پیری مریدی کا کلچر اور ہمارے حکمران
- تحریر مظہر چوہدری
- اتوار 26 / نومبر / 2023
کوئی دو رائے نہیں کہ صدیوں پر محیط روایات کی وجہ سے پیری مریدی برصغیر کے کلچر کا حصہ سمجھی جاتی ہے لیکن تعلیم اور شعور کی بیداری سے ہمسایہ ملک (بھارت)میں پیری مریدی کی آڑ میں لوگوں کا سماجی، معاشی اور جنسی استحصال کرنے والے خود ساختہ پیروں اور عاملوں کے خلاف سماجی اور ملکی سطح پر مہم شروع ہو چکی ہے۔
بھارت کے برعکس ہمارے ہاں پیری مریدی کے نام پر عوام کا سیاسی و معاشی اور سماجی و جنسی استحصال کرنے والوں پیروں، روحانی پیشواؤں اور عاملوں کے خلاف کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ اپریل2017 میں سرگودھا کے ایک نام نہاد پیر نے 20مریدوں کوبہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا لیکن انتظامی و سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر اس کیس کو کافی حد تک کمزور کر دیا گیا۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کے بیشتر مزاروں اور درگاہوں کے گدی نشینوں کے علاقے کی پولیس اور جرائم پیشہ عناصر سے خصوصی مراسم ہوتے ہیں۔جرائم پیشہ عناصر پیروں کی کرامات کی عوامی سطح پر تشہیر کرنے کے علاوہ علاقے میں ہونے والی وارداتوں بارے پل پل پیروں اور عاملوں کو آگاہ رکھتے ہیں۔پولیس کی ملی بھگت سے بیشتر مزاروں اور درگاہوں پر جنس اور منشیات فروشی کے دھندے بھی ہو تے ہیں۔
حال ہی میں رانی پور کے باثر پیر خاندان کی حویلی میں تشدد و زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کم سن فاطمہ کے قاتلوں کو بچانے کے لیے "کچے کے ڈاکوؤں "سمیت کئی ایک مافیاز سرگرم ہوئے۔دو سال قبل قومی اسمبلی میں ایک ایسے بل کو مسترد کر دیا گیا تھا جس میں جادو ٹونہ اور دیگر روحانی کونسلنگ کرنے والے خود ساختہ پیروں اور عاملوں کی سزا اور جرمانہ بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بھی پاکستان میں پیری مریدی اور علم نجوم کی مقبولیت کم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہمارے حکمرانوں کا پیروں فقیروں اور نجومیوں کو حد سے زیادہ اہمیت دینا ہے۔حقائق یہ ہیں کہ ایوب خان سے لے کر عمران خان تک ہمارے فوجی و سیاسی حکمران اور سیاسی رہنماء پیروں اور نجومیوں سے عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات میں ان سے ہدایات لیتے رہے ہیں۔بے نظیر بھٹو شہید،نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مختلف پیروں کے ساتھ عقیدت و احترام کے قصے پاکستانی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے افراد سے پوشیدہ نہیں۔کئی سال سوشل میڈیا پر بے نظیر بھٹو شہید کی ایک تصویر گردش کر تی رہی جس میں محترمہ پیر قنبر حسین شاہ کے سامنے فرش پر بیٹھی ہیں۔اگرچہ اس تصویر کا پس منظر کچھ اور ہے لیکن ایک نظر دیکھنے والے افراد کے اذہان میں فوری تاثر عقیدت و احترام کا ہی بیٹھے گا۔ اس تصویر کا پس منظر یہ ہے کہ محترمہ پارٹی کے مقامی رہنما کے کہنے پر پیر صاحب سے ملنے گئیں۔پیر صاحب نے گھٹنوں کی تکلیف کا جھوٹا عذر کرتے ہوئے کہا کہ وہ محترمہ کے استقبال کیلئے کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ بے نظیر نے پیر صاحب کی بات پر یقین کرتے ہوئے عقیدت میں قالین پر ہی بیٹھ گئیں لیکن انجانے میں کی گئی بی بی شہید کی اس عقیدت سے پیر صاحب کا روحانی سکہ خوب چل گیا۔
