سچا کون؟ نونی یا انصافی

انصافی: حد ہوگئی ہے، تاریخ میں اس قدر زیادتیاں کبھی ہوئی نہیں ہیں جتنی تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ عورتیں، ہمارے لیڈر اور ورکرز جیلوں میں بند ہیں اور ہمیں کارنر میٹنگ تک کرنے کی اجازت نہیں۔ آپ لوگوں کو شرم نہیں آ رہی، اپنی مخالف ٹیم کے ہاتھ پاؤں باندھ کر آپ جیت کا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں۔

نونی: حوصلہ کرو، آپ کا تاریخ کا علم 2018 سے شروع ہوتا ہے، ہم تو جنرل مشرف کے مارشل لا سے لے کر اب تک کئی مشکل دور دیکھ چکے ہیں۔ 2002 کا الیکشن ہو یا 2018 کا الیکشن دونوں میں ہمارے ہاتھ پائوں باندھے گئے، ہمارے لیڈروں نے بھی جیلیں کاٹیں، ورکرز نے قربانیاں دیں۔ ہماری باری آئی ہے تو آپ روتے کیوں ہیں؟ آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ جوظلم کئے ہیں کیا وہ یاد نہیں رہے؟

انصافی: ہمارے دور میں تو نواز شریف پر ایک بھی نیا مقدمہ نہیں بنایا گیا وہ اگر جیل میں رہے تو مقدمات پہلے سے بنے ہوئے تھے۔ دوسرا ہم تو اقتدار میں آئے ہی کرپشن کے خلاف ایجنڈا لے کر تھے، اس لئے ہم مجبور تھے۔ ہم نے نہ نیب پر دباؤ ڈالا نہ ایجنسیوں پر۔ بس ہم نے آپ کو این آر او نہیں دیا، یہ تو کوئی غلط بات نہیں تھی۔

نونی: اور وہ جو خان امریکہ میں تقریرکرکے کہتے تھے کہ میں جیل سے پنکھے بھی اتروا دوں گا، یہ انتقام نہیں تو اور کیا تھا؟ وہ جو ہر وقت نفرت سے بھری گالیاں دیتے تھے کیا یہ ظلم اور زیادتی نہیں تھی۔ نون کے ہر لیڈر کو جیل میں ڈالا گیا اور ہر گرفتاری پر پی ٹی آئی نے خوشیاں منائیں۔ رانا ثنا اللہ کو منشیات کے جھوٹے مقدمے میں آپ ہی کے دور میں گرفتار کیا گیا، آپ کی یادداشت کمزور کیوں ہے؟

انصافی: نواز شریف ہمارے ہی دور میں جیل سے نکال کر باہر بھیجے گئے تھے، ہم نے ہی یہ اجازت باقاعدہ کابینہ کے اجلاس میں دی تھی۔ ہمارے دور میں نونی گرفتار تو ہوئے لیکن جب عدالت انہیں رہا کرتی تھی تو ہم آج کی طرح انہیں نئے مقدمات میں گرفتار نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں رہا ہونے دیتے تھے۔ سعد رفیق اور خواجہ آصف کو عدالتوں نے ضمانتیں دیں ہم نے انہیں رہا کر دیا، نئے مقدمات میں گرفتار نہیں کیا۔

نونی: نواز شریف کو آپ نے اس خوف سے جیل سے نکالا تھا کہ اگر اسے جیل میں کچھ ہو جاتا تو آپ ردعمل کو سنبھال نہیں سکتے تھے۔ اس وقت نواز شریف بہت پاپولر تھے اور دوسری بات یہ کہ نواز شریف کے باہر نکالنے میں اداروں کا اصل ہاتھ تھا۔ آپ تو اداروں اور ایجنسیوں کے ہاتھوں میں مہرہ تھے آپ تو خود کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے تھے۔

انصافی: آج کل تو آپ مہرہ بنے ہوئے ہیں، ہمیں لاڈلا ہونے کےطعنے دیتے تھے آج کل آپ خود لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔ آپ پاپولر تو ہیں نہیں الیکشن تو جیسے تیسے کرکے کروالیں گے حکومت کیسے چلائیں گے۔ عوام خان کے ساتھ ہے ہم آپ کو چلنے نہیں دیں گے۔

نونی: آپ نے پہلے بھی پاشوں اور ظہیر الاسلاموں کے ساتھ مل کر ہماری حکومت کے خلاف دھرنے دیے تھے، سازشیں کی تھیں پھر آپ کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا لیکن آپ اب بھی سمجھنے کو تیار نہیں۔ پھر دھرنوں اور حکومت نہ چلنےدینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، آپ مکافات عمل کا شکار ہیں، آپ نے ماضی میں جو کیا تھا سو آج وہی بھر رہے ہیں۔

