’نواز شریف آوے ای آوے‘

مسلم لیگ (ن) کے  قائد نواز شریف نے دورہ بلوچستان کے موقع پر ’سیاسی رہنماؤں‘ کے دل جیت لیے اور مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے تیس سے زائد لیڈر  ان کی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ گویا  بلوچستان کی حد تک نواز شریف الیکٹ ایبلز کی ’فوج ظفر موج‘ جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ البتہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اس حکمت عملی  سے انتخابات میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور اس کے بعد ملک کو  بحران اور معاشی مشکلات سے نکالنے میں کیا کردار  ادا کرتے  ہیں۔

نواز شریف اور ان کی پارٹی جس سیاسی حکمت عملی کے مطابق کام کررہی ہے، اس میں بظاہر کامیابی کے تمام آثار موجود ہیں لیکن یہ شاید محض انتخابی کامیابی  ہوگی۔ یہ سوال  ہنوز جواب طلب ہے  کہ  حکومت قائم ہونے کے بعد حقیقی چیلنجز کا  کیسے مقابلہ کیا جائے گا۔ فی الوقت نواز شریف نہ تو اس سوال پر غور کرنے کی زحمت کررہے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کوئی واضح حکمت عملی دیکھنے میں آرہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی  چالیس رکنی کمیٹی  چونکہ منشور تیار کرنے کے کام پر  متعین کی گئی  ہے ، اس لیے شاید  پارٹی پروگرام سامنے آنے کے بعد بعض مشکل سوالات کا جواب بھی سامنے آئے لیکن ابھی تو نواز شریف اور ان کی سربراہی میں شہباز شریف ، مریم نواز اور دیگر پارٹی قائدین  سیاسی رفو گری کا کام کرکے کمزور اور عوام سے دور ہوتی دکھنے والی مسلم لیگ (ن) کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔   البتہ ان سب کا پہلا امتحان  انتخابی مہم   میں  شروع ہوگا۔ تب دیکھا جائے گا کہ وہ کس حد تک لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے  میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد 8 فروری کو  بیلٹ باکس کھلنے پر اصل حقیقت سامنے آسکے گی۔

