یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا؟
- تحریر مظہر چوہدری
- ہفتہ 02 / دسمبر / 2023
کہتے ہیں کہ ایک محفل جس میں فیض احمد فیض بھی موجود تھے، باتیں ہو رہی تھیں کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ کسی نے کہا انارکی ہو جائے گی، کسی کے خیال میں بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوگا اور کچھ نے ملک کے مزید ٹوٹ جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ایسے میں فیض صاحب کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ"بھئی! میرے خیال میں اس سے بھی برا ہوگا۔ " سب نے حیران ہو کر پوچھا کہ وہ کیسے؟ فیض صاحب نے جواب دیا کہ "مجھے ڈر ہے کہ یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔"
آج فیض صاحب کو رخصت ہوئے 40برس ہونے کو ہیں لیکن یہ ملک اسی طرح چل رہا ہے جس کا خدشہ فیض صاحب نے ظاہر کیا تھا۔کہتے ہیں قوموں کی زندگی میں آزادی کے پہلے پچاس سال بڑے اہم ہوتے ہیں۔جن قوموں نے ترقی کرنی ہو، وہ یا تو پہلے پچاس سال میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہیں یا پھر کم ازکم وہ روڑ میپ ضرور بنا لیتی ہیں جو انہیں ترقی و خوش حالی کی منزل پر چند سالوں میں لے جانے میں معاون ومددگار ثابت ہوتاہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم آزادی کے 76 سالوں بعد بھی نہ تو سماجی ومعاشی ترقی کا روڑ میپ ہی بنا سکے اور نہ ہی ہم جمہوری و سول بالادستی کی منزل کی طرف قابل ذکر پیش رفت کر پائے۔ماضی کی نسبت اگرچہ اب پانچ سال بعد الیکشن کرانے کا اہتمام کر لیا جاتا ہے لیکن 76برسوں میں ابھی تک کسی ایک بھی وزیراعظم کو اس کی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
زیادہ پیچھے نہ جائیں فیض صاحب کی رخصتی کے بعد کے 39 سالوں پر سرسری نگاہ دوڑا کے دیکھ لیں تو پتہ چل جائے گا کہ ہم سیاسی اورمعاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی بجائے دائرے میں چکر لگائے جا رہے ہیں۔ضیا آمریت کے سیاہ بادل چھٹنے کے بعد جمہوری و عوامی حلقوں کو توقع تو یہی تھی کہ اب ملک کسی اور مطلق العنان آمر یت کی بھینٹ نہیں چڑھے گا لیکن ملک میں جمہوری نظام حکومت محض 11برس ہی چل پایا تھا کہ اگلے نو سال کے لیے ایک اور آمریت مسلط کر دی گئی۔1988سے لے کر1999کے گیارہ سالوں میں چار منتخب حکومتوں کو قبل از وقت ختم کر واکے سیاست کو گالی اور سیاستدانوں کو کرپٹ قرار دلوایا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عرصے میں قائم ہونے والی حکومتوں نے محاذ آرائی اور الزامات پر مبنی منفی سیاست بھی کی لیکن 58ٹوبی کے آمرانہ کلہاڑے سے منتخب حکومتوں کو قبل از وقت گھر بھیجنا، سیاسی حکومتوں کی منفی سیاست اور نااہلی سے بھی بڑا جرم ٹھہرتا ہے۔ 88سے لے کر96تک بظاہر تو پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت حکومتیں چلائی جاتی رہیں لیکن جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس عرصے میں مقتدر حلقوں نے 58ٹوبی کے زریعے کنڑولڈ جمہوریت کا کامیاب تجربہ کیا۔1997میں نواز شریف نے تیرہویں ترمیم کے زریعے 58ٹوبی کا خاتمہ کرتے ہوئے 73کے آئین کی پارلیمانی شکل کو کافی حد تک بحال کر دیا لیکن مشرف مارشل لا کے دوران پاس ہونے والی سترہویں ترمیم نے صدر پاکستان کے اختیارات کو جزوی طور پر بحال کر دیا۔اگرچہ2010میں آصف علی زرداری نے اٹھارویں ترمیم کے زریعے صدر کے پاس تمام ایگزیکٹیو اختیارات پارلیمان کو دے دیے لیکن ملک کے سیاسی و انتخابی نظام پر مقتدر حلقوں کی گرفت بدستور مضبوط رہی۔
