انتخابات کو مشکوک بنانا قومی مفاد کے خلاف ہوگا
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 02 / دسمبر / 2023
بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائد نواز شریف کو نشانے پر لیا ہے اور کہا کہ بادشاہوں کی طرح واپس آکر انتخاب جیتنے کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ ’نواز شریف انتظامیہ کی مدد سے انتخاب جیتنے کی کوشش کرنے کی بجائے، اپنے سیاسی منشور کی بنیاد پر انتخاب میں حصہ لیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب، ووٹ کو عزت دلوائیں ، اسے رسوا نہ کریں۔
پیپلز پارٹی کے چئیرمین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی ہی وہ واحد جماعت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔ وقت آگیا ہے منفی سیاست کی بجائے مثبت سیاست شروع کی جائے۔ اس حد تک بلاول بھٹو زرداری کے خیالات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ منصفانہ و شفاف انتخابات کے حوالے سے کوئی بھی مشورہ درست اور جائز ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ سب پارٹیاں ہی منصفانہ انتخابات کی بات کرتی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کو اس حوالے سے تخصیص حاصل نہیں ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں تواتر سے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ باقی پارٹیوں کی طرف سے شاید یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ انتخابات شفاف ہی ہوں گے۔ انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والی دوسری اہم پارٹی تحریک انصاف ہے۔ تاہم اسے اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے اہم قائدین زیر حراست ہیں اور متعدد لیڈروں کو ضمانت ہوجانے کے بعد بھی رہا نہیں کیا جاتا بلکہ کسی دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
عمران خان نے اس حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک خظ میں تفصیلات بتائی ہیں۔ البتہ سپریم کورٹ کی طرف سے آج ہی جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس اپنی آئینی ذمہ داریوں اور حلف کی حساسیت سے آگاہ ہیں۔ وہ تمام اقدامات قانون و آئین کے مطابق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جیسے عمران خان کا مکتوب باقاعدہ درخواست نہیں تھی بلکہ چیف جسٹس سے شق 184 (3) کے تحت کارروائی کی توقع کی گئی تھی تاکہ موجودہ حالات میں پارٹی کو ریلیف مل سکے، اسی طرح سپریم کورٹ نے بھی اس خط پر کوئی عدالتی حکم صادر کرنے سے گریز کیا ہے اور ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ عدالتیں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتی رہیں گی۔ یہ یقین دہانی عام شہریوں کے لئے تو کافی ہوسکتی ہے لیکن ریاستی عتاب کا نشانہ بننے والی پارٹی کو اس میں کوئی ریلیف دکھائی نہیں دے گا۔
تحریک انصاف کی غلطیوں اور ناروا سیاسی ہتھکنڈوں سے قطع نظر، اس سوال پر بیشتر حلقوں کی طرف سے پریشانی و تشویش کا اظہار دیکھنے میں آیا ہے کہ موجودہ حالات میں 8 فروری کو منعقد 2024 ہونے والے انتخابات کو کیوں کر غیر جانبدارانہ اور منصفانہ کہاجائے گا۔ کیوں کہ ایک بڑی سیاسی پارٹی جو گزشتہ سال اپریل تک اقتدار میں تھی، اسے مسلسل زچ کرنے کی صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ گرفتاریوں اور مقدموں کے علاوہ تحریک انصاف یہ شکایت بھی کررہی ہے کہ اسے سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے اور انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ نگران حکومت یا الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے کوئی باعث اطمینان اعلان کرنا ضروری نہیں سمجھا بلکہ تحریک انصاف کو بیٹ کا نشان دینے کے لئے پارٹی کے سابقہ انتخابات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا اور 20 دن کے اندر نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا گیا۔
آج تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی یہ شرط پوری کرتے ہوئے نئے انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ہیں اور احتیاطی تدبیر کے طور پر عمران خان کی بجائے ان کے نمائیندے بیرسٹر گوہر علی خان کو پارٹی کا چئیر مین منتخب کیا گیا ہے۔ میڈیا میں ان انتخابات کے حوالے سے جو خبر شائع ہوئی ہے، اس کی روشنی میں یہ انتخاب بظاہر مذاق ہی معلوم ہوتے ہیں لیکن ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں میں اسی طریقے سے لیڈر چنے جاتے ہیں اور الیکشن کمیشن یا کوئی دوسرا اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ اسی لیے ہر پارٹی میں چند شخصیات یا گھرانوں کاکنٹرول ہے، جو باقاعدہ اور جمہوری نظام کے تحت منعقد ہونے والے پارٹی انتخابات میں قائم رکھنا شاید مشکل ہوجائے۔
