مقامی حکومتوں کا مقدمہ
- تحریر مظہر چوہدری
- منگل 14 / نومبر / 2023
" مقامی حکومتوں کا مقدمہ" پولیٹیکل سائنس کے معروف مصنف اور کالم نگار سلمان عابد صاحب کی نئی کتاب ہے۔یوں تو اس موضوع پر سلمان عابد صاحب کی پہلے بھی دو کتابیں "پاکستان کا نیا سیاسی نظام اور مقامی حکومتوں کا کردار " اور مقامی حکومتوں اور اختیارات کی تقسیم" شائع ہو چکی ہیں لیکن اپنی نئی کتاب میں انہوں نے مقامی حکومتوں کا مقدمہ ایسی بھر پور تیاری اور مدلل انداز میں لڑا ہے کہ کوئی پہلو تشنہ طلب نہیں رہنے دیا۔
اگرچہ جمہوریت، انسانی حقوق، طرز حکمرانی، انتہا پسندی، صنفی امتیاز،علاقائی سیاست، باہمی تنازعات اور میڈیا کا کردار جیسے موضوعات پر بھی ان کی بھر پور دسترس ہے لیکن مقامی حکومتوں پر وہ پچھلے 20سالوں سے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔اس موضوع پر ان کی دسترس اور مہارتوں کو علمی وہ سیاسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔مقامی حکومتوں کے حوالے سے ان کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام جمہوریت کی مضبوطی، خودمختاری اور شفافیت پر مبنی نظام کی بنیادی کنجی ہے اور اس نظام کے بغیر جمہوریت کا تصور نامکمل اور ادھورا ہے۔مصنف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا بنیادی مقصد پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کے تناظر میں مقامی حکومتوں کے نظام کی بحث کو آگے بڑھانا ہے کیونکہ جب تک ہم مقامی حکومتوں کے نظام کو قومی بیانیہ یا ایک بڑی سطح کی سیاسی بحث کے طور پر نہیں منوائیں گے، یہاں مقامی حکومتوں کا نظام مضبوط نہیں ہو سکے گا۔
سابقہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر نظام الدین کے بقول سلمان عابد نے ایک اہم اور فکر انگیز موضوع پر جامع کتاب لکھ کر حکمرانی کے نظام سے جڑے بہت سے پالیسی ساز، فیصلہ ساز، ریاست وحکمرانوں سمیت اہل علم کو جھنجوڑا ہے کہ ہمیں کیسے حکمرانی کے نظام کی بحث کو آگے بڑھانا چاہیے۔سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر رسول بخش رئیس کے خیال میں سلمان عابد کی یہ کتاب سیاست کے طالب علموں کے لیے لازمی مضمون کی حیثیت رکھتی ہے اور ماہرین اور محققین کے لیے مزید تحقیق کے لیے راہبر ثابت ہو گی کیوں کہ اس میں جہاں پاکستان میں مقامی حکومتوں کے معاملات پر داخلی تجزیہ شامل ہے وہیں وہ دنیا میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے تجربات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ ڈاکٹر رسول بخش کے مطابق سلمان عابد مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے یہ بہت بڑا کام کر کے اہل علم اور طلبہ کو مقامی حکومتوں کے تصور سے لے کر پاکستان میں اس کی کمزوریوں تک تمام مسائل کو خوب صورت انداز میں تحقیق، شواہداور تجزیوں کی بنیاد پر اپنا سیاسی و فکری بیانیہ پیش کر دیا ہے جو ملک میں عملی طور پر خود مختار مقامی حکومتوں کی اہمیت، افادیت اور عمل درآمد کی بحث کو نئی جہتیں دینے اور نئے مکالمہ کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔
سلمان عابد صاحب کی نئی کتاب کے مندرجات کو دیکھا جائے توبلامبالغہ یہ کئی پہلوؤں سے منفرد اور نہایت اہمیت کی حامل قرار پاتی ہے۔کتاب میں نہ صرف مقامی حکومتوں کا پس منظر تمام تر حوالوں سے واضح کیا گیا ہے بل کہ مقامی حکومتوں کے نظام کے بنیادی اصول اور اس کی ضرورت واہمیت پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔کتاب کے دوسرے اور تیسرے باب میں مغرب اور ایشیائی ممالک میں مقامی حکومتوں کے نظام کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری اعدادوشمار اور چارٹ بھی پیش کیے گئے ہیں۔چوتھے باب میں پاکستان میں 2013تک بننے والی مقامی حکومتوں کے نظاموں کی تفصیل اور ان کا باہمی موازنہ بھی کیا گیا ہے۔پانچواں باب نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں پاکستان میں مقامی حکومت کے موجودہ نظام کا تفصیلی و تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔اس حصے میں 2019سے لے کر2022تک صوبوں میں بننے والے مقامی حکومتوں کے نظاموں کی مفصل تشریح اور ان کا باہمی موازنہ بھی کیا گیا ہے۔