جیسا کہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اگر مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل  کرکے حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوگئی، پھر اسے نواز شریف کی ابتدائی اور اسٹبلشمنٹ کی حقیقی فتح کہا جائے گا۔ اسی لیے  اغلباً 2024 کے انتخابات کے بعد بھی  دھاندلی اور  بادشاہ گری کا ویسا ہی غلغلہ ہوگا جیسا کہ 2018 کے بعد سننے میں آیا تھا اور اسی کے نتیجے میں بالآخر اپریل2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوگئی اور شہباز شریف نے بھی وزارت عظمی کے مزے لے لیے۔ اس سعی لاحاصل کا اس سے زیادہ فائدہ تو اس ملک یا مسلم لیگ (ن) کو حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ شہباز شریف کے دور حکومت   میں  کئے جانے والے مشکل معاشی فیصلوں کی وجہ سے   مسلم لیگ (ن)  کی عوامی قبولیت میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔ اس دوران عمران خان اور تحریک انصاف نے  اسٹبلشمنٹ کے خلاف مؤقف اختیار کرکے اور شہباز حکومت  کی معاشی پالیسیوں کو دلیل بنا کر عوام کو یہ ماننے پر مجبور کردیا ہے کہ   صرف وہی  قومی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی قیادت میں ہی پاکستان ایک باوقار  و خود مختار ملک کے طور پر اقوام عالم میں اپنی جگہ بنا  سکتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں دلیل کام نہیں کرتی  کیوں کہ سیاسی پارٹیوں نے ملکی عوام کو   دلائل  ، حقائق ، مسائل کی تفہیم اور   ان کے حل کے بارے میں حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے  کے لیے تیار نہیں کیا بلکہ انہیں نعروں کے ذریعے  رائے بنانے یا اسے تبدیل کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ عمران خان جب اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی سے فیض یاب ہورہے تھے تو  انہوں نے باقی ماندہ سیاسی لیڈروں کو چور لٹیرے قرار دے کر خود کو   ’سند یافتہ ایماندار‘ ثابت کیا ۔ ساڑھے  تین سال کے  دور حکومت میں یہی نعرہ ان کی پالیسیوں کی بنیاد رہا۔ اسی لیے وہ نواز شریف کو معاف کرنے اور سیاسی مخالفین کے ساتھ مفاہمت کا طرز عمل اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔  اقتدار سے محروم ہونے کے بعد انہوں نے بتدریج اسٹبلشمنٹ کو  للکارنے کا چورن بھی اپنے نعروں میں شامل کرلیا۔ اب تحریک انصاف خود کو چوروں کے خلاف سینہ سپر ایک ایسی پارٹی کے طور  پر پیش کررہی ہے جو عوام کے حقوق اور مفادات کے لیے اسٹبلشمنٹ کو براہ راست  چیلنج کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ ایسی مہم جوئی کرنے والی اس پارٹی سے  ماضی قریب میں اس  کے سیاسی طریقہ کار کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتا کیوں کہ  سیاست میں نعروں کی گونج میں حقائق پر بات کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر کوئی سیاسی لیڈر حقائق کی بنیاد پر کوئی بیانیہ سامنے لانے کی کوشش کرے تو اسے یا تو ہنس کر ٹال دیا جاتا ہے یا دشمن کا ایجنٹ قرار دینے کا تیر بہدف نسخہ  استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نواز شریف  اس بار اسٹبلشمنٹ کو للکارنے والے ہتھیار سے محروم کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان واپس آنے سے پہلے لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ’جرنیلوں و ججوں کا احتساب‘ کرنے کا نعرہ بلند کیا تھا تاکہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کے ملبے پر احتجاجی پارٹی کا نیا امیج استوار کیا جاسکے لیکن شہبازشریف نے لندن میں بیٹھ کر بھائی کو سمجھایا کہ اگر ایسے نعرے لگانے ہیں تو نہ تو انہیں کوئی واپس آنے دے گا اور شاید نہ ہی نواز شریف کو پاکستان واپس آکر  سیاست میں حصہ لینے کی  کوشش کرنی چاہئے۔ 9 مئی کے بعد ملک میں آئین تو موجود ہے لیکن دیوار پر  جلی حروف میں لکھ دیاگیا ہے کہ اس کی تفہیم  و تشریح کے ’جملہ حقوق محفوظ‘ ہیں۔ اس کی ایک جھلک گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں دیکھی جاچکی ہے جہاں سینیٹر پورے جوش و خروش  سے  ملک کے شہریوں کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرکے ملک کی حفاظت کا مقصد حاصل کرنے کی دلائل دے رہے تھے۔ حتی کہ سینیٹ نے ایک قرار داد میں سپریم کورٹ کو بھی ملکی آئین کی  صراحت کا حق دینے سے انکار کیا اور واضح کیا کہ کوئی ایسا عدالتی فیصلہ ملکی مفاد میں نہیں ہوسکتا جس میں  اشارتاً بھی فوج کو اس کی آئینی حدود میں رہنے  کے لیے کہا جائے۔

اب نواز شریف کے پاس ماضی کے قصے سنانے اور  پرانی سہانی کہانیوں پر سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کرنے کے  سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ سیاست میں  اپنی زندگی کا دو تہائی وقت صرف کرنے کے بعد نواز شریف یہ تو بخوبی جانتے ہوں گے کہ اس قسم کا پھس پھسا بیانیہ  کسی کو  اپیل نہیں کرے گا تاہم انہیں شہباز شریف کی دوربینی اور طاقت ور حلقوں سے راہ و رسم  کی بنیاد پر یہ امید ضرور ہے کہ اگر کسی  لیڈر یا سیاسی پارٹی کو قبل از وقت ’کامیاب‘ قرار دیا جائے تو اس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو کمزور دل اور بے یقنی کا شکار فوراً اس کشتی میں سوار ہونا چاہتے ہیں جو کنارے تک پہنچنے والی ہو۔ دوسرے مخالفین کے دلوں میں یہ خوف بھر دیا جاتا ہے کہ   مقابلہ کرتے ہوئے دھیان میں رہے کہ جیت کی پیشگی ضمانت حاصل کی جاچکی ہے۔

