ہمارے کالم نگار
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 28 / نومبر / 2023
دنیا بھر کے اخبارات میں کالم یا آرٹیکل لکھے جاتے ہیں۔ ان کالموں کے ذریعے مختلف موضوعات پر تجزیے پیش کیے جاتے ہیں۔ ملک اور عوام کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کی جاتی ہیں۔
ایک طرح سے کسی بھی ملک کے کالم نگار اس ملک کے لیے تھینک ٹینک کا کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کے سیاستدان، ریاستی ادارے اور عوام اپنے لکھاریوں کو پڑھتے اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔کیونکہ یہ لکھاری ایک تو ہر وقت عام لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں تحقیق کرتے ہیں۔ کوئی ایسی خبر سامنے آئے جس میں عوامی مفاد یا عوام کے متاثر ہونے کی بات ہو تو صحافت سے منسلک لوگ اس معاملے کی پوری تحقیق اور چھان بین کرنے کے بعد اس پر تفصیلی آرٹیکل لکھتے ہیں جس پر متعلقہ ادارے اس کا نوٹس لیتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان کے اندر جہاں دوسرے تمام شعبے انحطاط کا شکار ہیں، ہماری صحافت کا معیار بھی بہت گر چکا ہے۔ چند گنے چنے صحافیوں اور کالم نگاروں کو چھوڑ کر اکثریت اپنے فرائض کی درست ادائیگی سے قاصر ہے۔ ہمارے ہاں قلم فروشی عام ہے۔ رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا کے اینکر پرسنز نے نکال دی ہے۔ جس طرح ہماری سیاست کا محور مخالفین پر کیچڑ اچھالنا اور ایک دوسرے کو گالی دینے کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، کوئی منشور نہیں کوئی اصول نہیں رہا۔ اسی طرح ہمارے میڈیا کے لوگوں کا بھی وتیرہ الزام تراشی اور بلیک میلنگ بن چکا ہے۔ لکھنے والوں کی اکثریت کسی نہ کسی کے پے رول پر کام کرتی ہے۔کوئی کسی سیاستدان کی خوشامد اور قصیدے لکھتا ہے تو کوئی مقتدرہ کے جوتے اٹھائے پھرتا ہے۔کئی لوگوں کے ذاتی معاملات کو اچھال رہیں ہیں تو کوئی فرضی کہانیاں بیچ رہا ہے۔ان حالات میں اگر کوئی حقیقی صحافی یا کالم نگار ہے جو عوامی مسائل کی بات کرتا ہے، جسے ذاتی کی بجائے ملکی مفاد عزیز ہے تو وہ فرشتہ صفت انسان ہی ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں ہر شعبے کا ہر بندہ اپنے ذاتی مفادات کا اسیر بن گیا ہو وہاں جب کوئی غیر جان درانہ تبصرہ کرے یا عوامی مسائل کو اجاگر کر کے ان کے حل کی کوشش کرتا ہو تو اسے ہم فرشتہ ہی کہیں گے۔
آج میں چند ایسے کالم نگاروں کا ذکر کرنا چاہوں گا، جنہوں نے کبھی قلم بیچا نہ ذاتی پسند نا پسند کے زیر اثر لکھا ہے۔
سب سے پہلے اپنے کالم ایڈیٹر یعنی روز نامہ پاکستان اخبار کے کالم ایڈیٹر جناب چوہدری خادم حسین صاحب کا ذکر کروں گا جنہوں نے نو عمری میں اس شعبے میں پاؤں رکھا اور ساری زندگی صحافت میں گزار کر اپنے دامن پر کوئی داغ نہیں لگنے دیا ۔ ثبوت کے طور پر یہی کافی ہے کہ اپنا 60 سالہ کیریئر گزار کر بھی متوسط طبقے کا حصہ ہیں۔ آج بھی سارا دن دفتر میں گزار کر گزارہ کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پچھلے کئی برسوں کے کالم نکال کر پڑھ سکتے ہیں، کسی بھی کالم میں کسی بڑے کی خوشامد مل سکے گی، نہ کسی کی بیجا مخالفت میں کچھ لکھا ہوگا۔ لکھتے ہیں تو صرف عوامی اور ملکی مسائل پر لکھتے ہیں۔ حکمرانوں کو جھنجھوڑنے رہتے ہیں۔
