طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دہشت گردی میں ساٹھ فیصد اضافہ ہؤا: نگران وزیراعظم

  • بدھ 08 / نومبر / 2023

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آنے کے بعد سے پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں 60 فیصد جبکہ خودکش حملوں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں مقیم غیرقانونی شہریوں کی اپنے اپنے ملک واپسی کے معاملے پر بدھ کی دوپہر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسند ملوث ہیں جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عبوری حکومت آنے کے بعد پاکستان کو قوی امید تھی کہ وہاں دیرپا امن قائم ہو گا اور پاکستان مخالف گروہوں خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انہیں افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انوارالحق کاکڑ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برسوں میں 2 ہزار سے زیادہ پاکستانی شدت پسندی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان دو برسوں کے دوران پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں 15 افغان شہری بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ 64 افغان شہری انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

یہ تمام حقائق افغان حکام کے علم میں لائے گئے ہیں اور پاکستان کی جانب سے تواتر کے ساتھ ہر 15 دن بعد احتجاجی مراسلوں کی صورت میں افغانستان سے منسلک دہشت گردوں کے حملوں سے متعلق تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں بھی افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے مراکز اور اس کے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں اضافے کا واضح ذکر کیا گیا ہے۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ ان تمام حقائق کے باوجود پاکستان نے دنیا بھر میں افغانستان اور افغان عوام کی بھرپور حمایت اور وکالت جاری رکھی۔ افغانستان کو تجارت اور درآمدات کے لیے غیر معمولی مراعات دیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی فراخدلی کی قدر نہیں کی گئی۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنے داخلی معاملات کو اپنی مدد آپ کے تحت درست کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں بڑا کردار غیر قانونی تارکین وطن کا ہے اور اس لیے ریاست نے ان غیر قانونی شہریوں کو یکم نومبر سے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کو ہمارے حوالے کرے۔ پاکستان ایسے تمام لوگوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