مدمقابل کے بغیر سیاسی میدان مارنے کی خواہش
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 07 / نومبر / 2023
قومی مفاد کے نام پر آج مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی محاذ پاکستان نے انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ایم کیو ایم کے لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ یہ اس حد تک انتخابی اتحاد ہے کہ ایک دوسرے کے امید واروں کی حمایت کی جائے گی البتہ مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا پروگرام نہیں ہے۔ لاہور میں دونوں پارٹیوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو جامع منشور تیار کرے گی اور دوسری ہم خیال جماعتوں سے بھی اشتراک کی کوشش ہوگی۔
سندھ کے شہری علاقوں کی نمائیندگی کا دعویٰ کرنے والی یم کیو ایم کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی اتحاد کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہؤا تھا اور یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ دونوں لیڈر جلد ہی ملاقات کریں گے۔ تاہم ایم کیو ایم کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی اتحاد کے اعلان کے بعد شاید نواز اور زرداری کی ملاقات کھٹائی میں پڑ جائے۔ ایم کیو ایم روائیتی طور سے پیپلز پارٹی کی حریف رہی ہے۔ یہ سندھ کے شہری علاقوں میں ووٹروں کو اپیل کرتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی دیہی سندھ کی نمائیندگی کرتی ہے۔ وہی اس کی سیاسی طاقت کا مرکز بھی ہے۔ البتہ سندھ کے بڑے شہروں کراچی اور حیدر آباد میں آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے اب شہری علاقوں سے نشستیں جیتنے والی پارٹیاں بھی سندھ کے اقتدار میں حصہ داری کا مطالبہ کرنے لگی ہیں۔
گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف نے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کے ووٹر کو توڑا تھا اور کراچی میں انتخابی کامیابی حاصل کی تھی۔ سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف کمزور ہوئی ہے اور اب پیپلز پارٹی کراچی اور حیدر آباد کی شہری نشستوں پر کامیابی کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی سے اس کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی ہے۔ ایسے میں فطری طور سے اس کا مقابلہ ایم کیو ایم سے ہوگا۔ اب اس مقابلے میں برتری حاصل کرنے کے لیے ایم کیو ایم مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کافی حد تک پنجاب کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ قومی پارٹی کا تشخص حاصل کرنے کے لیے اسے دیگر صوبوں میں سیاسی نمائیندگی کی ضرورت ہے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی اتحاد کے نتیجے میں نواز لیگ کراچی سے کچھ نشستیں حاصل کرنے کی امید کرے گی۔ لیگی حلقوں نے پیپلز پارٹی کے مد مقابل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ بھی ایم کیو ایم کی طرح انتخابی اتحاد کا اشارہ دیا ہے۔ اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) اندرون سندھ کے حلقوں میں پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد بنانے اور کامیابی حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے درمیان انتخابی اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کوئی ایک پارٹی تن تنہا ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے وسیع تر قومی مفاد کے لیے مل کر کام کرنا بےحد اہم ہے۔ مسلم لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد کے ذریعے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ قومی مسائل حل کرنے کے لیے قومی رویہ اختیار کرنے کا نعرہ تو سہانا ہے لیکن ملک میں پائے جانے والے عمومی ماحول میں سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں اس نعرے کی نفی کرتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اگر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے لیے کام کرنے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی رابطہ کرکے کسی افہام و تفہیم پر پہنچنے کی ضرورت تھی لیکن اس کی بجائے اس کی مدمقابل ایک چھوٹی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کرکے درحقیقت مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو اس کے ہوم گراؤنڈ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور پیپلز پارٹی اس کے جواب میں کیا اقدام کرتی ہے۔
اگست میں شہباز شریف کی قیادت میں متعدد پارٹیوں کی مخلوط حکومت ختم ہونے کے بعد سے اس اتحاد میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آتے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو اندیشہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ملک کا اقتدار ہتھیانا چاہتی ہے اور اسے اندیشہ ہے کہ 2024 کے انتخابات بھی شفاف نہیں ہوں گے بلکہ ان میں دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو جتوانے کی کوشش کی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے لیڈر موجودہ نگران حکومت کو بھی مسلم لیگ (ن) کا حامی سمجھتے ہیں، جس کے باعث کسی مداخلت کے بغیر انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی بھی تحریک انصاف کی طرح لیول پلیئنگ فیلڈ کی بات کرتی ہے ۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) نے نہ تو 90 دن کے اندر انتخابات کروانے پر زور دیا تھا اور نہ ہی الیکشن کمیشن پر انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ نواز شریف نے 21 اکتوبر کو لندن سے واپسی پر مینار پاکستان پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کا استحقاق ہے۔ وہ مناسب وقت پر انتخابات کا اعلان کردے گا۔