  خواہ  سیاسی و انتخابی جد و جہد میں کامیابی  کی  یقین دہانی    نہ بھی دی گئی  ہو لیکن ہوا باندھ  دینے سے  کامیابی کی طرف پیش رفت کا مؤثر سلسلہ ضرور شروع ہوجاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن)  اس مقصد میں کامیاب ہے۔  کوئٹہ میں جب بلوچستان کے  لیڈر  قطار اندر قطار نواز شریف سے اظہار محبت کرتے ہوئے ان کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کررہے تھے تو   ’اصولوں سے منہ موڑ کر ملک بچانے کا تہیہ‘  کرنے  نواز شریف کو یہ اطمینان تو ضرور ہؤا ہوگا کہ چلیں  اقتدار کا راستہ  کشادہ ہورہا ہے۔ اس حد تک نواز شریف کا دورہ بلوچستان ’کامیاب ‘ رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے البتہ  نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوسرے صوبوں میں ایک ایک، دو  دو سیٹوں کے لیے بھاگ دوڑ کرنے کی بجائے ، لاہور کو  سنبھالیں۔ اس بیان سے بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا حوالہ دے کر مسلم لیگ (ن) کو ہراساں کررہے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس تاثر کو قوی بھی کررہے ہیں کہ آئیندہ  حکومت بنانے کے لیے  نواز شریف کو ’چن‘ لیا گیا ہے۔  مسلم لیگ (ن) بھی شاید بلاول بھٹو زرداری کی مخالفانہ مہم جوئی کو  اس حد تک خوش آئیند سمجھتی ہے کہ اس طرح  ’مستقبل نواز کا ہے‘ کا  نعرہ عام ہورہا ہے ۔ جو لوگ  کسی شبہ  کا شکار ہیں، وہ  بلاول اور پیپلز پارٹی کے مایوسی سے بھرے بیانات سے سمجھ جائیں گے کہ ہوا کا رخ کیا بتارہاہے۔

آصف زرداری اپنی خدمت گزاری کے بدلے ’بلاول بھٹو زرداری‘ کو  آئیندہ وزیر اعظم بنوانے کی  گارنٹی حاصل نہیں کرسکے۔ اس لیے اب  پیپلز پارٹی کے پاس  بھی  ’اینٹی  اسٹبلشمنٹ‘ بیانیہ بنا کر خود کو جمہوریت پسند ثابت کرنے، تحریک انصاف کے کچھ ووٹ توڑنے کی امید اور انتخابات کے بعد  دھاندلی کا شور مچانے کے لیے میدان ہموار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ البتہ اس دوران میں یہ کوشش کرنا بھی ضروری ہے کہ اس کی احتجاجی  صدا میں اتنی زیادہ کھنک نہ ہو کہ فیصلہ ساز سندھ  کا تخت  واپس لینے پر مجبور ہوجائیں۔  لہذا پیپلز پارٹی کا احتجاج ایک خاص اسٹریٹیجک حکمت عملی کے تحت ہی دیکھنے  میں آئے گا۔ دوسری طرف تحریک انصاف 9 مئی کو اپنی تمام کشتیاں جلا چکی ہے اور اس کے بعد ’مفاہمت  و مواصلت‘ کے تمام راستے مسدود   کردیے گئے ہیں، اس لیے اسے بہر حال کھل کر للکارنے اور کسی بھی ’جھوٹ‘ کو نعرہ بنالینے کی  ’آزادی‘ ضرور میسر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وہ وزیر خارجہ کے طور پر اپنی  ’کارکردگی‘ کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ’ کیا شہباز شریف ، اسحاق ڈار، خرم دستگیر، سعد رفیق، ایاز صادق اور احسن اقبال بھی 16 ماہ میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے جانے کا حوصلہ کریں گے؟ یامنہ چھپائے پھریں گے‘۔  یہ  دلچسپ سوال اور مؤقف ہے۔ پہلی بار   کسی حکومت میں رہنے والا وزیر خارجہ   بتا رہا ہے کہ  اس کا وزیر اعظم اور دیگر ساتھی ناکام مگر وہ تن تنہا کامیاب تھا۔ اس طرز تکلم سے پاکستانی سیاست  دان بحران زدہ ملک کو ایک کامیاب ترقی یافتہ ملک بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایسے میں  عوام مایوس  نہ ہوں  تو کیا کریں۔ سیاست دان خود ہی اپنا اعتبار کھونے کے لیے   ہر حد سے گزرجانا چاہتے ہیں۔

ملک بھر میں انتخابی نتائج کا فیصلہ نشر کیا جارہا ہے  اور سب جانتے ہیں کہ یہ نتیجہ کہاں مرتب ہوتا ہے۔  کسی کو فیصلہ سازوں کی قربت کی خوشی ہے اور کسی کو  یہ قرب حاصل نہ ہونے پر مایوسی لیکن کسی کے پاس اس  بھنور سے باہر نکلنے کا کوئی حربہ نہیں ہے۔  نہ ہی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر  فیصلہ سازی کا اختیار عوام کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرنے کا حوصلہ ہے۔