دہشتگردی نہ رکی تو ٹھکانوں میں گھس کر سبق سکھائیں گے: وزیر داخلہ بلوچستان

  • سوموار 20 / نومبر / 2023

نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں۔ اگر بار بار کی تنبیہ کے باوجود یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں گھس کر انہیں سبق سکھائیں گے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے 40 سال سے زائد عرصے سے افغان بھائیوں کو پناہ دے رکھی ہے لیکن اس کے بدلے دہشت گردوں اور دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کے بجائے انہیں بلا روک ٹوک دہشت گردی کے اڈے اور جدید ہتھیار ملنا باعث تشویش ہے۔ حکومت پاکستان نے اپنے مطالبات افغان طالبان کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ہم بار بار واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کا مخالف ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔

وزیر اطلات بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں کا جرم برابر ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی تمام کوششوں میں ان کے ساتھ ہیں۔ اور اپنے بہادر جوانوں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ طالبان کے نچلی سطح کے کمانڈر ان کے ساتھ ہیں۔ 31 اکتوبر کو ژوب کے واقعے میں بھی 6 افغان دہشت گرد ملوث تھے۔ اسی طرح امریکی کانگریس نے بھی کہا ہے کہ افغان طالبان نے اسلحہ اپنے فرنچائز کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے کیا ہے۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس صحیح ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرکے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا۔

جان اچکزئی نے کہا کہ دفتر خارجہ پاکستان ان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسی طرح انخلا کے عمل پر بھی دونوں بارڈرز (چمن، طورخم) پر رابطہ جاری ہے۔ لیکن اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ ڈبل گیم کرنا افسوس ناک ہے۔ چمن میں دھرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چمن میں آج جزوی طور پر ٹریفک معطل رہی ہے۔ لیکن ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرکس آج بھی روانہ ہوئے اور بے دخلی کا عمل بھی جاری رہا۔ اگر دھرنے والے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے تو ہمیں ان کے احتجاج پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان کی ٹیم اسلام آباد بھی گئی ہے۔ مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل ہیں، کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان ایک عرصے سے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور اکثر بم دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور عام عوام تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل ہوشاب میں دھماکے سے گاڑی میں سوار 3 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