عدالت ملکی سیاسی منظر نامہ تبدیل نہیں کرسکتی

 ایک طرف انٹرا پارٹی انتخابات میں عمران خان نے تحریک انصاف کی سربراہی کے لیے اپنی جگہ گوہر علی خان کو نامزد  کیا ہے جس کے بعد یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ  کیا عمران خان سیاست سے علیحدگی کے سفر پر روانہ ہورہے ہیں۔ تو دوسری طرف انہوں نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک خط میں تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف نوٹس لینے اور احکامات جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

خبر کے مطابق عمران خان نے چیف جسٹس کو 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی خط لکھا ہے جس میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے ریاستی  سلوک، میڈیا پرپارٹی کے بلاک آؤٹ اور  انتخابی سرگرمیاں شروع کرنے میں رکاوٹوں کا  تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ پارٹی اور اس کے کارکنوں کے  ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک  آئین کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جسے کوئی عدالت قبول نہیں کرسکتی۔ اگر عدالت عظمی اس صورت حال کا نوٹس نہیں لیتی تو یہ عدالتی ذمہ داری سے گریز کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ  موجودہ حالات میں  عدالتی مداخلت کے بغیر ملک میں منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا، کیوں  کہ  تمام سرکاری ادارے ایک خاص  سیاسی پارٹی کو نشانہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

عمران خان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ  ملک میں طاقت ور حلقوں کی تائید سے   تحریک انصاف کے خلاف  بعض سیاسی  عناصرکی حمایت میں میدان ہموار کیا جارہا ہے۔ اس طریقہ کار سے صرف تحریک انصاف کے حامیوں میں ہی نہیں بلکہ عوام میں عام طور سے کراہت محسوس کی جارہی ہے۔ خط میں عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ  اس  ریاستی  ظلم کا نشانہ بننے والے اور فائدہ اٹھانے والے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں لیکن بعض طاقت ور  حلقوں کی  طرف سے   آئینی  تقاضوں کو پامال کرکے استحصالی طریقے اختیار کرنے  کا عفریت بدستور موجود رہا ہے۔

یہ  کہنا مشکل ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عمران خان کے خط کے رد  عمل میں سوموٹو اختیار استعمال کرنے کا اقدام کرکے کوئی حکم جاری کریں گے۔  کیوں کہ سپریم کورٹ سے موصول ہونے والے اشاروں سے  یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ  عدالتی لیڈر  ازخود نوٹس لینے  کا اختیار  استعمال کرنے  میں احتیاط سے کام لینا چاہتے ہیں۔  البتہ  تحریک انصاف کے چئیرمین کے اس خط سے یہ تو واضح  ہورہا ہے کہ عمران خان  کو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ  وقت کے ساتھ طاقت ور حلقوں کے دوست دشمن تبدیل  ہوجاتے ہیں لیکن یہ طاقتیں ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے ہمیشہ وہی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں جو عام طور سے آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتے۔  

کمزور بنیاد پر ایک مقدمہ میں سزا پاکر قید ہونے کے بعد، مسلسل حراست میں رکھے جانے کی وجہ سےعمران خان کو  اگر یہ احساس ہوچکا ہے کہ  جب ملکی نظام پر دسترس رکھنے والی طاقتیں کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کو نشان عبرت بنانا چاہتی ہیں تو اس کے لیے  قانون کو محض ہتھکنڈے کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔  ایسے میں  البتہ صرف طاقت ور حلقوں  یاعرف عام میں اسٹبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرا کر آگے بڑھنا ،  اس مسئلہ کا کوئی مناسب حل فراہم نہیں کرسکے گا۔ کیوں کہ اسٹبلیشمنٹ کو کسی بھی پارٹی کے خلاف  محاذ آرائی کرنے کا موقع اسی وقت ملتا ہے جب بعض سیاسی حلقے اس مہم جوئی میں اس کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس وقت تحریک انصاف نشانے پر ہے تو مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک دوسری اہم پارٹیاں خاموش رہنے یا اسٹلشمنٹ  کی بالواسطہ تائید کرنے کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عمران خان کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ اگر سیاسی پارٹیاں  اسٹبلشمنٹ کا ’ہتھیار ‘ نہ بنیں تو شاید اس کے لیے سیاسی بازی گری کا کھیل کھیلنا  ممکن نہیں ہوگا۔

