عمران خان کے خلاف سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹس کے ترمیمی قانون کی کوئی شقات لاگو نہیں ہوں گی
اڈیالہ جیل میں جج ابواحسنات محمد ذوالقرنین کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے پیر تک ملتوی کر دی ہے۔
سماعت کے آغاز میں شاہ محمود قریشی نے عدالت سے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 یا 2023 کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے؟ ہمیں کبھی بھی سکیورٹی خدشات نہیں رہے۔ اکیلا گاڑی میں آتا جاتا رہا۔ ہمارے پروڈکشن آرڈر پر جیل انتظامیہ نے حکم عدولی کی۔
سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہماری ضمانت پر انتطامیہ نے ریکارڈ پیش نہ کیا۔ ہمیں اس کیس میں ٹرائل کرنے کی کوشش جاری ہے جس کا نہ سر ہے نہ پاؤں۔ صدر پاکستان بھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ترمیمی قانون سے انکار کرتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ صدر پاکستان کو عدالت طلب کیا جائے۔ وہ عدالت میں حلف دے کر بتائیں انہوں نے یہ ترمیم منظور کی یا نہیں۔
اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ میڈیا اور پبلک آج موجود ہے۔ آپ کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت پیش نہیں کیا گیا۔ آپ اور چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل الگ نہیں ہو سکتا۔ یہ کیس انٹر لنکڈ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپ پر عارف علوی والے ترمیمی قانون کی کوئی شق لاگو نہیں ہوگی۔ آپ کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق نو اور پانچ کے تحت ہو گا۔ ہم میرٹ پر کارروائی کریں گے۔
خیال رہے کہ سائفر گمشدگی کے مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعہ پانچ اور نو کی خلاف ورزی کا الزام ہے جو کہ سٹیٹ سیکرٹس کے بارے میں ہیں۔ سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے بطور وزیراعظم اس معاملے کی انکوائری کا آرڈر دیا تھا اور اس میں جو لوگ ملوث ہیں وہ طاقتور ہیں۔ انہیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اللہ کے سوا مجھے کسی کا ڈر نہیں۔ ہمیں بکریوں کی طرح بند کر دیا گیا، نواز شریف کو وہاں سے یہاں لے آئے۔‘
جیل میں عدالتی سماعت پر وکیل انتظار پنجوتھہ نے اعتراض کیا تو عدالت نے انہیں روک دیا۔