کتاب کے چھٹے باب میں مختلف عنوانات کے تحت مقامی حکومتوں کی ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں جس میں "مقامی امن و امان اور کیمونٹی پولیسنگ" کے ذیلی عنوان سے لکھا گیا مضمون نہایت ہی منفرد اہمیت کا حامل ہے۔"مقامی حکومتیں، اہم فریقین اور ان کا کردار "کے عنوان سے لکھا گیا کتاب کا ساتواں باب بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔کتاب کے آٹھویں باب میں مقامی حکومتوں کے مستقبل سے بحث کی گئی ہے اور اس حصے میں "محروم طبقوں کی سیاست"اور عورتوں کی مقامی حکومت میں شمولیت جیسے ذیلی عنوانات کے تحت باندھے گئے مضامین نہایت ہی فکر انگیز ہیں۔کتاب کے آخر میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کے نظام کی خود مختاری اور مضبوطی کو درپیش 15بڑے چینلجز بیان کیے گئے ہیں۔سب سے آخر میں مقامی حکومت کے موثر اور خود مختار نظام کی تشکیل کے لیے ضروری اصلاحات اور تجاویز بھی بحث کی گئی ہے۔
پوری دنیا میں لوکل گورنمنٹ سسٹم نہ صرف جمہوری حکومتوں کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے بلکہ اسے جمہوریت کی نرسری قرار دیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں منتخب جمہوری حکومتیں عام طور پرمقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے میں لیت و لعل سے کام لیتی رہی ہیں۔ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کے ادوار میں پہلی مرتبہ مقامی حکومتوں کی تشکیل سابقہ نواز حکومت میں ہوئی ورنہ اس سے قبل پاکستان میں مقامی حکومتوں کی تاریخ آمرانہ ادوار میں قائم ہونے والے بلدیاتی اداروں کے گرد گھومتی رہی تھی۔عام معنوں میں مقامی حکومتوں کی اصل رشتہ داری آمریت کی بجائے جمہوریت سے ہے مگر پاکستان میں آنے والے ہر آمر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی جب کہ اس کے مقابلے میں اہل جمہور کے ادوار میں یہ زیادہ تر قبیلہ بدر ہی رہی۔فاضل مصنف نے اپنی کتاب میں جابجا ان عوامل کو آشکار کیا ہے جو اہل جمہور کو مقامی حکومتوں کو مالی و انتظامی خود مختاری دینے سے روکے رکھتے ہیں۔وہ برملا یہ کہتے ہیں کہ صوبائی حکومتیں زیادہ سے زیادہ مالی و انتظامی اختیارات کو اپنے اپس رکھ کر مقامی حکومتوں کا استحصال کررہی ہیں اور اس کھیل میں صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کی بھی حمایت حاصل ہے۔ان کے خیال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا یہ گٹھ جوڑ مقامی سطح پر وسائل کی تقسیم کے خلاف ہے۔
سلمان عابد کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ اس کتاب میں انہوں نے اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات فوجی حکمرانوں کی ترجیح کیوں رہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ فکری مغالطہ ہوگا کہ فوج کو مقامی جمہوری اداروں کی اہمیت کا احساس ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں۔اصل میں جب وہ (فوجی آمر)وفاقی اور صوبائی سیاسی نظام کو ختم کرتا ہے تو اسے اپنی بقا کے لیے ان مقامی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔کوئی شک نہیں کہ فوجی حکمرانوں کو ایسے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو عوام کے بنیادی مسائل تو حل کریں لیکن آمر کے لیے خطرہ بھی نہ بنیں۔ اس کے مقابلے میں جمہوری ادوار میں سیاسی حکمران ایک طرف ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہوتے تو دوسری طرف مقامی اداروں میں پروان چڑھنے والی نئی مقامی قیادت کا خوف انہیں پریشان رکھتا ہے۔