ہمارے لحن میں عاشق پرانے بولتے ہیں!
- تحریر عطاالحق قاسمی
- ہفتہ 02 / دسمبر / 2023
مجھے اب صحیح طرح یاد نہیں کہ اقتدار جاوید سے میری پہلی ملاقات کب اور کیوں ہوئی تھی۔ مگر یہ ضرور یاد ہے کہ جب ملاقاتیں شروع ہوئیں تو ہوتی چلی گئیں۔ اقتدار جاوید کو پہلی، دوسری اور تیسری ملاقات میں سمجھنا ممکن نہیں، اس کیلئے ان سے پے در پے ملاقات ضروری ہے۔
اسے میری جہالت کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا کہ میں انہیں صرف اردو کا شاعر سمجھتا تھا مگر ان کی شخصیت کی پرتیں ایک ایک کرکے کھلتی چلی گئیں اور پتہ چلا کہ وہ اردو کے علاوہ پنجابی کے بھی صاحب دیوان شاعر ہیں۔ مختلف زبانوں کی شاعری کے تراجم بھی کر چکے ہیں، بہت عمدہ تنقید نگار بھی ہیں، کالم نگار بھی ہیں، دینیات بھی ان کی خصوصی بیٹھک ہے۔ فارسی ادب سے بھی گہرا لگاؤ ہے۔ ان کی غزل بھی خوبصورت ہے اور نظم پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔
اگر تھوڑی بہت لبرٹی لی جائے تو انہیں سجادہ نشین بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان کے والد ماجد مائل بہ تصوف تھے اور ہر سال ان کا باقاعدہ عرس ہوتا ہے۔ قبلہ شاعر تھے ان کی لوک شاعری آج بھی ان کے فیوض کی طرح زندہ و پائند ہ ہے۔ میری طرح اقتدار جاوید میں بھی نظریات کے تضاد موجود ہیں۔ میں بہت مذہبی بھی ہوں اور اس کے ساتھ تشکیک کا شکار بھی، مگر اقتدار جاوید کا معاملہ:
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی
والا ہے۔ دوستی کیلئے ہم خیال ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ ہم دونوں کے سیاسی نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کا جھکاؤ جس سیاسی پارٹی کے نظریات کی طرف ہے، اس سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ’مغز ماری‘‘ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ مگر اقتدار جاوید میں مکالمہ کرنے کی صلاحیت موجود ہےمگر ہم دونوں احتیاطاً حتی الوسع اس سے گریزکرتے ہیں۔
احترام کے حوالے سے یہ بھی بتاتا چلوں کہ برادر میرے جیسے معمولی شخص کا بھی اتنا احترام کرتے ہیں کہ میں بھی خود کو محترم سمجھنے لگتا ہوں۔ ان کا ایک خوبصورت جملہ ہے کہ ’میں کبھی کعبہ کی طرف پیٹھ کرکے نہیں بیٹھتا‘۔ آپ صرف شاعر، نقاد، مترجم اور بہت سے دوسرے علوم سے وابستہ ہونے کے باوجود محفلوں میں منہ ٹیڑھا کرکے نہیں بیٹھتے۔ ورنہ میں نے دیکھا ہے کہ کوئی چار کتابیں پڑھ لے اور دو لفظ لکھ لے، وہ محفل میں ’بُسے ہوئے کریلے‘ کی طرح منہ بنا کر بیٹھا نظر آتا ہے۔
اقتدار جاوید بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی تمام تر محبتیں صرف اہل بیت کیلئے ہیں۔ برادر نے بہت لاجواب مرثیے بھی کہے ہیں اور غالباً یہ مرثیے کتابی صورت میں سامنے آنے والے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے یہ دو جلدوں میں سما سکیں۔ میں ایک اور بات بتاتا چلوں کہ موصوف صرف ’منہ زبانی‘ مذہبی نہیں بلکہ پانچوں نمازوں کے علاوہ تہجد بھی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ مجھ سے گلہ کریں کہ میں ان کے اور اللہ کے درمیان جو تعلق ہے اسے بیان میں کیوں لایا، مگر کیا اس خاکہ نگاری کی پیروی ضروری ہے جس میں ’مخکوک‘ کی کردار کشی کو کردار نگاری کا نام دیا جاتا ہے۔ اقتدار جاوید میری طرح فربہ اندام ہیں۔ ہنستے ہیں تو ان کا پورا جسم اس ہنسی میں شریک ہوتا ہے اور ہاں برادر اور مجھ میں ایک قدرِ مشترک بھی ہے اور وہ یہ کہ ہم دونوں ظفر اقبال کو اس دور کا بہت بڑا شاعر مانتے ہیں۔
آج مجھے اقتدار جاوید کی یاد یوں آئی کہ حال ہی میں ان کا نیا شعری مجموعہ ’ہیکل‘ کے عنوان سے منصہ شہود پر آیا ہے۔ میں نے انہیں آج تک جتنا پڑھا تھا اس سے مجھے سمجھ آگئی تھی کہ یہ ذرا وکھری ٹائپ کا شاعر ہے۔ اس کی لفظیات بھی مختلف ہیں اور مضامین بھی عام ڈگر سے ہٹ کر ہیں۔ چنانچہ ’ہیکل‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے لگا کہ میرا اندازہ صحیح تھا۔ کاش میں نقاد ہوتا اور بھاری بھرکم الفاظ کے استعمال سے قاری کو اقتدار جاوید کی شاعری اور اپنی علمیت سے متاثر کرسکتا۔ مگر میں کیا کروں میں ایک سیدھا سادہ شریف النفس انسان ہوں، چنانچہ صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ شاعری عام اور دستیاب اردو غزل سے الگ ہے اور اہم تخلیقی تجربہ ہے۔ ’ہیکل‘ کی غزل ایسا اسلوب بنانے میں کامیاب ہوئی ہے جو اقتدار جاوید کو کسی خاص لمحے میں قدرت سے عطا ہوئی ہے۔
ایسی تخلیقی عطا پر شاعر کو شکرگزار ہونا چاہیے کہ یہی شکر گزاری تخلیقی سوتے خشک نہیں ہونے دیتی۔ ’ہیکل‘ ایک الگ جہان ہے بلکہ جہانِ شاعری ہے۔ اس شاعری میں کئی کہکشائیں آباد ہیں۔ اور آخر میں اقتدار جاوید کی ایک غزل:
شجر کی شاخ پر جیسے گھرانے بولتے ہیں
پرندے بولتے ہیں آشیانے بولتے ہیں
جنم لیتی چلی جاتی ہیں ناآسودہ شکلیں
ہمارے لحن میں عاشق پرانے بولتے ہیں
گلی کے موڑ پر گہرے اندھیرے میں، پرانے
گھروندے بات کرتے ہیں زمانے بولتے ہیں
سدا آباد رہنے ہیں ہمارے باپ دادا
مزاروں پر ہے رونق پیر خانے بولتے ہیں
یہاں محفوظ ہیں ہر شکل کی عبرت سرائیں
یہاں آنکھیں نہیں آنکھوں کے آئنے بولتے ہیں
یہاں تو ایک سینہ ہے جہاں ہوتی ہے ٹک ٹک
زمینوں کی تہوں اندر خزانے بولتے ہیں
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)