ملک میں  متوازن اور شفاف سیاسی جمہوری عمل شروع کرنے  کے لیے سیاسی   قوتوں کے درمیان بہتر مواصلت اور اتفاق رائے ضروری ہے۔ عمران خان کو یاد ہوگا کہ  محض دو  اڑھائی سال پہلے ، وہ خود اسٹبلشمنٹ کے پسندیدہ لیڈر تھے اور اس حیثیت میں انہوں نے عسکری قیادت کو  صحت مند جمہوری  عمل پروان چڑھانے میں تعاون پر آمادہ  کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ بلکہ  وہ سمجھتے تھے کہ فوج کے ساتھ  سانجھ (ایک پیج کی سیاست) کو اہم سیاسی مخالفین  کو  نیچا دکھانے کے لیے استعمال کیا جایے۔ اسی حکمت عملی کے نتیجہ میں نواز شریف کے علاوہ تمام اہم سیاسی لیڈروں کو قید رکھا  گیا اور ان کے خلاف جھوٹے سچے مقدمے قائم ہوئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان مقدموں میں عدالتی فیصلے سامنے آنے سے پہلے ہی عمران خان نے پوری شدت سے مخالفین کو  ’چور لٹیرے‘ کہتے ہوئے قوم و ملک کا دشمن قرار دیا تھا۔  اسی طرح قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے ساتھ مواصلت و  احترام کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے  ایسے کسی اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت سے ہی انکار کیا کرتے تھے جس میں اپوزیشن لیڈر کے طو پر شہباز شریف بھی شریک ہوتے تھے۔

عمران خان فوج کے ساتھ اختلافات کی جس سطح پر اس وقت موجود ہیں، اس کا آغاز بھی درحقیقت اپوزیشن  کو نیست و  نابود کرکے اور مخالف لیڈروں  کو نشان عبرت بنا کر ملک پر آمرانہ طرز کی ایک پارٹی حکومت قائم کرنے کی خواہش سے ہؤا تھا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے  عمران خان کو  تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا  جسے عمران خان جنرل باجوہ کی غلط حکمت عملی سمجھا اور  اپنی مرضی  کے آئی ایس آئی سربراہ کے ذریعے ملک پر ایک خاص سیاسی منصوبہ مسلط کرنے کا ارادہ کرلیا۔   اسی لیے آئی ایس آئی کے پسندیدہ سربراہ کو تبدیل کرنے کے سوال پر پہلی بار عمران  باجوہ اختلاف سامنے آیا۔ حالانکہ اس سے پہلے جنرل باجوہ ہی کی نگرانی میں عمران خان  کو اقتدار میں لانے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا تھا۔   تحریک انصاف کے چئرمین نے چیف جسٹس کے نام  طاقت ور حلقوں کے تبدیل ہوتے دوست دشمن کا حوالہ دیا ہے کیوں کہ وہ خود اس پورے  عمل کا حصہ رہے ہیں۔ پہلے وہ فوج کے کاندھوں پر سوار ہوکر  وزیر اعظم بنے، پھر فوج ہی کے تعاون سے  اپوزیشن لیڈروں  کے لیے حالات کو مشکل کیا اور آخر میں طویل  مدت تک اقتدار پر قابض رہنے کا منصوبہ بنایا جس پر باہمی اختلاف پیدا ہؤا اور اپنے ہاتھوں سے  گھڑا ہؤا ’مسیحا‘ بالآخر معتوب ٹھہرا ۔ اپریل  2022 میں تحریک عدم اعتماد   نے اس اختلاف پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