انصافی: آج آپ جو کر رہے ہیں کل آپ کو بھی بھرنا پڑے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ نہ آپ سے حکومت سنبھلنی ہے اور نہ معیشت۔ آپ کی حکومت سال دو سال چلے گی پھر ہماری ہی باری آئے گی، لوگوں کی اکثریت خان کے ساتھ ہے آپ کے ساتھ نہیں؟

نونی: ہم ہمیشہ کارکردگی دکھاتے ہیں ، ہم نے اکانومی لبرلائنر کی، موٹر ویز بنائیں، بجلی کے کارخانے لگائے، لوڈشیڈنگ ختم کی، ڈالر کو 100 روپے پر باندھ کر رکھا۔ اگر ملک کو چلانا ہے تو ہماری حکومت قائم رکھنا ہوگی۔ ہمیں جتنا بھی وقت ملا ہم کام کرکے دکھائیں گے، آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کیا کارکردگی دکھائی؟

انصافی: ہم نے غریبوں کیلئے صحت کارڈ کا انقلابی قدم اٹھایا، لنگر خانے کھولے اور بہترین گورننس دی۔ عمران خان کا کوئی ایک بھی مالی اسکینڈل نہیں بنا، اس نے ہمیشہ کرپشن کے خلاف اسٹینڈ لیا۔

نونی: ملک بھر کو بزدار اور محمود خان کی گورننس کا پتہ ہے، ملک کے سب سے بڑے صوبے کو جس طرح فرح گوگی کے ذریعے چلایا جاتا تھا وہ بھی اب سب کے علم میں آ چکا ہے۔ صحت کارڈ نےپرائیویٹ ہسپتالوں کے مزے کرا دیئے اور ملکی خزانے خالی کرادیئے۔ باقی رہی عمران خان کی بات تو کیا توشہ خانہ کا معاملہ مالی اسکینڈل نہیں ہے۔

انصافی: تحریک انصاف کی حکومت نے مہنگائی کو سنبھالا ہوا تھا۔ ہم نے پٹرول سستا کردیا تھا، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا، ہمارا دور سنہری تھا۔ معیشت میں خرابی 16ماہ رہنے والی شہباز حکومت نے کی۔ ڈار صاحب نے معیشت خراب کرکے رکھ دی۔

نونی: حقائق اس کے بالکل الٹ ہیں مقتدرہ نے خان حکومت کو رخصت ہی اس لئے کیا کہ انہیں یہ سمجھ آگئی تھی کہ خان حکومت معاشی کشتی کو ڈبو دے گی۔ جنرل باجوہ تحریک عدم اعتماد کے آنے سے چھ ماہ پہلے سے یہ کہنا شروع ہوگئے تھے کہ عمران خان کو اقتدار میں لا کر ان سے غلطی ہوئی ہے اور وہ چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے اس کا مداوا کرکے جائیں۔

انصافی: گویا آپ مان رہے ہیں کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کو ہٹایا، اسی لئے تو خان صاحب اسے میر جعفر کہتے تھے۔

نونی: مگر یاد رکھو اسی جنرل باجوہ نے خان کو بچائے رکھا جس روز تک جنرل باجوہ بااختیار رہا اس وقت تک خان کا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ جنرل باجوہ اندر سے خان کوپسند کرتا تھا، وہی اسے لایا تھا مگر اس نے خراب گورننس اور خراب معیشت کی وجہ سے ان سے اپنی پسندیدگی چھوڑ دی۔ جب تک فوجی کمان تبدیل نہیں ہوئی عمران خان چڑھتا رہا، نہ اس کی گرفتاری ہوئی اور نہ اس پر کوئی قدغن لگی۔ اس بےمحابا آزادی سے اس کو ایسا لگا کہ مقتدرہ کمزور ہے اور اس کی پارٹی مضبوط۔ یہی وہ غلط تجزیہ تھا جس نے 9 مئی کا واقعہ کروایا کیونکہ ان کاخیال تھا کہ عوام کا سمندر پی ٹی آئی کے ساتھ ہے وہ اس بار مقتدرہ کی طاقت سے بھی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں اس لئے مقتدرہ بھی اس طوفان میں بہہ جائے گی۔

انصافی: عوام کا سمندر ہمارے ساتھ تھا اور اب بھی ہے۔ ہمیں موقع ملے تو ہم اب بھی جیت کر دکھائیں، ہمارے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ ہمیں 9 مئی کے واقعے کی طرف دھکیلا گیا ہے وگرنہ ہم نے تو کبھی گملا تک نہیں توڑا تھا۔ ہم سازش کا شکار ہوئے ہیں، ہم نے تو مقتدرہ سے کبھی لڑائی نہیں کی پتہ نہیں کیوں ہمیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟

نونی: آپ اتنے معصوم نہیں ہیں، آپ نے 9 مئی کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی اس پلان کا مقصد مقتدرہ کے اندر اور ملک بھر میں بغاوت تھی اس میں جج اور جرنیل سب شامل تھے۔ بغاوت ناکام ہو تو یہی حال ہوتا ہے جو آپ کا ہو رہا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??