80 کی دہائی میں شریف خاندان پر علامہ طاہر القادری کا روحانی اثر و رسوخ سب کے سامنے ہے۔اپنے دور صدارت میں زرداری صاحب سیاست کے استاد مشہور ہوئے لیکن ان کی استادی کے پیچھے گوجرانوالہ کی مشہور روحانی شخصیت پیر اعجاز شاہ تھے۔پیر صاحب کے کہنے پر نہ صرف ایوان صدر میں روزانہ بکرے کی قربانی ہوتی تھی بلکہ یہ فیصلہ بھی پیر صاحب ہی کرتے تھے کہ زرداری صاحب کو کیوں اورکتنے دن سمندر کے کنارے رہنا ہے اور کب پہاڑی علاقے میں جانا ہے۔
کسی نے کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا کہ حکمران (بیشتر) مذہبی نہیں ہوتے لیکن اقتدار کے حصول اور سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے مذہب کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔بھٹو صاحب سیکولر لیڈر تھے لیکن مذہبی حلقے کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے سمیت کئی ایک اقدامات کر ڈالے۔آکسفورڈ کی پڑھی لکھی بے نظیر کافی حد تک روشن خیال تھیں لیکن اسمبلی میں تسبیح لے کر آیا کرتی تھیں جس سے سادہ لوح عوام خاص طور پر گاؤں کی خواتین میں ان کا مذہبی تشخص قائم ہوا۔حالیہ سالوں میں عمران خان کی "روحانیت" زیربحث رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے اور پھر اقتدار کو دوام دینے کے لیے جو کچھ عمران خان نے پچھلے چند سالوں میں کیا، ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
ویسے تو ہمارے حکمرانوں کی اکثریت پیروں کی معتقد اور نجومیوں کے زیر اثر رہی ہے لیکن اس لحاظ سے عمران خان نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ دوران عدت شادی کرنے سے لے کے بزدار کو وزیراعلی رکھنے پر اصرار تک عمران خان بشری بی بی کی خود ساختہ روحانیت کے زیر اثر رہے۔جو لوگ یہ جواز دیتے ہیں کہ شادی ایک نجی معاملہ ہوتا ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ایک تو حکمرانوں کی شادیاں دنیا بھر میں زیر بحث رہتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر عمران خان نارمل انداز میں شادی کرتے تو ان کی شادی کو پھر بھی نجی معاملہ قرار دیا جا سکتا تھا لیکن ان کی شادی کئی حوالوں سے عام ڈگر سے ہٹ کے تھی۔ ایک یہ کہ انہوں نے اپنی روحانی گرو سے معاشقہ چلاکے پہلے شوہر سے طلاق دلوائی حالانکہ اسلام میں طلاق صرف انتہائی صورتوں میں جائز قرار دی گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ بشری بی بی نے اس شادی کو مذہبی اور روحانی رنگ دیا۔
پہلے مشہور کیا گیا کہ انہیں خواب میں عمران خان سے شادی کے لیے کہا گیا ہے جب کہ بعد ازاں بشری بی بی کی روحانیت کے ہی زیر اثر عمران خان نے دوران عدت اس وجہ سے نکاح کیاکہ 2018کے پہلے دن نکاح کرنے پر وہ وزیراعظم بن جائیں گے۔چند روز قبل بشری بی بی کے پہلے شوہر نے ایک تفصیلی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ عمران خان نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا۔کوئی شک نہیں کہ خاور مانیکا نے 2018میں بالکل متضاد موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشری جیسی پاک بیوی نہیں دیکھی اور عمران طلاق کی وجہ نہیں لیکن ماضی میں اختیار کیے گئے موقف کی نسبت ان کی حالیہ باتیں سچ معلوم ہوتی ہیں۔
عمران خان روحانی سکون کی تلاش کے نام پر بشری بی بی کے قریب ہوئے اور بشری بی بی نے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے اس شادی کو مذہبی وروحانی رنگ دے کے معاشرے میں پھیلی توہم پرستی کو مزید مضبوط کیا۔اس حوالے سے اور بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن سردسست اتنا ہی کہ حکمرانوں کے توہم پرستی میں مبتلا رہنے تک توہم پرست معاشرے کی اصلاح کی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