البتہ گزشتہ ہفتہ کے دوران میں سپریم کورٹ میں اس حوالے سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت عظمی کے ججوں نے واضح کیا تھا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے 90 کے اندر انتخابات کا اعلان کرنے کے حوالے سے صدر عارف علوی اور الیکشن کمیشن دونوں سے کوتاہی ہوئی۔ صدر نے انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار استعمال نہیں کیا جبکہ الیکشن کمیشن صدر سے مشاورت میں ناکام رہا۔ البتہ سپریم کورٹ کی مداخلت پر صدر اور الیکشن کمیشن 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پر متفق ہوگئے ۔ اس اعلان کو تمام سیاسی پارٹیوں نے تسلیم کرلیا ہے۔ تاہم انتخابات 90 دن کے اندر کروانے کے حوالے سے شروع ہونے والے مباحث نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کو نمایاں کیا۔ دونوں طرف کے لیڈروں نے ایک دوسرے کے بارے میں سخت بیانات بھی دیے ۔ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے درمیان انتخابی اتحاد کی خبر سے اس دوری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے لیڈر اس دوران میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کامقابلہ کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف سے روابط کرنے اور مل کر کوئی انتخابی حکمت عملی بنانے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔ البتہ انتخابات کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے باوجود کوئی عملی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تحریک انصاف کا بحران اور اس کی سیاسی حکمت عملی میں موجود بے یقینی کی کیفیت ہے۔ تحریک انصاف کو اگر انتخابات میں حصہ لینے اور کسی حد تک منصفانہ انتخابات کی امید دلوائی گئی تو وہ شاید کسی بھی سیاسی پارٹی سے اتحاد نہیں کرے گی۔ خاص طور سے عمران خان پیپلز پارٹی کو بھی مسلم لیگ (ن) ہی کی طرح پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ البتہ تحریک انصاف کی اصل طاقت کا مرکز چونکہ پنجاب ہے ، اور یہاں اسے پیپلز پارٹی کی بجائے مسلم لیگ (ن) سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ ایسے میں تحریک انصاف نے اگر سیاسی زیرکی کا مظاہرہ کیا تو وہ پیپلز پارٹی کی حمایت سے نواز شریف کی سیاسی چالوں کا زیادہ مؤثر جواب دے سکتی ہے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ پیپلز پارٹی ایسے کسی ممکنہ سیاسی تعاون کی کیا قیمت وصول کرنا چاہے گی؟
پیپلز پارٹی کی خواہش ہوگی کہ اسے تحریک انصاف یا کسی بھی دوسرے سیاسی اتحاد سے پنجاب میں قومی اسمبلی کی پچیس تیس نشستیں حاصل ہوجائیں۔ اس طرح پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو وزارت عظمی کے عہدے کے لیے کسی بھی دوسری پارٹی کے امید وار کے مقابلے میں اتار سکتی ہے۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ کیا تحریک انصاف کے لیے ایسا کوئی سیاسی اتحاد قابل قبول ہوگا جس میں اس کا امید وار ملک کا وزیر اعظم یا پنجاب کا وزیر اعلیٰ نہ بن سکے۔ اس حوالے سے آئیندہ چند ہفتے دلچسپ ہوں گے جن کے دوران میں نئے سیاسی اتحاد بننے اور ایک دوسرے پر اصولوں سے انحراف کے دلچسپ لیکن جانے پہچانے الزامات کا اندیشہ موجود ہے۔ الزامات کی سیاست البتہ موجودہ سیاسی ماحول میں مزید افتراق پیدا کرے گی۔ کسی سیاسی منشور کے لیے سیاسی پارٹیوں کا اتحاد تو خوش آئیند طریقہ ہے لیکن اگر اس کی بنیاد محض اقتدار کا حصول اور مخالف سیاسی گروہ کو نیچا دکھانا ہو، تو ایسے اتحاد کوئی بڑا قومی مقصد حاصل کرنے کا سبب نہیں بن سکتے۔
سب لیڈر ملک کے بحران اور سنگین صورت حال کا حوالہ دیتے ہیں اور معاشی بحالی کے لیے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے لیکن جیسا کہ آج سامنے آنے والے پی ایم ایل ان اور ایم کیو ایم اتحاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعاون سیاسی گٹھ جوڑ اور ایک خاص پارٹی کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وسیع تر قومی مفاد کا دعویٰ درحقیقت اس عمل میں ایک ہتھکنڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو بدستور چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کا اعلان کیا جارہا ہے حالانکہ ابھی تک نہ تو انہیں عدالتوں نے متعدد مقدمات میں بری کیا ہے اور نہ ہی ان کے پاس تاحیات نااہلی سے نجات پانے کا کوئی راستہ موجود ہے۔ پارٹی کی کامیابی کے باوجود نواز شریف کا چوتھی بار وزیر اعظم بننا بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری طرف نواز شریف بدستور اپنی سابقہ حکومت کی نام نہاد کامیابیوں کا حوالہ دے کر ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے 21 اکتوبر کو مینار پاکستان کے جلسے سے خطاب میں جوباتیں کی تھیں، آج ایم کیو ایم کے وفد کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی انہیں دہرایا۔ یعنی ان کی حکومت نے ڈالر کو 104 روپے پر منجمد کردیا تھا ، روٹی 4 روپے کی تھی، ان کی حکومت نے شاہراہوں کا جال بچھایا یا شہباز شریف نے اس وقت ملک کی قیادت کی جب پاکستان دیوالیہ ہونے والا تھا۔ البتہ وہ یہ یاد رکھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ شہباز حکومت کے فیصلوں ہی کی وجہ سے اس وقت ملکی عوام شدید مالی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ یا ڈالر کو ذبردستی ایک خاص شرح مبادلہ پر منجمد کرنے کے ملکی معیشت پر کیسے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔
نواز شریف ضرور سیاسی اتحاد قائم کریں لیکن ان کی سیاسی حکمت عملی اور انتخابی بیانیے میں فی الوقت ایسی کوئی قوت موجود نہیں ہے کہ ووٹر ان کی طرف رجوع کریں۔ اس دوران میں اگر وہ تحریک انصاف کو انتخابات میں مساوی بنیادوں پر مقابلہ کرنے کا موقع دینے کا دوٹوک سیاسی مؤقف اختیار نہیں کرتے تو عام لوگ یہی سمجھیں گے کہ مسلم لیگ (ن) حقیقی مدمقابل کے بغیر میدان مارنا چاہتی ہے۔ ایسی کامیابی سے قائم ہونے والی حکومت مشکوک اور کمزور ہوگی۔