پاکستان لا کالج میں یومِ اقبال
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 18 / نومبر / 2023
سب سے پہلے میں پاکستان لا کالج کے پرنسپل پروفیسر ہمایوں احسان صاحب، وائس پرنسپل پروفیسر بابرفرہان صاحب، انتظامی کمیٹی کے حنان بٹ صاحب، رائے سعداللہ صاحب، صدیق پیرزادہ صاحب اور آپ سب ذمہ داران کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے اتنے ہونہار پڑھے لکھے نوجوانوں سے مخاطب ہونے کا موقع دیا ہے۔
مجھے خوشی ہے کہ اقبال ڈے کی مناسبت سے حضرت علامہ اقبال کے پیغام پر بات کروں کہ وہ نوجوانوں سے کیا اُمیدیں یا توقعات رکھتے تھے۔ سوچ وچار اور علم و ہنر میں وہ انہیں کس طرح کا دیکھنا چاہتے تھے۔ اس درویش کا ان کے آخری بیس بائیس برسوں کے دوران ڈاکٹر جاوید اقبال سے خاصا قریبی تعلق رہا ہے۔ ان سے سوالات کرنے اور سیکھنے کے بھی بہت سے مواقع میسر رہے۔ ڈاکٹر صاحب بڑے وسیع النظر اور محقق انسان تھے۔ ان سے کسی بھی نوع کی بحث کی جاسکتی تھی۔ وہ اختلافی باتوں پر بھی منع کرنے کی بجائے اکثر حوصلہ بڑھاتے تھے۔
مثال کے طور پر ایک دن درویش نے انہیں کہا ڈاکٹر صاحب! کئی چیزیں پڑھنے کے بعد میں تو شاید دولتِ ایمانی سے فارغ ہوگیا ہوں۔ بولے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ انسان جب مختلف النوع افکار و نظریات کے مراحل سے گزرتا ہے تو اس پر ایسی کیفیات آتی رہتی ہیں۔ یہ تو ایک طرح سے تخلیقی عمل ہے کہ آپ کہیں جمود کا شکار نہیں ہوئے۔ میں خود بارہا کفر کی منازل طے کرتا رہا ہوں۔ اور ایمان کی سیڑھیاں بھی چڑھتا اُترتا رہتا ہوں۔
اس طرح ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے اتنی ہمت بندھا دی تھی کہ اکثر ان کے سامنے حضرت علامہ اقبال پر کئی حوالوں سے تنقیدی سوالات اُٹھاتا تو انہوں نے کبھی لمحہ بھر کے لیے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ اتنی بڑی شخصیت پر یا میرے والدِ محترم پر سخت قسم کی تنقید کیوں کررہے ہیں۔ بلکہ کئی مواقع پر وہ اس معصوم ناقد کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے اور کئی ایسی باتیں بھی فرماجاتے جنہیں شاید اتنی اوپن محفل میں آپ نوجوانوں کے ساتھ شیئر کرنا مناسب نہ ہو۔ البتہ ہلکی و بے ضرر باتیں کہنے میں کوئی قباحت نہیں جیسے کہ اقبال نے اپنی شاعری میں مذہب کا اتنا زیادہ استعمال کیوں کیا؟ ڈاکٹر صاحب کا جواب ہوتا کہ شاعری میں مذہب کا استعمال انہوں نے اپنے لوگوں کو اوپر اٹھانے یا ابھارنے کے لیے کیا۔
اقبال یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے لوگ مذہب کے نام پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔ ورنہ ذاتی زندگی میں اقبال کوئی ایسے مذہبی نہیں تھے۔ جب وہ فوت ہوئے تو میری عمر کوئی چودہ برس تھی مگر میں نے گھر میں انہیں کبھی عبادات میں مشغول نہیں دیکھا۔ اسی طرح جب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب سے پوچھتا کہ حضرت علامہ مغرب یا مغربی تہذیب کے اتنے مخالف کیوں تھے؟ تب بھی ان کا جواب یہ ہوتا کہ وہ مغرب یامغربی تہذیب کے ہرگز مخالف نہ تھے۔ وہ مغرب کے استعماری پہلو کے ناقد ضرور تھے اور وہ بھی زیادہ تر شاعری میں آپ کو ملے گا۔ اگر آپ ان کے خطبات Reconstruction of Religious thought in Islam کی سٹڈی کریں تو آپ کو اُن کی شاعری سے ایک مختلف اسلوب ملے گا۔ اور وہ آپ کو مغربی تہذیبی خوبیوں کے قدردان اور جمہوریت کے مداح کی حیثیت سے نظر آئیں گے۔
بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ ملاحظہ کریں جب ترکی میں اتاترک کی قیادت میں ترکوں کا ماڈرن انقلاب آیا تو اقبال نے سب سے بڑھ کر اس کی حمایت کی اور اپنے خطبات میں یہاں تک کہہ رکھا ہے کہ بالآخر دیگر تمام مسلم اقوام کو بھی ایک دن اٹھنا ہوگا اور قدامت پسندی و پسماندگی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اتاترک جیسا انقلاب لانا ہوگا ۔
