حکومتی اداروں کی اونرشپ اینڈ مینجمنٹ پالیسی 2023

کوئی بھی قرض خوا ہ یعنی قرض دینے والا، اپنے قرض دار سے صرف ایک توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کی قرض و سود کی واپسی کے قابل رہے یعنی قرضہ دینے والے کو اس وقت تک اپنی رقم کی واپسی کا یقین رہتا ہے جب تک قرض دار زندہ سلامت اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔

یہ ایک عمومی اصول ہے اور آئی ایم ایف بھی اسی اصول پر پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات طے کرتا رہتا ہے۔ ہم آئی ایم ایف کو انتہائی ظالم تصور کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں یعنی ہماری حکومت کو کہتا ہے کہ اخراجات میں کمی کریں اور ٹیکسوں کی آمدنی میں اضافہ کریں تاکہ اسے اپنا سود اور قرض کی قسط واپس مل سکے۔ اس اصول کے تحت وہ ہمیں آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ ایسے اقدامات کے نتیجے میں جو کچھ بچت ہوتی ہے وہ ہمارے پاس ہی رہتی ہے، ہمارے کام آتی ہے۔ ہم کیونکہ اپنی آمدنی اور خرچ کے درمیان توازن قائم نہیں رکھ پا رہے ہیں، ہمارے غیر ضروری اخراجات بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور اس کے مقابل آمدنی اس حساب سے بڑھ نہیں پاتی ۔نتیجتاً ہمارا بجٹ خسارہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہم اپنے ذمے قرض کی قسط اور سود کی ادائیگیاں کرنے سے بھی قاصر ہوتے چلے گئے ہیں۔ اس لئے ہمارا قرض خواہ یعنی آئی ایم ایف ہمارے معاملات میں دخیل ہوتا چلا جا رہا ہے ۔اس کی رقم خطرے میں ہے، اس لئے وہ اس کی ریکوری کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ ہمارے معاملات درست کرنے کے لئے ہمیں مشورے نہیں بلکہ احکامات دے رہا ہے۔ ہم ہر وقت کیونکہ اس کی قرض کی رقم کے مرہونِ منت ہوتے ہیں اس لئے اس کی تجاویز کو حکم کے طور پر ماننا ہماری مجبوری بن چکا ہے۔

ویسے بات تو سچ ہے کہ جو ادارے، محکمے حکومت نے آمدنی حاصل کرنے کے لئے بنائے تھے انہیں قائم رکھنے کے لئے حکومت کو اربوں روپے سالانہ ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ پی آئی اے ہو یا سٹیل ملز، ریلوے ہو یا ایسے ہی دیگر کاروباری ادارے، یہ تو حکومتی آمدنی کا ذریعہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ کاروباری ادارے ہیں لیکن حکومت ان اداروں کو قائم رکھنے کے لئے ہر سال اربوں روپے دیتی ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک غیر ضروری خرچ ہے اب اگر آئی ایم ایف کہتا ہے کہ ایسے اداروں پر خرچ کرنا بند کرو، ان اداروں کی ری سٹرکچرنگ کرو، ای ویمپنگ کرو انہیں منافع بخش بنانے کی ترکیب استعمال کرو تو یہ بُری بات تو نہیں ہے۔ آئی ایم ایف ایک عرصے سے ایسا کرنے کو کہہ رہا تھا لیکن ہمارے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی تھی، اس لئے اب اس نے عملی اقدامات حکماً نافذ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

 ہر سہ ماہی ریویو کے دوران آئی ایم ایف ایسے عملی اقدامات نافذ کرنے کا حکم دیتا ہے اور پھران پر عملدرآمد بھی یقینی بناتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر چار صدارتی آرڈیننس جاری کر دیئے گئے ہیں جن کے مطابق ریڈیو پاکستان، این ایچ اے، پاکستان شپنگ کارپوریشن اور پوسٹل سروسز سے سرکاری چھتری ہٹانے کا صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق اب یہ ادارے خود مختیار بورڈ کے تحت چلیں گے جن کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو الگ الگ ہوں گے۔ بورڈر میں آزاد ممبران کا تقرر کیا جائے گا، کارکردگی رپورٹ مانیٹرنگ یونٹ کو بھجوائی جائے گی اور بورڈز اینٹی محکمانہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

وزارت خزانہ نے اس حوالے سے حکومتی اداروں کی اونرشپ اینڈمینجمنٹ پالیسی 2023 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ لاریب یہ ایک انقلابی قدم ہے یہ نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہمارے اپنے لئے بھی انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنے خزانے پر پڑنے والے ناجائز بوجھ کو کم کریں وگرنہ معاملات مخدوش ہو چکے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سرکاری پیداواری و کاروباری ادارے مطلوبہ نتائج ظاہر کیوں نہیں کرتے ہیں؟ کیا یہ نالائقی ہے یا بدعملی کا مظاہرہ کہ نجی شعبے میں ایسے کاروباری ادارے دن دگنی و رات چوگنی ترقی کررہے ہیں۔ عوام کو سروسز فراہم کرکے دھڑا دھڑ منافع کما رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس اس قدر وسیع نیٹ ورک اور افرادی قوت بھی موجود نہیں ہوتی ہے جو سرکاری محکموں کے پاس ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ نفع اندوزی کرتے ہیں پھر سرکاری ادارے ایسا کیوں نہیں کر پاتے۔ پوسٹل سروسز کو لے لیں اس کے پاس جس قدر وسیع نیٹ ورک اور دیگر ضروری انسانی وسائل دستیاب ہیں، کوئی نجی ادارہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ انگریزوں نے اس محکمے کو جدید ترین بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ اس محکمے کے پاس گاہکوں کی بھی کمی نہیں ہے، اس کے باوجود یہ خسارے میں ہے تو اس کی یقیناً حقیقی وجوہات ہوں گی جن کا تدارک ضروری ہے۔

اب ریڈیو پاکستان کو ہی لے لیں اس کے پاس ملک گیر سطح پر جو نیٹ ورک ہے جو عمارات ہیں، جو  آلات ہیں اور سب سے اہم جو تجربہ کار افرادی قوت ہے، ان سب مثبت عوامل کی موجودگی میں یہ محکمہ اگر اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ ہمیں اس کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی۔ وگرنہ یہ محکمہ مکمل طور پر تباہی و بربادی کے دہانے تک پہنچ چکا ہے ۔اربوں نہیں کھربوں کے اثاثہ جات ہونے کے باوجود اگر محکمہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن وغیرہ دینے سے قاصر نظر آتا ہے تو اس کی وجوہات تلاش کرنا ضروری ہے۔ وگرنہ سرکاری ادارے مکمل تباہی کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ہمیں ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)