سیکیورٹی ادارے اور خفیہ ایجنسیاں بلوچ طلبہ کو لاپتا کرنے میں ملوث ہیں: عدالتی کمیشن کی رپورٹ
پاکستان میں مختلف تعلیمی اداروں سے بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں اور دیگر الزامات پر قائم کردہ کمیشن نے کہا ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے تردید کے باوجود اس بات کے زبانی اور تحریری شواہد ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خفیہ ایجنسیاں بلوچ طلبہ کو لاپتا کرنے میں ملوث ہیں۔
پاکستان کی فوج اور سیکیورٹی ادارے ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے اہلِ خانہ ہی جبری گمشدہ ہونے کے کیسز درج کراتے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے بلوچ طلبہ کے لاپتا ہونے اور ان کی تعلیمی اداروں میں پروفائلنگ کی بھی تردید کرتے رہے ہیں۔
کمیشن نے رواں برس فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی تھی۔ لیکن یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی تھی۔ کمیشن کی رپورٹ 500 صفحات پر مشتمل ہے۔ وائس آف امریکہ کے پاس دستیاب اس رپورٹ کی فائنڈنگز کے شروع میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کو اس بات پر تشویش ہے کہ بلوچ طلبہ کی نسلی پروفائلنگ، ہراسمنٹ اور جبری گمشدگیاں اس انداز میں کی گئیں کہ بعض طلبہ کو حراست میں رکھا گیا یا انہیں گرفتار یا اغوا کیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو سماعت کے دوران کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ایک ہفتے میں 55 لاپتا طلبہ کی بازیابی نہ ہونے پر نگراں وزیرِ اعظم، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ دفاع کو عدالت میں طلب کر لیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی طرف سے وزیرِ اعظم کو طلب نہ کرنے کی استدعا کی گئی جسے جسٹس محسن اختر کیانی نے مسترد کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بلوچ طلبہ کے لاپتا ہونے سے متعلق ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی پٹیشن پر کمیشن تشکیل دیا تھا۔ عدالت نے کمیشن کی سربراہی سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اختر مینگل کے سپرد کی تھی۔ کمیشن کے دیگر ارکان میں سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکریٹری وزارتِ انسانی حقوق علی رضا بھٹہ، ناصر محمود کھوسہ،سینیٹر کامران مرتضیٰ، افرسیاب خٹک، پروفیسر ڈاکر اسما فیض، سینیٹر مشاہد حسین سید، اسد عمر اور سینیٹر رضا ربانی شامل تھے۔
کمیشن کے سربراہ اختر مینگل نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا وزیرِ اعظم اور دیگر ذمہ داران کو بلانے کا حکم بلوچ عوام کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ فروری میں جمع کرائی تھی۔ پاکستان کی عدلیہ کو بلوچستان کے عوام کو انصاف دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