شمالی غزہ میں اسپتال غیر فعال، گراؤنڈ آپریشن میں اسرائیل کے 44 فوجی ہلاک

  • سوموار 13 / نومبر / 2023

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں کوئی بھی اسپتال مریضوں یا زخمیوں کو خدمات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔

حماس کے مقرر کردہ نائب وزیرِ صحت یوسف ابو ریش نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ شمالی پٹی میں کوئی بھی اسپتال اس قابل نہیں رہا کہ وہ مریضوں کو خدمات فراہم کر سکے۔ الشفا اسپتال میں قبل از وقت پیدا ہونے والے دو بچے اور دو دیگر مریضوں کی اموات بھی ہوئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسپتال کو ایندھن کی کمی کا سامنا ہے جب کہ اس کے اطراف میں شدید لڑائی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ یوسف ابو ریش کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کے سبب اب تک چھ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ جب کہ نو دیگر مریض بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لگ بھگ 300 لیٹر ایندھن الشفا اسپتال کے باہر پہنچا دیا تھا۔ لیکن حماس نے یہ ایندھن استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال میں جنریٹر چلانے کے لیے یومیہ 10 ہزار لیٹر ایندھن درکار ہوتا ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق غزہ میں اسپتالوں کے ڈائریکٹر محمد زکوة کا کہنا تھا کہ الشفا اسپتال کے کمپاؤنڈ میں اب بھی 650 مریض اور طبی عملے کے 500 افراد موجود ہیں جب کہ لگ بھگ ڈھائی ہزار بے گھر افراد بھی اسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین کے امدادی ادارے نے پیر کو مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ میں بامعنی وقفے کیے جائیں جس کے دوران اسپتالوں میں ایندھن کی فوری فراہمی ممکن ہو سکے جن سے اسپتالوں کے جنریٹر چلائے جا سکیں اور مریضوں کا علاج ممکن ہو۔ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب میں یورپین کمشنر فار کرائسز مینجمنٹ جینز لینارجچ کا کہنا تھا کہ یہ فوری طور پر طے کرنے کی ضرورت ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ دیا جائے۔

یہ اپیل ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب غزہ کے سب سے بڑے اسپتال کے اطراف اسرائیلی فورسز اور عسکری گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے پیر کو بتایا ہے کہ غزہ میں اس کے مزید دو فوجیوں کی اموات ہوئی ہیں۔ سات اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد اسرائیلی فوج کے 44 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ان 44 فوجیوں کی اموات غزہ میں جاری آپریشن کے دوران ہوئی ہیں۔

دوسری جانب غزہ سے مصر کے راستے غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔ رومانیہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے 86 شہریوں کا غزہ سے انخلا مکمل ہو گیا ہے۔ ان شہریوں کو اتوار کو مصر منتقل کیا گیا ہے۔ البانیہ کی وزارتِ خارجہ نے بھی بتایا ہے کہ غزہ سے اس کے پہلے شہریوں کا انخلا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ برازیلی شہریوں کا قافلہ بھی غزہ سے رفح کراسنگ کے راستے مصر منتقل ہوا ہے۔ اس قافلے میں 32 افراد ہیں جو قاہرہ جا رہے ہیں جہاں سے وہ برازیل جائیں گے۔

اس دوران میں غزہ مین پھنسے ہوئے اڑھائی سو کے لگ بھگ نارویجئن شہریوں کے بارے میں بدستور بے یقینی کی کیفیت ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک یہ اطلاع نہیں ملی کہ یہ لوگ کب رفح سے مصر منتقل ہوسکیں گے۔ البتہ آج غزہ میں ایک نارویجئن خاتوں اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہوگئی۔