آئی ایم ایف کا پاکستان میں زرعی ٹیکس لگانے کا مطالبہ

  • جمعرات 09 / نومبر / 2023

پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے آج 2 دور ہوں گے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی پلان آئی ایم ایف سے شیئرکیا ہے۔

پلان کا جائزہ لینے کے بعد آئی ایم ایف مزید اقدامات تجویز کرے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ریٹیلرز، زرعی انکم ٹیکس اور رئیل اسٹیٹ سے ٹیکس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور ٹیکس وصولی میں شارٹ فال کی صورت میں فوری طور پر نئے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہےکہ ریٹیلرزپر فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیرغور ہے تاہم آئی ایم ایف اس پر رضا مند نہیں ہے اور آئی ایم ایف نے زرعی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے صوبوں سے ٹائم لائن طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف مشن کو ٹیکس پالیسی اور ٹیکس کلیکشن علیحدہ کرنے کے پلان پر بریفنگ دی گئی ہے جس میں آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف ہر صورت حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کا بتانا ہےکہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہےکہ جن شعبوں سے ٹیکس وصولی کم ہے وہاں سے پورا ٹیکس لیا جائے۔

ایک ہفتے سے جاری ان جائزہ مذاکرات کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ماضی کے برعکس آئندہ قسط جلد ملنے کی امید ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے آئی ایم ایف پروگرام کے زیادہ تر اہداف کو مکمل کر رکھا ہے اور جائزہ مذاکرات بہتر انداز میں چل رہے ہیں۔

پاکستان میں اگست میں قائم ہونے والی نگراں حکومت سے قبل اتحادی حکومت کے دوران پاکستان کو آئی ایم ایف سے جاری پرانے قرض پروگرام کی آخری دو اقساط کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا تھا۔