چوہدری خادم صاحب کے ہم عصر لوگ جو صحافت سے منسلک تھے، وہ آج بڑے بڑے میڈیا ہاوسز کے مالک ہیں۔ اور ان کی اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں ہیں لیکن چوہدری خادم حسین صاحب آج بھی ایک متوسط زندگی گزار کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ایک اور نام جناب سید مجاہد علی کا ہے۔صحافت ان کی سرشت میں شامل ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ صحافت سے منسلک رہے پھر تارک وطن ہو گئے۔ پچھلی 4 دہائیوں سے زائد عرصہ سے ناروے میں آباد ہیں جہاں سرکاری ریڈیو کی اردو سروس میں ایک عرصہ گزارا ۔اور اس کے ساتھ اپنا اردو اخبار ’کارواں‘ بھی نکالتے ہیں۔ شاہ صاحب سب سے زیادہ سیاست پر لکھتے ہیں۔ جہاں وہ مثبت تنقید کرتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو صائب مشورے بھی دیتے ہیں۔ مجاہد علی شاہ صاحب کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کی بیجا حمایت کرتے ہیں نہ مخالفت، لیکن انتہائی باریک بینی سے سیاست کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ اور سیاست کے اندر ہونے والی غلطیوں کو سامنے لاتے ہیں۔ ان کے تبصرے، تجزیے اور کالم متوازن اور قومی مفاد کے مطابق ہوتے ہیں۔
پاکستان کے ایک اور نامور اور صدارتی ایوارڈ یافتہ کالم نگار وجاہت مسعود صاحب جو روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں۔ ان کے کالمز دنیا کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہیں۔ لکھنے کا ہنر ان کو کمال کا آتا ہے۔ مگر ان کے کالم پڑھنے اور سمجھنے کے لیے آپ کو دنیا کی تاریخ کا بھی کچھ ادراک ہونا چاہیے۔جس طرح قصہ ہیر رانجھا اور سسی پنوں سے نابلد لوگوں کے سامنے یہ لوک داستانیں ، بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی وجاہت صاحب کے ایک جملے کے پیچھے لکھی تاریخ کو نہ سمجھ سکے تو کالم اس کے پلے نہیں پڑے گا۔ وجاہت مسعود صاحب رموز سیاست اور رموز ریاست کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور حکمرانوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ ہماری سیاست کا چلن لالچ، مفاد پرستی اور چمک سے لبریز ہے اس لیے زیادہ تر لوگوں کے لیے وجاہت مسعود صاحب کے کالمز خشک ہی ہوتے ہیں۔ یاسر پیرزادہ صاحب ایک بیوروکریٹ کالم نگار ہیں۔ جو کھلے سمندر میں تیر نہیں سکتے لیکن وہ بھی معاشرتی مسائل کا خوب ادراک رکھتے اور ان پر لکھتے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے۔ جو لکھتے ہیں اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔
آج کے کالم کے دامن میں صرف اتنی ہی جگہ ہے، ورنہ چند اور بھی لکھنے والے ہیں جن کا ذکر پھر سہی۔ اب ذرا پڑھنے والوں کی بات ہو جائے۔ ہمارے ملک میں پڑھنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے مگر سمجھنے والے کتنے ہیں اس کا اندازہ مجھے تو نہیں ہے۔لیکن معاشرے میں پھیلے مسائل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں کوئی سمجھنے والا نہیں ہے۔ سب سمجھانے والے ہی ہیں۔