فیض آباد دھرنا کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل
وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کے ذمہ داران کے تعین کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل دے دیا ہے جو دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا یہ کمیشن پبلک آفس ہولڈرز، خفیہ اداروں، سرکاری ملازمین یا دیگر افراد کے اس دھرنے میں ملوث ہونے کے حوالے سے حقائق کا تعین کرے گا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ یہ کمیشن اس دھرنے کے وقت ملک کے وزیر اعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے عہدوں پر فائز افراد کو بھی طلب کرسکتا ہے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بدھ کو فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر عمل درآمد سے متعلق سماعت کے دوران کمیشن کی تشکیل کا اعلامیہ پیش کیا، جس کے مطابق یہ کمیشن، کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا ہے اور دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا اور مستقبل میں ایسے ممکنہ دھرنوں سے نمٹنے سے متعلق تجاویز بھی وفاقی حکومت کو دے گا۔
سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اختر شاہ اس تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ہوں گے جبکہ اس میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کے علاوہ سابق آئی جی اسلام آباد طاہر عالم خان بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں میں وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے تعین کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی تھی تاہم عدالت نے اس کمیٹی کے اختیارات کے حوالے سے برہمی کا اظہار کیا تھا۔
بدھ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ کمیشن عوام کی انکھوں میں دھول بھی جھونک سکتا ہے اور ملک میں نیا ٹرینڈ بھی قائم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی تفتیشی چاہے تو ملزم سے سچ اگلوا سکتا ہے اور اگر سچ سامنے نہ لانا ہو تو آئی جی بھی تفتیش کرلے تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا یہ کمیشن اس وقت کے وزیر اعظم، آرمی چیف اور اس وقت کے چیف جسٹس کو بھی طلب کر سکتا ہے۔ کمیشن ان افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے جن کے نام پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم نے اپنے بیان میں دیے تھے۔ ابصار عالم نے سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا بھی نام لیا تھا۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ کمیشن جسے چاہے طلب کرسکتا ہے اور اس بارے میں کسی کو استثنیٰ نہیں دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیشن اس بات کا تعین کرے گا کہ کوئی پبلک آفس ہولڈر قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہوا اور یہ کہ کیا خفیہ اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازم یا دیگر اشخاص دھرنے میں ملوث تھے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پل پر مذہبی جماعت تحریکِ لبیک نے نومبر 2017 میں ارکان پارلیمان کے حلف میں مبینہ ترمیم کے خلاف دھرنا دیا تھا۔ پرامن طور پر دھرنے کے خاتمے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد کا علاقہ خالی کروانے کے حکم کے بعد حکومت نے آپریشن کیا تھا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے تاہم دھرنا جاری رہا تھا۔
بعدازاں 27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
سپریم کورٹ نے ایک دیگر مقدمے کی سماعت کے دوران فیض آباد کے دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا۔
فیض آباد دھرنے سے متعلق از خونوٹس فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اپیل کنندہ شیخ رشید احمد نے بھی اپنی درخواست واپس لے لی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ جب انہوں نے درخواست واپس ہی لینی تھی تو پھر دائر ہی کیوں کی۔ جس پر شیخ رشید نے جواب دیا کچھ غلط فہمیاں ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہیں ہو گا کہ اوپر سے حکم آیا ہے تو نظر ثانی دائر کر دی۔ سچ سب کو پتا ہے بولتا کوئی نہیں، کوئی ہمت نہیں کرتا‘۔
اس پر شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے سماعت کے دوران یہ بھی استفسار کیا کہ نظر ثانی درخواستیں اتنا عرصہ کیوں مقرر نہیں ہوئیں۔ یہ سوال ہم پر بھی اٹھتا ہے اور کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی؟ سب سے پہلے ہم خود قابل احتساب ہیں۔ نظر ثانی کی درخواست آ جاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا کیونکہ نظر ثانی زیر التوا ہے۔