اسرائیل اور حماس میں یرغمالوں کی رہائی پر معاہدہ کا امکان ہے: جو بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیےجلد ایک معاہدہ ہونے کا امکان ہے جب کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق قطر کی معاونت سے اسرائیل اور حماس میں معاملات طے کرنے کا عمل جاری ہے جس کے تحت ممکنہ طور پر عارضی جنگ بندی کے بدلے کچھ یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں پیر کو ایک تقریب کے دوران جب امریکہ کے صدر جو بائیڈن سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایسا ہی ہے۔ انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اس طرح نشان بنایا کہ انہیں سب اچھا ہونے کی امید ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حماس کے سیاسی مرکز کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فورسز کی بمباری جاری ہے اور علاقے ے اسرائیل پر میزائل داغے جا رہے ہیں۔
حماس نے ان مذاکرات میں معاونت کرنے والے ملک قطر کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے۔ تاہم اس نے معاہدے کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ قبل ازیں پیر کو انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی صدر ماریانا نے قطر میں اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی تھی۔ ریڈ کراس نے بیان میں کہا تھا کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شامل نہیں البتہ وہ مستقبل میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے اقدامات میں معاونت کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عارضی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی بازیابی سے متعلق وائٹ ہاؤس نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ان مذاکرات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ زیادہ تفصیلات سامنے آنے پر اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے مذاکرات میں تعطل آ سکتا ہے۔