سیاحت کی اہمیت کو سمجھیں!
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 15 / نومبر / 2023
اسلامی ملک دوبئی کی وزارت معیشت و سیاحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2023 کے پہلے 8 ماہ کے دوران 11 ملین سے زائد سیاح دوبئی آئے ہیں اور یہ تعداد 2022 کے پہلے 8 ماہ کی نسبت 21.50 فیصد زیادہ ہے۔
ان سیاحوں میں سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد بھارت سے ہوئی ہے جو ڈیڑھ ملین سے زیادہ تھی۔ تقریباً پوری دنیا سے سیاح دوبئی کی سیر کرتے ہیں۔ برطانیہ، سعودی عرب جرمنی، امریکہ، روس اور چین سے بھی بڑی تعداد میں سیاحوں نے دوبئی کا رخ کیا ہے۔
2022 کے آخر تک دوبئی میں ہوٹلوں کی کل تعداد 779 اور ہوٹل کمروں کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار دو سو تھی جو اگست 2023 کے آخر تک بڑھ کر 814 ہوٹل اور ایک لاکھ 48 ہزار پانچ سو کمرے ہوگئی ہے۔
یہ خاکسار دنیا کے مختلف ممالک کی سیر کر چکا ہے اور میرا اندازہ ہے کہ جو سیاح کسی ملک کی سیر کو جاتا ہے وہ ایک ہفتے میں کم از کم بھی 1500 ڈالر اس ملک کے اندر خرچ کرتا ہے۔ لیکن دوبئی میں چونکہ زیادہ امیر لوگ جاتے ہیں اور سیر کے ساتھ ان کا مقصد خریداری بھی ہوتا ہے، اس طرح وہ کم از کم بھی تین ہزار ڈالرز لازمی خرچ کرتے ہوں گے۔ اس طرح دوبئی میں سال کے پہلے 8 ماہ میں 33 ارب ڈالر آیا ہوگا جو پورے سال میں 40 ارب ڈالر تک ہو جائے گا۔
کسی ایک بڑے ہوٹل کے اندر اوسطاً اگر 50 ملازم بھی ہوں تو چالیس ہزار سے زائد ملازمتیں صرف دوبئی کے ہوٹلوں کی بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ سیاحتی مقامات پر اور مارکیٹوں میں لاکھوں لوگوں کا روزگار ہے. اور یہ سب سیاحت کی وجہ سے ہے۔ اب ذرا غور کیجیے کہ ہم دوبئی کی بات کر رہے ہیں جو ہمارے ایک چھوٹے شہر کے برابر کا ملک ہے۔ اور دوبئی میں پہلی پختہ سڑک 1969 میں بنی تھی۔ یہ ایک گاؤں کی مانند اور صحرا ہوتا تھا۔ جو لوگ دوبئی میں رہتے ہیں یا سیر کر چکے ہیں انہوں نے یقیناً بردوبئی دیکھا ہوگا یہ تھا اصل دوبئی جس کے گھر وغیرہ ایسے تھے جیسے ہمارے دیہاتوں کے کچھ پرانے گھر ہوتے تھے۔
یاد رہے کہ دوبئی کے پاس بہت زیادہ قدرتی وسائل نہیں ہیں۔ ابوظہبی کے پاس تیل کی دولت ہے۔ مگر دوبئی کے پاس صحرا اور جدید عمارتیں ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دوبئی کی ترقی کی بڑی وجہ قانون کی عملداری اور سماجی رواداری ہے۔ دنیا کے جس کونے سے بھی کوئی سیاح دوبئی کی سیر کا سوچتا ہے تو اسے اس بات کا پورا یقین ہوتا ہے کہ دوبئی میں وہ محفوظ ہوگا اور اس کے ساتھ کوئی دھوکہ فراڈ نہیں کرے گا۔
دوبئی کی تعمیر میں زیادہ سرمایہ بیرون ملک کا ہے۔ ہوٹلوں کی زیادہ عمارتیں بھی غیر ملکیوں کے سرمائے سے بنی ہیں۔ وہاں کوئی بھی بندہ کسی نئی بننے والی عمارت میں ایک کمرہ یا اپارٹمنٹ خرید سکتا ہے، اسے اس کے حساب سے کرایہ ملتا رہتا ہے۔ دوبئی والوں نے دنیا سے مختلف آئیڈیاز لے کر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس وقت دوبئی کی کل آبادی کا 75 فیصد غیر ملکی ہیں۔