2008اور2013میں بننے والی حکومتوں کے یکے بعد دیگرے اپنی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملی کہ اب کم ازکم ہر حکومت اپنی مدت ضرور پوری کرے گی لیکن اپریل2022میں عدم اعتماد کے زریعے عمران حکومت کے خاتمے کے بعد ایسے لگا کہ ہم تھوڑا عرصہ قدرے بہتر انداز میں آگے کی سمت میں چلنے کے بعد پھر سے نوے کی دہائی کے محاذ آرائی پر مبنی سیاسی ماحول میں پہنچ گئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نوے کی دہائی میں اس وقت کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو آپس میں گتھم گتھا رکھنے کا ماحول بنایا گیا تھا جب کہ گزشتہ دہائی سے ایک اور بڑی سیاسی جماعت کو دیگر جماعتوں خاص طور پر نوے کی دہائی کی بڑی جماعتوں سے الجھائے رکھنے کا اہتمام کیا گیا۔ ہوا دراصل یہ کہ جب نوے کی دہائی میں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہنے والی جماعتوں نے ماضی سے سیکھتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے اور ایک دوسرے کی حکومت نہ گرانے کا مصمم ارادہ کر لیا تو نوے کی دہائی کی سیاست کو زندہ کرنے کے لیے ایک تیسری جماعت کو آگے لایا گیا۔2008اور 2013میں بننے والی پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی حکومتوں نے اگر اپنی اپنی مدت پوری کی تو اس میں سب سے اہم کردار ان حکومتوں میں حزب اختلاف کا کردار نبھانے والی سیاسی جماعت کا ہی تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے برعکس (ن) لیگ حکومت کے گرائے جانے کے واضح امکانات تھے لیکن تمام تر احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے باوجود اگر (ن) لیگ حکومت نے مدت پوری کی تو اس کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کی ذمہ دارانہ اپوزیشن کو جاتا ہے۔
اگرچہ عمران حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا لیکن زیادہ بہتر یہی ہوتا کہ سابقہ دو حکومتوں کی طرح عمران حکومت بھی اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جاتی۔ کوئی شک نہیں کہ عدم اعتماد آئینی حق تھا لیکن محاذ آرائی کی شکارہماری سیاست میں عدم اعتماد نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیااور حالات نوے کی دہائی سے بھی زیادہ کشیدہ ہوتے چلے گئے۔عدم اعتماد کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عمران حکومت میں سامنے آنے والا معاشی بحرا ن عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے شدیدسے شدید ہوتا چلا گیا۔عدم اعتماد کے بعد عمران خان کا غم وغصہ اپنی جگہ بجا تھا کہ لانے والوں نے عمران خان کو یقین دلایا تھا کہ وہ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے والے ملک کے پہلے وزیراعظم کا اعزاز حاصل کریں گے لیکن ہوا یہ کہ وہ عدم اعتماد کے زریعے ہٹائے جانے والے ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔مکافات عمل کہہ لیں یا مقتدر قوتوں کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے والی سیاست کا منطقی نتیجہ کہ جس طرح عمران خان کی خواہش پر نواز شریف اور (ن) لیگ کو دیوار سے لگایا گیا، بالکل اسی طرح آج نواز شریف کی خواہش پرعمران خان اور ان کی جماعت کو نکڑے لگانے کے انتظامات کیے جا چکے ہیں۔
حرف آخر یہی کہ جب تک سیاسی جماعتیں اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہو کر ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے یا اسٹبلشمنٹ کے سہارے اقتدار میں آنے کا سلسلہ جاری رکھیں گی یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا۔