اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے آٹھ فلسطینی ہلاک کردیے
اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں ہونے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کا تیسرا دن شروع ہو چکا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی فورسز کی کارروائی کے دوران آٹھ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کے بعد مغربی کنارے میں حالیہ دنوں کے دوران جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز کی حالیہ ہفتوں میں مغربی کنارے میں کارروائیوں کے دوران درجنوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ مغربی کنارے سے سینکڑوں فلسطینیوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ مغربی کنارے کے رہائشی یہودی آباد کاروں کی جانب سے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مغربی کنارے کا انتظامی کنٹرول رکھنے والی فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ جینن میں پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ دیگر تین فلسطینی مغربی کنارے کے دوسرے علاقوں میں نشانہ بنے ہیں۔ محکمۂ صحت کے مطابق مغربی کنارے کے وسطی علاقے البیریہہ میں ہلاک ہونے والوں میں ایک نو عمر لڑکا بھی شامل ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے جینن مہاجرین کیمپ میں آپریشن کیا ہے، اس دوران مسلح تصادم کے دوران پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسند تھے۔