نگران وزیر اعظم نے آئی ایس آئی کے سربراہ کو توسیع دے دی
پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی مدت ملازمت میں توسیع کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ توسیع پالیسی میں ’تسلسل‘ کے لیے کی گئی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہونے والے تھے لیکن اب وہ مزید کم از کم ایک سال اس عہدے پر رہیں گے۔ سعودی میڈیا عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پالیسی کے تسلسل کے نکتے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کوئی بھی نظام تسلسل کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔‘
نگران وزیر اعظم نے کہا کہ ’آپ اس عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور آپ کے لیے اس عمل کا تسلسل اہم ہے تاکہ آئیڈیا یا عمل یا برانڈ اپنی جڑیں مضبوط کر سکیں۔‘
پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی نومبر 2021 میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ وہ اس عہدے پر تعیناتی سے قبل کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے، جو تقریبا ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔ پاکستان فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان چھ اکتوبر کو سامنے آیا تھا تاہم وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے اس تقرری کا نوٹیفیکشن تین ہفتے بعد جاری ہؤا۔
28 پنجاب رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ جنرل ندیم انجم فوج میں ایک سخت گیر اور خاموش طبع افسر کے طور پر مشہور ہیں۔ ان کا تعلق 77ویں لانگ کورس سے ہے۔ انہوں نے بطور بریگیڈیئر فوجی آپریشنز کے دوران قبائلی علاقوں میں بریگیڈ کمانڈ کی جبکہ وہ کراچی کور میں چیف آف سٹاف بھی تعینات رہ چکے ہیں۔