نشیب میں رہنے والوں کا فراز

جناب احمد فراز کے عہد میں سانس لینا بلاشبہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے اوراس سے بڑھ کر یہ کہ مجھے ان کے ساتھ بارہا ملاقاتوں کاشرف بھی حاصل ہوا۔ ان کے ساتھ مختلف مشاعروں اورتقریبات میں شرکت کی۔ان کے ساتھ مختلف شہرو ں کاسفر کیا اوردوران سفر بہت سی گفتگوکی۔

ان کے ساتھ طویل رفاقت کی بہت سی یادیں شاکر کی طرح میری یادداشت میں بھی موجود ہیں۔ جیسے شاکرحسین شاکرنے فراز صاحب کے ساتھ اپنی محبتوں کو ایک کتاب میں یکجا کردیا ہے اسی طرح میرے پاس بھی فراز صاحب کی یادوں کے حوالے سے ایک سے زیادہ مضامین موجود ہیں جومیری اپنی کتابوں اور مختلف رسائل وجرائد میں بکھرے پڑے ہیں۔ ان میں سے بعض مضامین ان کی زندگی میں ان کی موجودگی میں پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور ان کی وفات کے بعد بھی ایک سے زیادہ مضامین ان کی یادوں کے حوالے سے تحریر کیے گئے۔ احمد فراز کے حوالے سے میری یادوں کا سلسلہ 1980 سے شروع ہوتا ہے جب میں ان سے آٹوگراف لینے کے لیے میٹرک کے امتحان کے بعد اسلام آباد میں ان کے نیشنل سنٹروالے دفتر میں پہنچا تھا اورانہوں نے بہت محبت کے ساتھ میری آٹوگراف بک پرلکھا تھا:

یہاں پیہم قبیلے قتل ہوں گے

یہاں شوقِ عزاداری بہت ہے

پھراس کے بعد بہت سی تقریبات ہیں اور بہت سی محفلیں ہیں جو ملتان میں بھی منعقد ہوئیں۔ خانیوال، لودھراں اور ڈیرہ غازی خان میں بھی ان تقریبات کا انعقاد ہوا اورہم ان تقریبات میں فراز صاحب کے ساتھ شریک ہوئے۔ خانیوال کی ایک تقریب میں جب میں نے ’’نشیب میں رہنے والوں کا فراز‘‘ کے عنوان سے مضمون پڑھا اورجس میں مضمون میں احمد ندیم قاسمی صاحب کی ترقی پسندی کے حوالے سے بعض طنزیہ جملے بھی موجودتھے۔ فراز صاحب نے اپنی تقریر کے دوران قاسمی صاحب کے حوالے سے میری رائے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور فراز صاحب کے اس ردعمل کے بعد میں نے اس مضمون کو تقریب کے فوراً بعد تلف کردیا تھا ۔ فراز صاحب کے بارے میں میرا یہ واحد مضمون ہے جو کسی کتاب ، اخبار یارسالے میں شائع نہیں ہوا۔

اس کے بعد یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ ملتان پریس کلب کے پروگراموں میں ان کی شرکت اور بورے والا کی ایک تقریب کی یاد کہ جس میں شرکت کے لیے فراز صاحب مقررہ تاریخ سے پہلے ہی لاہور پہنچ گئے تھے۔ اور لاہور پہنچ کر جب انہوں نے شاکرحسین شاکر سے رابطہ کیا کہ محمود غزنی سے معلوم کریں کہ ان کا مشاعرہ کتنے بجے شروع ہوگا تو شاکر نے مجھے فون کیا اور کہا ’’ فراز صاحب وقت سے پہلے لاہور پہنچ چکے ہیں۔ مجھ میں توحوصلہ نہیں کہ میں انہیں یہ بتاؤں کہ بورے والا کا مشاعرہ آج نہیں اگلے ہفتے ہے۔ تم یہ تفصیل فراز صاحب کے گوش گزار کردو۔ ‘‘ میرا فون سننے کے بعد فراز صاحب نے میرے ساتھ جو سلوک کیا اور اس سلوک کو بعد ازاں میں نے شاکر حسین شاکر کی طرف جس طرح منتقل کیا، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ اس کہانی کوابھی رہنے دیتے ہیں۔