ڈاکٹر صاحب بیان کرتے کہ میری پیدائش 1924 کی ہے اور اسی سال اتاترک نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اتا ترک کی مخالفت کی مگر اقبال نے اس پر بھی اتاترک کی سپورٹ کی اور کہا کہ اب خلافت کا حقدار فرد واحد نہیں ہونا چاہیے۔ شخصی سلطانی یا حکمرانی کا خاتمہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ اتھارٹی منتخب اسمبلی کو منتقل کی ہے تو اس کی تحسین ہونی چاہیے۔
اے میرے نوجوانو! آپ کو معلوم ہے کہ حضرت علامہ اقبال کی ایک کتاب کا نام ’جاوید نامہ‘ ہے۔ اسی طرح وہ اپنی کئی نظموں میں بھی اپنے بیٹے جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے شعر کہتے رہے۔ تو ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا یہ ہوتا کہ وہ دراصل میرا نام لیتے ہوئے اپنی قوم کے نوجوانوں کو مخاطب کررہے ہوتے ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ 1932 میں علامہ اقبال گول میز کانفرنس میں شرکت کی خاطر لندن گئے ہوئے تھے تو ننھے جاوید نے اپنے معصوم ہاتھوں سے انہیں ایک خط لکھ بھیجا جس میں اپنے ابا جان سے گراموفون لانے کی فرمائش کی گئی تھی۔ حضرت علامہ شاید وہ تو نہیں لائے البتہ اپنے نورِ نظر کے لیے ایک معروف نظم لکھ بھیجی جس کا عنوان ہی ’جاوید کے نام‘ ہے۔ اس میں اقبال جاوید کے ذریعے نوجوانان ِ قوم سے مخاطب نظرآتے ہیں۔ دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر، نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر۔ خدا اگر دل فطرت شناس دے
قصہ مختصر حضرت علامہ اقبال کی یہ تمنا تھی کہ ہمارے نوجوان جو بھی کام کریں، جس شعبے میں بھی جائیں ایک وقار کے ساتھ سخت محنت اور جانفشانی کے ساتھ کام کریں۔ وہ فرماتے ہیں لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی۔ نوجوان یا طالبعلم کیلئے پڑھائی کرنا بڑی اچھی بات ہے اسے خوب پڑھنا چاہیے مگر اقبال محض کتابیں پڑھے جانے کو اچھا نہیں گردانتے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ میرے بچے تم اتنا پڑھو کہ پھر تمہارے اندر سے کتاب پھوٹ پڑے۔ تو کتاب خواں سے آگے بڑھ کر صاحب کتاب بن جائے ۔
آپ نوجوانوں کیلئے یہی اقبال اور فرزنداقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کا پیغام ہے۔ لیکن بس اس کے ساتھ ہی میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا اور ڈاکٹر جاوید اقبال بھی آخر مجھے یہ کہتے تھے کہ آپ اقبال کی شاعری کو لے کر نہ بیٹھ جایا کریں۔ ان کے خطبات پر زیادہ توجہ دیا کریں۔ کیونکہ شاعری تو محض ایک نوع کا ہنگامی ابال ہوتا ہے۔ جبکہ دائمی حیثیت ان کے نثر پاروں کی ہے۔ اب آپ ان کی کتاب
Reconstruction of Religious Thought in Islam کے نام پر غور فرمائیں ۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ اسلام میں جو Religious Thought یا مذہبی فکر ہے اس کی درستی و مرمت ہونی چاہیے۔ آپ نوجوان غور فرمائیں کسی بلڈنگ کی آپ نے درستی یا مرمت کروانی ہوتو آپ اس کے لیے Repair
کا لفظ استعمال کریں گے لیکن اقبال Reconstruction کا لفظ بول رہے ہیں۔ اب آپ لوگ مجھے یہ بتائیں کہ کسی بھی چیز کو Repair کروانے میں اور Reconstruct
کروانے میں کیا فرق ہوتا ہے؟
یہ بھی واضح رہے کہ اقبال دیگر تمام مذاہب اور ان کے بانیان کا بھی بے حد احترام کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے کلام میں جہاں ہندوؤں کے شری رام چندر جی کی شان میں انہیں ”امام ہند“ اور ”چراغ ہدایت“ قرار دیا ہے، وہیں بدھا کی عظمتوں کے گیت گائے اوراس امر پر افسوس کیا کہ قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا ہ نہ کی۔ گرونانک دیوجی مہاراج کے متعلق کیا خوب فرماتے ہیں، پنجاب سے ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے۔
میرے بچو! یہ باتیں ختم نہ ہوں گی بس آپ اقبال کو شعور کے ساتھ پڑھیے۔ اس لیے مزید بھاشن کی بجائے آپ لوگ سوالات پوچھیے تلخ سے تلخ سوال بھی اٹھائیے۔
(پاکستان لا کالج کے نوجوانوں سے پیغام اقبال کے حوالے سے کی گئی تقریر )