غزہ کی لڑائی میں چار روزہ وقفے کا آغاز

  • جمعہ 24 / نومبر / 2023

اسرائیل اور حماس کے مابین غزہ میں سات ہفتے سے جاری لڑائی میں چار روزہ وقفے کا آغاز ہو گیا ہے۔

جمعے کی صبح سے شروع ہونے والے اس عارضی جنگ بندی کے دوران حماس کے پاس موجود 50 اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیل کی جیلوں میں قید 150 فلسطینیوں کی رہائی کے علاوہ غزہ میں امداد کی فراہمی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ جمعے کی شام پہلے مرحلے میں 13 اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اسرائیلی جیلوں سے چار روز میں 150 خواتین اور بچے بھی آزاد ہوں گے۔

اسرائیل نے حماس کو مزید یرغمالیوں کی رہائی کی ترغیب دیتے ہوئے جنگ بندی کی مدت میں اضافے کی پیشکش بھی کی ہے۔ اگر یہ عارضی جنگ بندی قائم رہتی ہے تو سات اکتوبر سے شروع ہونے والی لڑائی میں یہ پہلا وقفہ ہو گا تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ یہ وقفہ جنگ کا خاتمہ نہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انسانی ہمدردری کے تحت یہ وقفہ عارضی ہے‘۔  غزہ کے شہریوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’شمالی غزہ ایک خطرناک علاقہ ہے اور شمال کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اپنے تحفظ کے لیے جنوب میں ہی رہیں۔‘

اسرائیلی حکومت نے حماس کا نام و نشان مٹانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کی امید ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی 'ناقابل بیان آزمائش' کا خاتمہ کرے گا اور 'معصوم فلسطینی خاندانوں کے مصائب کو کم کرے گا۔'