خواہشات کو حقیقت بتانے کی غلطی نہ کی جائے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 16 / نومبر / 2023
پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوجوانوں کو آگے لانے اور کہا ہے کہ ملکی سیاست میں پرانے اور آزمودہ سیاست دانوں کو بار بار موقع دینے کی بجائے نئی قیادت کو آگے لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اسی طرح ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکتا ہے۔ دوسر ی طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے بھی عوام کے مسائل کا دردمندی سے ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ معیشت کی نبض جانتے ہیں اور مشکلات کا منہ موڑ سکتے ہیں ، اس لئے عوام انہیں موقع دیں۔
فی الوقت یہ دونوں ہی فروری 2024 میں منعقد ہونے والے انتخابات میں وزارت عظمی کے امید وار ہیں۔ ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت تحریک انصاف اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ۔ اس کے لیڈر قید ہیں اور پارٹی توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل پوری شدت سے دعویٰ کرتا ہے کہ ’خواہ جیسی بھی دھاندلی کرلی جائے، عوام کی بڑی اکثریت پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر کامیاب کروائے گی اور وہی نئی حکومت بنائے گی‘۔ انتخابات میں اگر ایسا کوئی اچنبھا ہو جاتا ہے تو عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر چاہے جیسے بھی سنگین الزامات ہوں، بیلٹ پیپر کی طاقت سے انہیں مسترد کرسکتی ہے۔ تحریک انصاف پروپیگنڈے کی حد تک یہی دعویٰ کررہی ہے۔ تاہم اسے بھی زمینی حقائق اور سانحہ 9 مئی کے حوالے سے درپیش مشکلات کے پیش نظر اس بات کا احساس ہے کہ عمران خان کے علاوہ ان کی قیادت میں کام کرنے والی پارٹی کے لیے آسانیاں پیدا ہونے میں وقت لگے گا۔
یہ صورت حال خاص طور سے یوں بھی پیچیدہ اور مشکل ہے کہ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کو نام نہاد کنگز پارٹی کی حیثیت تفویض کی جارہی ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف کے لیے سپیس کم ہورہی ہے۔ ملکی سیاست میں ابھی تک اس دلیل کو قبول نہیں کیا گیا کہ سیاسی لیڈروں کو مقدمے بازی اور ریاستی ہتھکنڈوں کے ذریعے زیر کرنے کا طریقہ فرسودہ ہوچکا ہے۔ اب اگر اسے ایک مرتبہ استعمال کر بھی لیا گیا تو یہ وقتی طور سے کامیاب ہونے کے باوجود بھی ناکارہ ہی ثابت ہوگا۔ ایک تو اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت بااعتبار نہیں ہوگی اور اس کے خلاف احتجاج اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس طرح ملک میں استحکام کا ماحول پیدا نہیں ہوگا جو سرمایہ کاری اورمعاشی احیا کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے انتخابات پر زور دیا جارہا ہے تاکہ جو بھی پارٹی حکومت قائم کرے، اسے عوام کی نمائیندہ جماعت کہا جائے۔ اب یہ ’نمائیندگی‘ اگر کسی جعلی طریقے سے دلوانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا کچا چٹھا سامنے آجائے گا۔ اس کے علاوہ انتخابات میں پولنگ سے پہلے اور بعد میں کی جانے والی دھاندلی سے لگایا جانے والا پودا کبھی بھی حالات کے تھپیڑوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ عمران خان اور تحریک انصاف اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ انہیں 2018 میں ایسی ہی امیدوں سے اقتدار میں لایا گیا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی ’ایک ہی پیج‘ کا رومانس غتر بود ہوگیا اور عسکری طاقت اور سول حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے داؤ پیچ دکھانے لگے۔
