مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں مواصلت و مفاہمت

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف   اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نائب  چئیرمین   آصف زرداری  میں ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ خبر کے مطابق  دونوں لیڈر جلد ہی ملاقات بھی کرسکتے ہیں۔  یہ خبر ایک ایسے ماحول میں سامنے آئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتی رہی ہے اور اس کے  لیڈر اندیشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ  نئے انتخابات میں بھی 2018 کا طریقہ دہرایا جاسکتا ہے ۔البتہ اس مرتبہ  ’لاڈلے‘ کا مقام عمران خان کی بجائے شاید نواز شریف کو حاصل ہوگا۔

دوسری طرف  مسلم لیگ (ن) کے  لیڈروں  خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنااللہ نے پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات سے علیحدہ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب پارٹیوں کو عوام سے ووٹ مانگنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف کے کچھ لیڈر اگر کسی غیر قانونی کارروائی میں مصروف رہے ہیں تو انہیں قانون کے مطابق شفاف  طریقے سے انصاف ملنا چاہئے۔  مسلم  لیگ (ن) کے لیڈروں کی طرف سے  ایک شدید مخالف پارٹی کے حوالے سے یہ بیان سیاسی تصادم و منافرت کے سنگین  ماحول میں ایک خوشگوار خبر ہے۔  اس سیاسی رویے کی تحسین ہونی  چاہئے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہوگا کہ اس قسم کی باتیں بعض دوسرے درجے کے لیڈر  میڈیا کو دیے گئے بیانات  میں ہی نہ کریں  بلکہ مسلم لیگ (ن) پارٹی اجلاس میں انتخابات کی شفافیت اور تحریک انصاف کے سیاسی حقوق  کی حمایت کے بارے میں اصولی فیصلہ کرے اور اسے  پارٹی کے اعلیٰ ترین  فیصلہ ساز فورم سے جاری کیا جائے۔

اس میں تو کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں توہین  آمیز بیانات دینے یا سوشل میڈیا پر مہم جوئی کا رویہ ہر پارٹی میں یکساں طور سے موجود ہے۔ تحریک انصاف کو چونکہ سوشل میڈیا کے استعمال میں سبقت حاصل ہے اور اس کے چئیر مین سمیت اہم لیڈر بدستور جیلوں میں بند ہیں ، اس لیے اس پارٹی کے ہمدرد اور حامی سیاسی نفرت انگیزی میں بازی لے جاتے ہیں۔ البتہ دوسری پارٹیاں بھی اس نفرت میں  کمی کی بجائے ترکی بہ ترکی جواب دینے اور ایک جھوٹ کے جواب میں دو جھوٹ سامنے لاکر حساب برابر کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہیں۔   ان ہتھکنڈوں سے ملک کے سیاسی ماحول میں شدید بے چینی اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور اب انتخابات کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان ہونے کے بعد   متعدد حلقوں   کو اس بارے میں  پریشانی لاحق ہے۔

عام طور سے انتخابی مہم کے  دوران میں    ایک دوسرے کے بارے میں تند و تیز لب و لہجہ اختیار کیا جاتا ہے۔   اس بار انتخابات ایک ایسے ماحول میں منعقد ہونے والے ہیں جب  ایک پارٹی  خود کو مستقبل کے اقتدار کا جائز حقدار سمجھ کر مخالف  سیاسی جماعت کو ملک دشمن اور تمام تر معاشی و سماجی بربادی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ اور دوسری طرف سے  مدمقابل فریق کو  ’چوروں و لٹیروں‘ کا گروہ  بتا کر مسترد کیا جارہا  ہے۔  اور پورے زور شور سے یہ پروپیگنڈا کیا جارہا  ہے  کہ میاں نواز شریف کو کسی خفیہ ڈیل کے ذریعے پاکستان لایا گیا ہے اور ان سے ملک دشمنی پر مبنی فیصلے کروائے جائیں گے۔  مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے ایک دوسرے کے بارے میں جو سیاسی رویہ اپنا یا ہے، وہ کسی اصول یا  حکمت عملی کا اختلاف نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد  اقتدار کی کھینچا تانی میں مخالف کو  نیچا دکھانے کا مقصد ہے۔ اس وقت چونکہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا زمانہ ہے ، اس لیے لوگوں میں فاصلہ پیدا کرنے اور نفرت عام کرنے کے لیے ان ذرائع کا استعمال عام ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان موجودہ مہم جوئی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عمران خان یا ان کے حامی،  پیپلز پارٹی یا ملک کی دیگر پارٹیوں کو درست سمجھتے ہیں اور  شریف خاندان کی  مبینہ بدعنوانی کی وجہ سے ان کے خلاف ہیں۔ کیوں کہ ماضی قریب میں  شریف خاندان اور زرداری خاندان یکساں طور سے عمران خان کی نفرت انگیزی  کا نشانہ بنے رہے  تھے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں صرف نواز شریف ، ان کے بھائی، بیٹی اور دیگر عزیزوں یا ساتھیوں ہی کو قید و بند اور منفی پروپگنڈے کا سامنا  نہیں کرنا پڑا تھا بلکہ تحریک انصاف کی تو پیں آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے خلاف بھی اسی شدت سے زہر اگلتی رہی ہیں۔  البتہ موجودہ سیاسی صورت حال اور انتخابی مہم کے حوالے سے چونکہ پنجاب میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) مدمقابل ہوں گی، اس لیے ان دونوں پارٹیوں کی طرف سے   ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیزی میں اضافہ  دیکھنے میں آیا ہے۔