امجد اسلام امجد صاحب کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران میں نے اپنے مضمون میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا تھا کہ فراز صاحب کس طرح مختلف مواقع پر’’ سلیکٹڈ لوگوں‘‘ کو پہچان لیتے تھے۔ میں اور قمررضا شہزاد اس بات پربہت کڑھتے تھے کہ فراز صاحب نے رات کے مشاعرے میں تو ہمیں بہت کھل کرداد دی ۔ واپسی کے سفر میں بھی شاکر اور ڈاکٹر عمر کی موجودگی میں ہماری غزلوں کی تعریف کی لیکن اگلے ہی روز ایک محفل میں ہم نے جب گرم جوشی کے ساتھ فراز صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو ان کی آنکھوں میں وہی پرانی اجنبیت موجود تھی۔ لیکن یہ اجنبیت کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر عمر اور حامد رضا کو دیکھ کر فوراً ختم ہوگئی ۔ میں نے اس مضمون میں یہ بھی تفصیل سے بیان کیا تھا کہ فراز صاحب کی یادداشت کن لوگوں کو قبول کرتی اور کنہیں رد کردیتی تھی۔

یہ سب کچھ چونکہ پہلے تحریر کیا جاچکا ہے اس لیے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ شاکر حسین شاکر کی زیرِ نظر کتاب کے مطالعے نے مجھے اسی سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ یاد دلادیا جواس سے پہلے ضبط تحریر میں نہیں لا یاجاسکا۔ یہ واقعہ بھی فراز صاحب کی حیران کن یادداشت کے حوالے سے ہے۔ یہ کہانی دسمبر2005 کی ہے جب شیزان ہوٹل ملتان میں عزمی ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیراہتمام احمد فراز اور نامور مجسمہ ساز صادق علی شہزاد کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی تھی ۔ تقریب میں شرکت کے لیے احمد فراز کراچی کا مشاعرہ چھوڑ کرخاص طورپر ملتان آئے تھے۔ یہ تقریب اس لیے بھی اہمیت اختیار کرگئی کہ اس زمانے میں فراز صاحب کو نیشنل بک فاؤنڈیشن کی سربراہی سے ہٹایا گیا تھا اور اس کے بعد وہ پہلی بارملتان آرہے تھے۔ اسی تقریب میں انہوں نے کہا تھا کہ میں تو ملتان آنے کے بہانے ڈھونڈتا ہوں ۔ مجھے سرائیکی زبان اس لیے بہت پسند ہے کہ اس زبان میں بہت مٹھاس ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام سرائیکی ہی کے ایک جملے کے ساتھ کیا اورکہا مختلف ٹرکوں پرلکھا ہوا سرائیکی کا یہ جملہ مجھے بہت پسند ہے اور اسی جملے پر میں اپنی گفتگو ختم کرتاہوں۔ ’’پریشان نہ تھی میں ول آساں‘‘۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ تقریب میں جب فراز صاحب کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے ایک دوغزلیں سنانے کے بعد حاضرین سے کہاکہ نیا کلام مجھے زبانی یاد نہیں۔ میں آپ کو بیاض میں سے تازہ کلام سناتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر عمر کی جانب اشارہ کیا کہ میرے کمرے میں جائیں، سائیڈ ٹیبل پر فلا ں رنگ کی ڈائری موجود ہے وہ لے آئیں۔ ڈاکٹرعمراسی ہوٹل میں واقع فراز صاحب کے کمرے سے وہ ڈائری لے آئے جس کے بعد انہوں نے ڈائری میں سے تازہ کلام سنانا شروع کردیا۔ میں اس زمانے میں روزنامہ جنگ کا ادبی صفحہ مرتب کرتا تھا۔ میں نے فراز صاحب کی شاعری تیزی سے نوٹ کرنے کی کوشش کی لیکن میں صرف دو چاراشعار ہی نقل کرسکا۔ فراز صاحب نے بیاض میں سے بہت سی غزلیں سنائیں اور پھر بیاض ڈاکٹر عمر کے حوالے کردی کہ یہ دوبارہ میرے کمرے میں ہی رکھ آئیں۔ میں چونکہ غزلیں نوٹ نہیں کرسکا تھا اس لیے میں بیاض لینے کے لیے ڈاکٹر عمر کے پیچھے لپکا لیکن ڈاکٹر عمر اس دوران بیاض کمرے میں رکھ کر واپس آرہے تھے۔ ڈاکٹر عمر کو اپنا مسئلہ بیان کیا توانہوں نے کہا کہ رضی بھائی ، مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ یہاں سے فراز صاحب نے ڈنر میں شرکت کے لیے ابدالی روڈ پرواقع زینزی بار ہوٹل جانا ہے ۔ انہیں ڈاکٹراحمد فراز اورشگفتہ فراز ہوٹل میں لے کر جائیں گے اس دوران ہم فراز صاحب کی بیاض کی فوٹو کاپی کروالیں گے۔ رات گئے فوٹوکاپی بھی بمشکل تمام ہوئی اور فوٹو کاپی کے بعد ہم نے وہ بیاض واپس فراز صاحب کے کمرے میں رکھی اور ڈنر پر پہنچ گئے۔ اگلے روز جب جنگ اخبار کے لیے رپورٹ لکھتے وقت میں نے اس بیاض میں سے مطلوبہ غزلیں تلاش کرنا شروع کیں تو میری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ وہ غزلیں تو اس بیاض میں موجود ہی نہیں تھیں۔ شاید فراز صاحب نے حاضرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ کہاتھا کہ مجھے تازہ کلام زبانی یاد نہیں۔ میں بیاض میں سے دیکھ کر آپ کو غزلیں سناؤں گا۔ بیاض انہوں نے اپنے سامنے کھولی ضرور لیکن تازہ کلام انہیں زبانی ہی یاد تھا۔

