کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر ملک صاف ستھرا ہوگا تو صحت بھی بہتر ہو جائے گی۔ ہمارے ہاں کم از کم 25 فیصد بیماریوں کی وجہ گندگی اور آلودگی ہے۔ کسی ملک کے لوگوں کی سوچ، شعور اور تعلیم کا اندازہ اس ملک کی صفائی اور ٹریفک کے ڈسپلن سے لگایا جاتا ہے جبکہ ہم ان دونوں میں سب سے آخری نمبر پر ہی آتے ہوں گے۔

دراصل ہمارے ملک میں آج تک کوئی ایسی پالیسی بنی ہی نہیں جس سے ملکی مسائل کے حل کی طرف پیشرفت ہوتی ہے۔  ہمارے ملک کے اندر کسی بھی چیز میں توازن نہیں ہے۔ ہمیں تو یہ ہی پتا نہیں کہ ہم بچے کتنے پیدا کر رہے ہیں اور شرح پیدائش کے مقابلے میں ملک کے اندر سہولیات اور وسائل پیدا کرنے کی شرح کیا ہے؟ اس کا اندازہ ملک کے کسی سرکاری ہسپتال میں داخل ہو کر بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ بلکہ اب تو نجی ہسپتالوں میں بھی اتنا رش ہوتا ہے کہ بندہ گھبرا جاتا ہے۔

اسی طرح چھوٹے بڑے شہروں میں ٹریفک سے بھی ہماری بے اعتدالیوں کا صاف پتا چل جاتا ہے۔ دنیا تو صرف ہمارے شہروں میں ماحول کی آلودگی کو چیک کرتی ہے۔ لیکن یہاں تو پورا ملک ہی آلودہ ہے۔ یہاں ہر شعبہ ہائے زندگی آلودہ ہے۔ ہماری تعلیم آلودہ ہے، ہمارے ہسپتال انتہائی آلودہ ہیں۔ ہماری عدالتیں سب سے زیادہ آلودہ ہیں۔ ہماری سیاست آلودہ ہے. ہمارے انسانی رویے آلودہ ہیں، ہماری سوچ آلودگی کا مرکز ہے۔ ہم نے تو اپنے دین کو بھی آلودہ کردیا ہے۔

یاد رکھیں کسی بھی ریاست میں پیدا ہونے والے بچے کے جو اس ریاست پر حقوق ہوتے ہیں، ان میں سب سے پہلے اس کی معیاری اور مناسب خوراک ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس کی صحت اور تعلیم کے لیے غیر آلودہ ماحول کا بندوبست ہے۔ ہم بچے پیدا کرتے وقت یہ فراموش کردیتے ہیں کہ ان بچوں کی ذمہ داری بھی ہم نے لینی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں والدین اور ریاست دونوں اپنے بچوں کو بے یار و مددگار انتہائی آلودگی میں چھوڑ کر ان سے امید لگا لیتے ہیں کہ یہ بڑے ہو کر والدین اور ریاست کی خدمت کریں گے اور ہمارے بچے ملک میں ہر طرف چھائی ہوئی آلودگی، بے ترتیبی، سیاسی اور مذہبی ناہمواریوں میں پرورش پاتے ہوئے ہم عصر دنیا کے نوجوانوں سے کہیں دور آلودہ سوچ پال رہے ہوتے ہیں۔ اسی ماحول میں ان کی سوچ اس قدر محدود ہو جاتی ہے کہ وہ کسی تحقیق کے جھنجھٹ میں پڑنے کی بجائے جائز و ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی(کمانے نہیں اکٹھی کرنے) کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں۔ اسی لیے آج ہماری پوری قوم جس جوش و جرات سے فلسطین کے لیے اپنے آنسوؤں میں دعائیں کر رہی ہے، اسی شدت سے ملکی حالات کی بہتری کے لیے بھی کسی مسیحا یا معجزے کی منتظر رہتی ہے۔ لیکن جس طرح ہماری دعائیں فلسطینیوں کو بچانے سے قاصر ہیں، اسی طرح پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے کسی مسیحا یا معجزے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

پھل کھانے کے لیے پودے خود لگانا پڑتے ہیں اور ان کی حفاظت کا بندوبست بھی خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک پر چھائی آلودگی اس وقت تک کم نہیں ہوگی جب تک ہم اپنی آلودہ سوچ کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کھول کر صاف نہیں کریں گے اور ہماری ترجیحات کی سمت درست نہیں ہوں گی۔ عام انتخابات کی بازگشت سنائی دی ہے، عوام کو موقع دیا جائے اور عوام کو بھی چاہیے کہ ذاتی پسند نا پسند سے اوپر اٹھ کر انتخاب کریں اور امیدواروں سے حقیقی مسائل پر سوال کریں۔ انہیں پوچھیں کہ سچ بتاؤ اس ملک کو کس نے آلودہ کیا ہے؟ اور ان سے عہد لیں کہ ہمارے پیارے وطن پر چھائی آلودگی کو صاف کیا جائے گا۔

نوٹ: کالم نگار کا مقصد درپیش مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کی کوشش ہوتا ہے۔ ہم اس کے لیے کسی معاوضے کا تقاضا نہیں کرتے، ہماری انتہائی گزارش یہی ہوتی ہے کہ ذمہ داران حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیں۔