اب بات کرتے ہیں ترکیہ کی جن کے ذرائع آمدن میں بہت بڑا حصہ سیاحت کا ہے۔ آپ جب بھی استنبول جائیں وہاں سیاحوں کی رونقیں جاری ہوتی ہیں۔ استنبول اور ترکیہ کے شمالی علاقوں میں لوگوں کے روزگار کا بڑا ذریعہ سیاحت سے جڑا ہوا ہے۔ صرف 2023 کے پہلے 9 ماہ میں ترکیہ کی جی ڈی پی میں لگ بھگ 18 ارب ترکش لیرا( 180 ارب روپے) سیاحت کی آمدن ہے۔ اس کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں بھی بے شمار سیاح جاتے ہیں۔
اب تو سعودی عربیہ جہاں لاکھوں میں عمرہ زائرین جاتے ہیں، نے بھی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بہت بڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ میں نے اسلامی ممالک میں سیاحت کا حوالہ اور اعدادوشمار کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ سوچے کہ ہم مسلمان ہیں اس لیے ہمارے ہاں سیاح نہیں آتے ہیں۔ یاد رہے کہ سیاح اپنی دلچسپی اور اپنے مشاغل کے مطابق سیاحتی مقامات کا انتحاب کرتے ہیں، مذہب کے مطابق نہیں کرتے۔
اب ذرا ہم اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان میں شاید کوئی دو چار ہزار غیر ملکی سیاح آتے ہوں گے مگر بظاہر ایسے کوئی اعدادوشمار نہیں کہ پاکستان میں کوئی خاص سیاحت کی آمدن ہے۔ اس کی وجہ ہماری غلط پالیسیاں، معاشرے کا آلودہ ماحول اور عدم تحفظ کا احساس ہے۔ اگر ہم اپنے لچھن کچھ ٹھیک کر لیں، لوگوں میں حب الوطنی اور جنت کو فروخت کرنے کی بجائے ان کے دماغوں کو دنیا کی ہوا لگنے دیں، انہیں آزادانہ سوچنے دیں، ان پر اعتماد کریں انہیں بااختیار کر کے کام کرنے دیں۔ گھٹن کے ماحول سے باہر آنے دیں۔ اپنے خوبصورت علاقوں میں خوبصورت ماحول پیدا کریں اور ان کی تشہیر پوری دنیا میں کریں۔ قانون کی عملداری قائم کریں اور سیاحوں کو تحفظ کا یقین دلا دیں تو مجھے یقین ہے کہ دوبئی سے زیادہ سیاح ہمارے شمالی علاقہ جات اور کشمیر سمیت پورے ملک میں آئیں گے انشاءاللہ۔ جس سے ملک میں زرمبادلہ آئے گا اور دنیا میں پاکستان کا تشخص بھی بہتر ہوگا۔
پاکستان سیاحت کے حوالے سے دنیا کے بیشتر ممالک سے بہتر ملک ہے۔ جس میں قدیم ترین تہذیب کے آثار ہیں، جس کے شمالی علاقوں کے قدرتی حسن کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ پاکستان میں بہترین اور مختلف موسم ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کی اہمیت کو سمجھے اور اس کے لیے بہترین پالیسی بنائی جائے۔ کسی غیر ملکی فرم کو بھی یہ کام سونپا جا سکتا ہے جو پا کستان کے سیاحتی مقامات کی تشہیر کرے اور پاکستان کے مثبت پہلوؤں کو سامنے لائے۔ کیونکہ پاکستان کا بیرون ملک جو تشخص پیش کیا جاتا ہے، پاکستان اس سے کہیں اچھا ملک ہے۔
پاکستان میں افریقہ کے ان ممالک سے کہیں زیادہ امن و سکون، قانون کی عملداری اور تحفظ ہے، جن افریقی ممالک میں بہت زیادہ سیاح جاتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے پاکستان کے درست تشخص کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