شاکرحسین شاکرنے کمال یہ کیا کہ اپنی تحریروں اوریادوں کے حوالے سے پورے ایک عہد کو اس کتاب میں محفوظ کردیا۔ فراز صاحب کی بیاض ہی نہیں اوربہت سی تحریریں بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔ شاکر حسین شاکر نے فراز صاحب کے وہ تمام آٹوگراف بھی اس کتاب کا حصہ بنائے ہیں جو انہوں نے شاکرحسین شاکر کووقتا فوقتاً دیئے تھے۔ ان میں سے بیشتر آٹو گراف فرازصاحب نے اپنی کتابوں پر دیئے لیکن فائدہ یہ ہواکہ اس کے ذریعے وہ تواریخ محفوظ ہوگئیں جن میں فراز صاحب ملتان آئے تھے۔ یہ آٹو گراف شاکر حسین شاکر کے ساتھ فراز صاحب کی بے تکلفی اور بے پناہ محبت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ 12ستمبر 1999 کے آٹوگراف میں فراز صاحب نے لکھا ہے’’ شاکر کے لیے شکایتوں کے ساتھ ‘‘۔ یہ جملہ ہی شاکر کے ساتھ ان کی اپنائیت اور محبت ظاہر کرتا ہے۔

کتاب میں جومضامین شامل ہیں ان میں مختلف تقریبات کااحوال بیان کرتے ہوئے شاکر نے جو تفصیلات محفوظ کیں ان میں صرف احمد فراز ہی نہیں ہمارے عہدکا ملتان بھی محفوظ ہوگیا۔ بہت سی اہم تقریبات کی تاریخیں اورشرکا کے نام اس کتاب کے ذریعے دستاویز بن گئے ہیں۔ اسی طرح فراز صاحب کی زندگی اور یادوں کے حوالے سے کئی اور مضامین بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔ فراز صاحب کے چاہنے والے شاکرحسین شاکر کے ممنون رہیں گے کہ انہوں نے ان کے محبوب شاعر کی یادیں یکجا کردیں ۔ ایک ایسے شاعر کی یادیں جو مزاحمت کی علامت تھا۔ جوآزادی کے خواب دیکھتا تھا۔ جوانسانی حقوق کی بات کرتا تھا ۔ جو قلم کی حرمت پامال کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرتاتھا۔ جو بہت سے خواب دیکھتا تھا اور پھرمایوس ہو کرکہتا تھا :

فراز صحن چمن میں بہار کاموسم

نہ فیض دیکھ سکے تھے نہ ہم ہی دیکھیں گے

آج صحافت اور اظہاررائے پربے پنا ہ پابندیوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ فراز صاحب سچ ہی کہتے تھے۔