اب  جن مشکلات سے نکلنے کے لے عمران خان سپریم کورٹ سے مدد مانگ رہے ہیں، انہیں پیدا کرنے میں خود ان کی  اپنی سیاسی غلطیوں، گھمنڈ اور  مقبولیت کے بے بنیاد گمان کا بھی  عمل دخل ہے۔ عدم اعتماد کے بعد انتخابات کے لیے دباؤ بڑھانے کی خاطر عمران خان نے قومی اسمبلی سے استعفے دے کر اپنی سیاسی پوزیشن کو پارلیمانی لیڈر سے احتجاجی لیڈر میں تبدیل کرلیا۔ رہی سہی کسر پنجاب اور خیبر پختو خوا کی حکومتیں توڑ کر پوری کرلی گئی۔ اس دوران انہوں نے انتخابات کے نام پر ایک بار پھر  اقتدار حاصل کرنے کے لیے جنرل  باجوہ سے  راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کی  لیکن   حوصلہ افزا پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ،  احتجاج اور فوجی قیادت پر الزام تراشی کا لامتناہی سلسلہ شروع کیاگیا۔  پارٹی کارکنوں کو فوج کے خلاف اس حد تک بھڑکا دیا گیا کہ وہ خود کو فوج کے مد مقابل فورس سمجھنے لگے اور کسی عسکری قوت کی طرح  عمران خان کی گرفتاری کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا گیا۔  اسی ماحول میں 9 مئی کا سانحہ رونما ہؤا۔

عمران  خان اس سانحہ کی سنگینی  کا اندازہ نہیں کرسکے۔ چیف جسٹس کو خط میں انہوں نے تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا حوالہ تو دیا ہے لیکن سانحہ 9 مئی کے حوالے سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی اور نہ ہی  اس روز ہونے والے واقعات سے دست برداری کا اعلان کیا ہے۔  حالانکہ عمران خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ چیف جسٹس اگر عمران خان کے خط پر کارروائی کرتے ہوئے کسی قسم کی تحقیقات کا حکم دیں گے تو سانحہ 9  مئی میں تحریک انصاف کی حکمت عملی، کردار اور شرکت کے بارے میں کلیدی سوالوں کا جواب بھی تلاش کرنا پڑے گا۔

اس روز ایک سیاسی پارٹی کے لیڈروں نے پرجوش کارکنوں کی مدد سے ملک کی عسکری قیادت کو چیلنج کیا اور  درون خانہ اپنے بعض ہمدردوں کے ذریعے فوجی قیادت کے خلاف بغاوت کے حالات پیدا کرنے کی  کوشش کی تاکہ عمران خان کے سیاسی مقاصد پورے ہوسکیں۔  کسی بھی سیاسی گروہ کی جانب سے یہ  ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ ملکی افواج کے خلاف اشتعال انگیزمحاذ آرائی کو کسی صورت  قبول نہیں کیا جاسکتا۔  اور نہ ہی فوج کے  ناجائز سیاسی کردار کو عذر بنا  کر عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ عمران خان  کو ضرور انصاف ملنا چاہئے اور تحریک انصاف کے خلاف ہونےوالی ماورائے قانون کارروائیاں بھی ختم ہونی چاہئیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم ہے کہ 9 مئی کے حوالے سے عمران خان اپنی غلطی کا اعتراف کریں، فوج اور قوم سے معافی مانگیں اور  اس روز حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو خوش دلی سے قبول کریں۔

تحریک انصاف اور اس کی قیادت  یہ مان رہی ہے کہ ملک کے طاقت ور  حلقوں کے پسندیدہ لیڈر تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ کل  تک عمران خان ہائیبرڈ نظام کی واحد امید تھے اور اب سرکش عناصر کو سزا دینے کے لیے شاید  نواز شریف  کی صلاحیتوں پر بھروسہ کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں جب  تک  ’پسندیدہ‘ ہونے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنے والے لیڈر اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل نہیں کریں گے، ملک میں حقیقی جمہوری نظام استوار نہیں ہوسکتا۔ یہ کام کسی عدالتی مداخلت سے ممکن نہیں ہوگا  بلکہ اس کے لیے سیاسی لیڈروں کو ایک دوسرے کے ماضی کو بھلا کر مل جل  کر  ایک جمہوری پاکستان کے لیے کام کرنا ہوگا۔ جہاں سب پارٹیاں  سیاسی منشور سے عوام کو قائل کرنے کی کوشش کریں لیکن ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد نفرت  پھیلانے کا گھناؤنا سلسلہ بند کیا جائے۔