اسرائیل بچوں اور خواتین کا قتل بند کرے: فرانسیسی صدر

  • ہفتہ 11 / نومبر / 2023

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں بچوں اور خواتین کو قتل کرنا بند کریں۔ بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن بمباری کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور جنگ بندی کا فائدہ اسرائیل کو ہو گا۔

صدر میکرون  نے زور دے کر کہا کہ فرانس حماس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی واضح طور پر مذمت کرتا ہے۔ جب فرانسیسی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی جنگ بندی کی اپیل کریں تو انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ یہ اپیل کریں گے۔

غزہ کی جنگ کے بارے میں پیرس میں انسانی امداد کی کانفرنس کے اگلے دن خطاب کرتے ہوئے، فرانسیسی صدر نے کہا کہ اس سربراہی اجلاس میں موجود تمام حکومتوں اور ایجنسیوں کا واضح موقف  تھا کہ سب سے پہلے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے، جنگ بندی (ہمیں) تمام شہریوں کی حفاظت کرنے کی اجازت دے گی جن کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر کے بیان پر کہا ہے کہ عالمی رہنماؤں کو اسرائیل کے بجائے حماس پر تنقید کرنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی فوج عام شہریوں کو جنگ سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حماس انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔

اس جنگ کو 35 دن گزر چکے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 11 ہزار 78 افراد ہلاک اور 27 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ 240 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

جمعہ کو اسرائیل نے ہلاکتوں کی تعداد 1400 سے کم کر کے 1200 کر دی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان لیور حیات نے کہا کہ حملے کے فوری بعد بہت سے لوگوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اب ہم محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دنوں میں ایک لاکھ افراد جنوبی غزہ کی طرف جا چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری کا کہنا تھا کہ لوگوں کے لیے تنازع سے بچنے کے لیے محفوظ راستے کھول دیے گئے ہیں۔

دوسری طرف  اسرائیلی ٹینک غزہ شہر کی الشفا ہسپتال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔  یہ ٹینک شمال اور جنوب کی طرف سے اس ہسپتال کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس علاقے میں اسرائیلی افواج نے فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں۔ ہسپتال میں ہزاروں زخمی لوگ داخل ہیں۔ ان میں سے بہت سارے ابھی بھی شدید زخمی ہیں۔ اب یہ لوگ اپنے زخموں کی وجہ سے ہسپتال چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں۔

غزہ شہر کی الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملے سے البراق سکول میں 50 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ محمد ابو سلامیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے میزائل حملے کے بعد النصر کے قریب واقع تباہ شدہ سکول کے اندر سے 50 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