فروری 2024 میں منعقد ہونے والے انتخابات  میں پیپلز پارٹی کا کوئی بڑا اسٹیک نہیں ہے۔ اسے کسی دوسری پارٹی کی معاونت کے بغیر پنجاب میں کوئی خاص کامیابی حاصل کرنے کی امید نہیں ۔  البتہ تحریک انصاف کے کمزور ہونے کی وجہ سے سندھ میں پیپلز پارٹی نے اپنی گرفت مضبوط کی   ہے۔ حالانکہ سندھ میں پندرہ سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود اس صوبے میں پیپلز پارٹی  نے کسی بڑے عوام  دوست منصوبے کا آغاز نہیں کیا اور نہ ہی وہاں کوئی  ایسے انقلاب آفرین اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں جن سے غربت کم ہوئی ہو،  صحت یاتعلیم کی سہولتوں میں اضافہ ہؤا ہو یا  سیاسی لیڈروں کی کارکردگی پر عوام کا  بھروسہ بڑھاہو۔  چونکہ 2008 سے 2013 کے علاوہ پیپلز پارٹی  مرکز میں اقتدار میں نہیں تھی، اس لیے  اس پہلو کو عذر بنا کر یہ پارٹی سندھ کی حد تک اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالتی رہی ہے۔ جمہوری سیٹ اپ میں عام طور سے دیکھنے میں آیا  ہے کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی یکے بعد دیگرے دو انتخابات جیت لے  یا آٹھ دس سال حکومت  میں رہے تو خواہ اس نے کوئی بڑی سیاسی غلطی نہ بھی کی ہو اور  ترقی  کی رفتار بھی مناسب رہی ہو لیکن عوام کی اکثریت پھر بھی اس تسلسل سے  ’عاجز‘ آجاتی ہے اور  کسی دوسری پارٹی کو منتخب کرنے کا رجحان عام ہوتا ہے۔ البتہ پاکستان میں اور خاص طور سے سندھ میں اس کا اطلاق دکھائی نہیں دیتا۔ اب بھی یہی لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی 2024 کے  شروع میں ہونے والے انتخابات میں سندھ کی حد تک کامیابی حاصل کرلے گی۔

اس دوران  میں پیپلز پارٹی نے پنجاب میں سیاسی بنیاد نہ ہونے کے باوجود  یہ خواب دیکھنا شروع کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ملک کا وزیر اعظم بنوایا جائے۔  یہ کوئی ناجائز خواہش نہیں ہے لیکن اس کے لیے شفاف سیاسی مہم جوئی کے ذریعے انتخابی کامیابی کی کوشش کرنی چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری کے لیے سب سے بڑا چیلنج خود ان کے والد آصف زرداری رہے ہیں۔  وہ خود جوڑ توڑ اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی طرح بلاول بھٹو کو اپنے طے شدہ سیاسی منصوبوں پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔  پیپلز پارٹی کا چئیر مین ہونے اور شہباز حکومت میں 16 ماہ تک وزیر خارجہ کے اہم منصب پر فائز رہنے کے باوجود بلاول بھٹو زرداری اب تک اپنے والد سے الگ  اپنا سیاسی تشخص  سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔   اسی لیے ان کی کامیابی اور انہیں وزیر اعظم کے منصب پر فائز کروانے  کے لیے آصف زرداری ہی کوشاں رہے ہیں جن کا یہ  دعویٰ بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بلاول  کو   ملک کا  وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔

تاہم مسائل سے گھرے کسی ملک میں اس قسم کی خواہش  کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بلکہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو اپنے منشور، قائدانہ صلاحیت اور عوام کے ساتھ مواصلت کی بنیاد پر  اقتدار حاصل کرنے کا منصوبہ تشکیل دینا ہوتا  ہے۔  پیپلز پارٹی  کے  چئیرمین اور معاون چئیرمین کے درمیان  سیاسی لائحہ عمل اور شخصی   تضاد  کے باوجود  ، ساتھ چلنے کی مجبوری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آصف زرداری شاید آئیندہ انتخابات میں تو بلاول کو وزیر اعظم نہ بنوا سکیں۔