اس سے پہلے نواز شریف کو سیاسی لیڈر بنانے سے لے کر اقتدار میں لانے تک یہی تجربہ کیا جاچکا تھا۔ البتہ 2018 کے تجربہ میں چونکہ کسی حجاب سے کام لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی اور کھل کر یہ اعلان کیا گیا کہ قوم کے پاس پرانی ، فرسودہ اور ’بدعنوان‘ سیاسی پارٹیوں سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عمران خان کو ایک موقع دیا جائے جو پاکستان کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فوجی جرنیلوں کے علاوہ عدلیہ کے جج اور میڈیا میں متحرک عناصر یکساں طور سے یہی خواب دیکھ رہے تھے اور کسی بھی قیمت پر اس خواب کی من پسند تعبیر سامنے لانا چاہتے تھے۔ البتہ خواب اور اس کی تعبیر میں جو فرق ہوتا ہے، وہ فرق عمران خان کو ’ونڈر بوائے‘ کا اسٹیٹس دینے اور ان سے جادوگری کی امید کرلینے میں واضح ہوگیا۔ کسی لیڈر کو خیالی پلاؤ پکا کر رفعت وبلندی کی کسی بھی منزل پر پہنچایا تو جاسکتا ہے لیکن عملی طور سے اس کی کامیابی کا انحصار عوام سے تعلق، سیاسی مفاہمت، ٹھوس منصوبہ بندی، انتقام و مخاصمت سے بالا ہوکر مل جل کر فیصلے کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ عمران خان ایسی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کرسکے اور جو جال وہ دشمنوں کے لیے بننا چاہتے تھے، وہ خود ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئے۔
امید کی جاتی ہے کہ اس ناکامی سے سیاسی و عسکری قیادت سبق حاصل کرے گی۔ سیاسی لیڈر اپنے طور پر مخالفت برائے مخالفت کا طریقہ اختیار کرنے کی بجائے مل جل کر خوشگوار ماحول بنانے کے لیے کام کریں گے۔ اس کا اظہار تو میدان عمل میں سرگرم دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں ۔۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی۔۔ کی طرف سے کیا جاتا ہے لیکن عملی طور سے ضد اور مسترد کرنے کا رویہ حاوی ہے۔ مسلم لیگ (ن) 9 مئی کے تناظر میں تحریک انصاف کو مسترد کرتی ہے۔ کیوں کہ پارٹی نے براہ راست قومی سکیورٹی فورسز سے ٹکر لے کر ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ لیکن درپردہ لیگی لیڈروں کی اس دبی ہوئی خواہش کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی اب خود ان صعوبتوں کا سامنا کریں جو وہ دوسروں کے لیے عام کرنے کا عزم رکھتے تھے۔ پیپلز پارٹی اگرچہ تحریک انصاف کے بارے میں ایسا سخت مؤقف نہیں رکھتی لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسے اس وقت مسلم لیگ (ن) کی صورت میں سیاسی مزاحمت کا سامنا ہے۔ نواز شریف نے سندھ میں سیاسی کامیابی کے لئے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع کیا ہے اور حال ہی میں بلوچستان جاکر ان تمام عناصر کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے جنہیں پیپلز پارٹی اپنی سیاسی قوت کا اہم حصہ مانتی رہی ہے۔ اس سے پیپلز پارٹی یہی تاثر عام کرنا چاہتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اب 2018 والی تحریک انصاف کی جگہ لینا چاہتی ہے۔ اسی لیے ایبٹ آباد میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سب پارٹیاں ’ صرف عوام پر بھروسہ کریں اور کسی کی بیساکھیاں نہ ڈھونڈیں۔ وہ کھیل نہ کھیلیں جو ملک اور جمہوریت کے ساتھ گزشتہ 70 سالوں سے کھیلا جا رہا ہے‘۔
بلاول بھٹو کا واضح اشارہ اسٹبلشمنٹ کی اعانت کی طرف ہے جو ان کے خیال میں اس وقت مسلم لیگ (ن) کو حاصل ہے۔ اسی لیے ایک طرف وہ نواز شریف کی سیاست کو گٹھ جوڑ کی سیاست قرار دے کر مسترد کرتے ہیں تو دوسری طرف نوجوان قیادت کو موقع دینے کی بات کرکے خود کو وزارت عظمی کے سب سے بہتر امیدوار کے طور رپیش کررہے ہیں۔ آج ہی کے خطاب میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اس کا اظہار بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کسی کو دوسری یا چوتھی بار وزیراعظم بنانے سے بہتر ہے عوام مجھے ایک بار موقع دیں، میں مایوس نہیں کروں گا۔ ہماری مخالفت مسلم لیگ(ن) یا پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ غربت، بیروزگاری اور مہنگائی سے ہے جس کی وجہ سے ہمارے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ جب تک ہم ایک ایسی حکومت نہیں قائم کر لیتے جو نوجوانوں کو ملازمت دے، غربت سے نمٹے اور مہنگائی ختم کرے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے‘۔
