عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں اسرائیل سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ

  • ہفتہ 11 / نومبر / 2023

سعودی عرب میں جاری غزہ سمٹ کے دوران تقریر کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اور اسے ’فلسطینی عوام کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔ سعودی عرب کے شہر ریاض میں جاری اسلامی عرب سربراہی اجلاس میں 57 اسلامی ممالک کے رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے اور 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسرائیل نے جو کیا ہے اسے یہ بھگتنا ہوگا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے بھی محمد بن سلمان سے اتفاق کیا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک بگڑا ہوا بچہ قرار دیا۔ انہوں نے ناانصافی کے سامنے خاموش نہ رہنے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ اور دنیا اسے اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرائے۔

اردن کے بادشاہ عبداللہ نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یہ ایک خونریز جنگ ہے، جسے فوری طور پر روکنا ہو گا ورنہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری ہے۔ انہوں نے فلسطین کے لیے عالمی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کے صدر ابراہیم ریئسی نے سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے کے موقعے پر کہا کہ اسرائیلی فوج کو دہشتگرد گروہ قرار دیا جائے۔ انہوں نے اس جنگ کو پھیلانے کے لیے امریکہ پر ذمہ داری عائد کی ہے۔

الجیریا نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کچھ ممالک اتنا آگے جانے سے گریزاں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانفرنس کے حتمی اعلامیے میں کم سے کم اہداف پر ہی توجہ مرکوز رکھی جائے گی، جس پر سب کا اتفاق ہو۔ ان مطالبات میں جنگ بندی، اسرائیل کی مذمت اور فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ شامل ہیں۔

قطر کے امیر تمیم بن الثانی نے مستقل جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے اسرائیلی اور دیگر ممالک کے شہریوں کی رہائی کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔ خیال رہے کہ ان یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات اور رہائی سے متعلق دوحا کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

قطر کے امیر نے اسرائیل کی عام شہریوں کو نشانہ بنانےکی بھی مذمت کی اور ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا کہ حماس نے ہسپتالوں کے نیچے سرنگیں بنا رکھی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس عام شہریوں کو ڈھال بنا رہا ہے اور ہسپتالوں اور صحت مراکز کے نیچے اور قریب سرنگیں بنائے ہوئے ہے۔

قطر کے امیر نے کہا کہ عرب اور مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف مذمتی قرارداد جاری کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اسرائیل کو غزہ میں مزید کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