پیپلز پارٹی نے اسی پس منظر میں  انتخابات کے انعقاد کے علاوہ ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کے حوالے سے مہم جوئی میں خاص طور سے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو نشانہ بنایا تھا۔  آصف زرداری کا قیاس تھا کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے تعاون سے پنجاب کے قابل ذکر سیاسی گروہوں کے ساتھ انتخابی اشتراک کرکے بلاول  بھٹو زرداری کی وزارت عظمی کے لیے راہ ہموار  کرسکیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اسٹبلشمنٹ   نواز شریف سے نالاں رہی ہے اور اب عمران خان سے بھی مایوس ہوچکی ہے۔ اس لیے پیپلز  پارٹی اس خلا کو پر کرسکتی ہے۔  پیپلز پارٹی نے اسمبلیوں کی گزشتہ مدت میں  اسٹبلشمنٹ کے متعدد سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے   مسلم لیگ (ن) کے  خلاف سیاسی گٹھ جوڑ بھی  کیا تھا، جس میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)  کی حکومت کے خاتمہ کے علاوہ  چئیر مین سینیٹ کے انتخاب کے دوران میں  دوہری حکمت عملی کا طریقہ شامل ہے۔  اس کے باوجود  پنجاب میں پیپلز پارٹی کی قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے آصف زرداری  اپنے سیاسی عزائم کے لیے مناسب پزیرائی حاصل نہیں کرسکے۔ مسلم لیگ (ن) کے خلاف حالیہ  بیان بازی اسی مایوسی کا شاخسانہ تھا۔ اس دوران میں  تحریک انصاف کے ساتھ  سلسلہ جنبانی   کی کوششیں بھی کارگر نہیں ہوئیں۔ کیوں کہ تحریک انصاف سخت گیر ریاستی ہتھکنڈوں اور عمران خان کی مسلسل حراست کی وجہ سے مستقبل کا کوئی واضح سیاسی لائحہ عمل تیار نہیں کرپائی۔

ان حالات میں آصف زرداری اور نواز شریف کا رابطہ ہؤا ہے اور ملاقات  کی  نوید بھی دی گئی ہے۔ یہ اس حوالے سے ایک خوش آئیند خبر ہے کہ دونوں پارٹیاں  ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتی ہیں اور  حال ہی میں  سبکدوش ہونے والی مخلوط حکومت میں شراکت دار بھی رہی ہیں۔  حالات کا فطری تقاضہ تو یہی ہونا چاہئے کہ دونوں پارٹیاں یا تو کوئی سیاسی اتحاد قائم کرکے انتخابات میں حصہ لیں یا کسی حد تک باہمی تعاون   کے لئے  اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ پیپلز پارٹی نے شہباز حکومت کے دور میں اختیار کی گئی مالی  پالیسیوں اور ان کی ناکامی کا سیاسی بوجھ پوری طرح مسلم لیگ (ن) کی طرف منتقل کرکے  پنجاب میں سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن بظاہر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اب مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مواصلت کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے عمران  خان کی حکومت گرانے اور اتحادی مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے  گزشتہ سال کے شروع میں تعاون کیا تھا۔   پوچھا جاسکتا ہے کہ  ایک منتخب حکومت گرانے اور مخلوط حکومت میں ساتھ نبھانے کے بعد محض اقتدار  کے لیے ایک دوسرے سے ضد و مخاصمت کا تعلق استوار کرنے سے  ملک و قوم کو کیا فائدہ ہوگا۔

نواز شریف اور آصف زرداری کو  جلد ملاقات کرکے سیاسی ماحول میں پائی  جانے والی کشیدگی کم کرنی چاہئے۔ اگر دونوں لیڈر بعض بنیادی اصولوں پر متفق ہوجاتے ہیں تو  انہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ انتخابات میں حصہ لینا چاہئے اور کامیابی کی صورت میں مل کر مخلوط حکومت بنانے کا اعلان کرنا چاہئے۔ اس وقت ملکی معاشی و سماجی حالات کا تقاضہ ہے کہ وسیع تر سیاسی ہم آہنگی کے لیے کام کیا جائے۔ پاکستان کو لاحق  معاشی مسائل  کو بعض لگے بندھے طریقوں سے ہی حل کیاجاسکتا ہے۔ جو بھی پارٹی اقتدار میں آئی ، اسے انہی طریقوں پر عمل کرنا پڑے گا۔ سیاسی لیڈر اگر  انتخابات سے پہلے ہی اس کا ادراک کرکے کوئی باوقار طریقہ اختیار کرلیں، تو اس سے ملک کے علاوہ ان سیاسی پارٹیوں کی عوامی قبولیت میں بھی اضافہ ہوگا۔