ان باتوں سے اتفاق کرنے کے باوجود یہ سمجھنا مشکل ہے کہ بلاول بھٹو زرداری خود نوجوان ہونے کی بنیاد پر کیسے پیپلز پارٹی کو نوجوانوں کی پارٹی قرار دے سکتے ہیں۔ ان کی پارٹی کا سارا ڈھانچہ اسی پرانے نظام پر استوار ہے جس میں کارکنوں کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا اور طاقت ور جاگیردار اور باثر لوگ اہم پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری خود بھی اپنی کم عمری یا صلاحیت کی بنیاد پر پارٹی کی قیادت نہیں کررہے بلکہ بھٹو خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس منصب کے حقدار سمجھے گئے تھے۔ بلاول بھٹو زرداری اگر سیاسی پارٹیوں میں موروثیت کی اس علت کو ختم کرنے کی بات نہیں کریں گے تو پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی پارٹی میں نوجوان قیادت کو آگے بڑھنے اور فیصلہ سازی کا موقع نہیں ملے گا۔
دوسری طرف لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا دعویٰ تھا کہ ’دلیری اور بہادری کے ساتھ فیصلے کرنے ہوں گے۔عوام کو ریلیف دینا ہوگا، گھریلو صارفین کے لیے بجلی سستی کرنا پڑے گی۔ اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ غریب کا علاج بھی ریاست کی ذمہ داری ہے‘۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کی معاشی مشکلات کو سمجھتے ہیں۔ ہم نے تاجروں سے ہمیشہ مشاورت کی ہے اور مشاورت سے ہی آگے بڑھیں گے۔ ہماری بنائی پالیسیوں پر پاکستان کی کاروباری برادری نے بھرپور عمل کیا۔ ہماری بنائی پالیسیوں کو بھارت نے اپنایا اور معاشی ترقی حاصل کی۔
گویا نواز شریف یہ اعلان کررہے ہیں کہ ان کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) ہی ایسی پارٹی ہے جس کے پاس ملکی مسائل حال کرنے کا ’خفیہ نسخہ‘ ہے ، اس لیے فروری میں انہیں ہی وزارت عظمی کے لیے چننا قوم و ملک کئے بہترین مفاد میں ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف نے آج تقریر میں یہ بھی کہا کہ ’ قوم کو جھوٹے خواب دکھانے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا‘۔ لیکن اسی سانس میں سستی بجلی، مہنگائی کے خاتمے اور مفت علاج کی بات کرکے خود ہی عام لوگوں کے لئے خوابوں کی حسین دنیا تعمیر کرنے کی کوشش بھی کی۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’اقتدار سنبھالتے ہی کہ ہم اپنی حکومت میں ایک پانچ سالہ منصوبہ بنائیں گے جس کے تحت تنخواہوں کو دوگنا کر دیں گے۔ اگر حکومت اپنی ساری توانائیاں اس ضمن میں خرچ کرے تو عوام خوشحال ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کا کاروبار پھلے پھولے اور اس سے تمام لوگ فائدہ اٹھائیں‘۔ البتہ یہ دونوں لیڈر یہ بتانے سے قاصر رہے کہ مفت بجلی و علاج یا تنخواہیں دوگنا کرنے کا اقدام کرنے کے لیے وسائل کہاں سے فراہم ہوں گے؟ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ملک کا خزانہ خالی رہتا ہے اور کاروبار مملکت امداد کے سہارے چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آمدنی میں قابل ذکر اضافہ کے بغیر فلاح یا عوامی بہبود کا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ انتخابی موسم میں سہانی باتیں شاید عوام کو رجھانے کا واحد طریقہ ہے لیکن یہ دعوے کل کو لیڈروں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے اور عوام کی مایوسی میں اضافہ ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ سیاسی پارٹیاں نعروں کے ساتھ عملی اقدامات کے چیدہ چیدہ نکات بھی عام کرتے رہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ کوئی سیاسی پارٹی کیسے ملک کو موجودہ مشکلات سے نکالے گی۔