سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں: نواز شریف کی بلوچستان میں بات چیت

  • منگل 14 / نومبر / 2023

سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور صدر شہباز شریف نے بلوچستان پہنچنے پر بلوچستان کی اہم سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اہم سیاسی شخصیات اور قائدین کے ساتھ ملاقات کے بعد ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ  بلوچستان کی ترقی ہمیں ہمیشہ سے عزیز رہی ہے۔ ن لیگ نے بلوچستان میں ہزاروں کلو میٹر سڑکوں کا جال بچھانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہوسکے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے لئے ترقی اور ڈیویلپمنٹ کا جو کام ہم نے شروع کیا تھا، ہماری حکومت کے بعد وہ سفر روک دیا گیا۔ ہم نے 1998 میں گوادر کی ترقی کا سفر شروع کیا تھا یہ آج اور کل کی بات نہیں ہے۔ دہشت گردی کو ہم نے مکمل طور پہ ختم کیا، لوڈشیڈنگ کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا، بلوچستان میں 400 سے زائد چھوٹے ڈیم کے منصوبے شروع کئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سابق قبائلی علاقوں کے پانچ ہزار سے زائد طالب علموں کو وظائف دیے، پسماندہ علاقوں کے ان ہزاروں بچوں نے وظائف پر بہترین تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ تربت، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی، پشین، گوادر، نوشکی اور وڈھ میں یونیورسٹی کیمپس کھولے جہاں ہزاروں نوجوان زیر تعلیم ہیں۔

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلے، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر ائندہ بھی چلیں گے۔ سب کے ساتھ تعاون کا رشتہ جوڑا تھا، اس رشتے کو مزید مظبوط بنائیں گے۔

دوسری جانب سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے وفد نے کوئٹہ میں ملاقات کی۔ جن جماعتوں کے رہنماؤں کی میاں نواز شریف سے ملاقات ہوئی ان میں نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جمیعت العلمائے اسلام ف اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما شامل تھے۔

ملاقات کرنے والے ان جماعتوں کے رہنمائوں میں ڈاکٹر مالک بلوچ، ڈاکٹر حامد اچکزئی، نوابزدہ خالد خالد مگسی اور مولانا سرور موسیٰ خیل شامل تھے۔ ملاقات کے بعد جے یوآئی کے رہنما مولانا سرور موسیٰ خیل نے میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف نے یہ بتایا کہ وہ پہلے کی طرح اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

ملاقات کے بعد ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ ہم نے اپنے تحفظات سے میاں نواز شریف کو آگاہ کیا اور ان کو بتایا عوام ووٹ کسی اور کو ڈالتے ہیں لیکن ووٹ نکلتا کسی اور کے نام پر ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر نوابزادہ خالد مگسی نے کہا کہ ان کی میاں نواز شریف سے غیر رسمی بات ہوئی اور ہم نے کوئٹہ آنے پر انہیں خوش آمدید کہا۔ نوازشریف سے مزید ملاقاتیں ہوں گی تو کسی سیاسی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بات ہوگی۔

 خبروں کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل)، نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے نواز شریف سے ملاقات کے بعد اُن کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اُن سے سابق وزیراعلیٰ سمیت، وزرا، سابق اراکین اسمبلی سمیت درجنوں اہم سیاسی شخصیات نے ملاقاتیں کیں۔

بعد ازاں سابق وزیر اعلی جام کمال، سابق وفاقی وزرا سردار فتح محمد حسنی، مجیب الرحمن محمد حسنی، میر عاصم کرد، میر دوستین ڈومکی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ سابق وزیر خان محمد جمالی، فائق جمالی، غفور لہڑی، محمد خان لہڑی، سلیم کھوسہ، شعیب نوشیروانی، ذین مگسی، سردار عبدالرحمن کیھتران، سردار مسعود لونی، محمد خان طور عثمان خیل مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے۔

اعلامیے کے مطابق نور محمد دمڑ، شیر گل خلجی، حاجی برکت رند، شوکت بنگلزئی، عطااللہ، ربابہ بلیدی، میر انور شاہوانی، سردار علی حیدر ایم حسنی، جعفر کریم بنگار، سردار زادہ ادریس تاج، آغا فیصل احمد زئی، ملک شہریار، رامین ایم حسنی اور حاجی نور اللہ لہڑی، سعید الحسن عاطف سنجرانی ڈاکٹر اشوک کمار ڈاکٹر محمد ایوب بلوچ میر اسماعیل بلوچ میر طارق بگٹی بسنت لال گلشن، محمد کاشف، مصلح الدین مینگل، داؤد شاہوانی، سردار نعمت اللہ تمرانی بزنجو، سردار زادہ میر اخلاق کدرانی، سردار زادہ عالم خان تمرانی بزنجو بھی مسلم لیگ(ن) کا حصہ بن گئے۔

قبل ازیں نوازشریف کی کوئٹہ میں باپ، نیشنل پارٹی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائدین سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جس میں شہباز شریف، مریم نواز، پرویز رشید اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں۔ سیاسی قائدین نے بلوچستان آمد اور ملاقات کرنے پر نوازشریف کا شکریہ بھی ادا کیا اور ملکی ترقی کیلیے نواز شریف کی سوچ و عزم کی تعریف کی۔ سیاسی قائدین نے مستقبل میں سیاسی تعاون اور اشتراکی عمل کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