اس صورت حال میں الیکشن کمیشن کو خاص طور سے تحریک انصاف کو ’نشانہ‘ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ تحریک انصاف کو بیٹ کا انتخابی نشان بھی دیا جائے اور پارٹی کی ان شکایات پر بھی شنوائی ہونی چاہئے کہ اسے انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں دیا جارہا۔ یہ شکایات اگر بعد میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتی ہیں یا انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے کی بنیاد بنتی ہیں تو یہ ملکی سیاست اور مفادات کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن کو یقینی بنانا چاہئے کہ کسی ایک پارٹی کومحض اس لیے مشکلات کا سامنا نہ ہو کہ ملکی اسٹبلشمنٹ اس کے خلاف ہے یا اس پر 9 مئی کو عسکری تنصیبات و شہدا کی یادگاروں پر حملے کرنے کا الزام عائد ہے۔ نگران حکومت کی طرح الیکشن کمیشن کو بھی اس معاملے میں غیر جانبدار ہونا چاہئے اور شفاف و منصفانہ انتخابات کے لیے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کرنی چاہئے۔ یہ تو مانا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تمام تر نیک نیتی اور اقدامات کے باوجود کچھ عناصر بہر صورت شکایت کریں گے۔ تاہم الیکشن کمیشن ابھی تک شفاف انتخابات کے انعقاد کے بارے میں متحرک دکھائی نہیں دیا۔ یہ تساہل اور نظر بظاہر تحریک انصاف کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی صورت حال ، الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کرے گی۔
انتخابات کے انعقاد میں ابھی دو ماہ کی مدت باقی ہے، اس لیے اب بھی الیکشن کمیشن کے پاس وقت ہے کہ وہ دو باتوں کو یقینی بنانے کا اعلان و اقدام کرے:
ایک: واضح کیا جائے کہ کسی ایک پارٹی کو نہ تو انتخابات میں خصوصی سلوک کا مستحق سمجھا جائے گا اور نہ ہی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک روا رکھا جائے گا۔ اس حوالے سے کمیشن صوبائی و مرکزی حکومت کو خصوصی ہدایات بھی دے سکتا ہے۔
دوئم: ملک میں ان افواہوں کے بعد کہ معاشی منصوبوں کے پیش نظر شاید انتخابات میں مزید چند ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرے کہ سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے اور اب الیکشن کمیشن انتخابات میں مزید تاخیر کا اقدام نہیں کرے گا۔ خاص طور سے انتخابات کے التوا کے لیے الیکشن کمیشن میں دائر کی درخواستوں کے بعد ایسا اعلان بے حد ضروری ہوگیا ہے۔ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن ایسی درخواستوں پر خاموشی اختیار کرے اور انہیں فوری طور سے مسترد کرنے کا اعلان کرکے اپنی پوزیشن ، غیر جانبداری اور ادارہ جاتی وقار کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش نہ کرے۔
اگر تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات پر شبہات کا جواز موجد ہے تو پیپلز پارٹی کی طرف سے ایسے اعلانات ، سیاسی و انتخابی ہتھکنڈے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ بلاول بھٹو زرداری ’لیول پلئینگ فیلڈ‘ کے نام پر پرجوش بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو کسی طرح ووٹروں کو متوجہ کیا جاسکے اور انتخابات میں کچھ اضافی کامیابی کی امید کی جائے۔ دوسرے انتخابات کے بعد جب اعلانات اور بلند بانگ دعوؤں کے باوجود پیپلز پارٹی اگر قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہ کرسکی تو انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچاکر سیاسی مقدمہ بنانے کی کوشش کی جاسکے۔
تاہم انتخابات کے بعد ملک کو لازمی استحکام کی طرف جانا چاہئے اور تمام سیاسی عناصر کو مل کر اس بارے میں کوشش کرنی چاہئے۔ انتخابات کو ایک بار پھر احتجاج اور انتشار کا عذر نہ بنایا جائے کیوں کہ ایسے کسی اقدام سے نہ تو کسی ایک گروہ کو فائدہ ہوگا اور نہ ہی ملک کو موجودہ بحران سے نکالنا ممکن ہوگا۔ سب سیاسی پارٹیوں کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی سیاست ملک کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ اگر ان کے ہتھکنڈوں یا خواہشات کی وجہ سے ملکی سالمیت و مفادات کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا براہ راست نقصان پاکستانی عوام اور ان کی نمائیندگی کا دعویٰ کرنے والے لیڈروں ہی کو ہوگا۔ پاکستان تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جس میں ہر پارٹی، ادارے اور افراد کو پوری ذمہ داری اور دیانتداری سے وسیع تر قومی مفاد کو ہی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ ایک بار ملک معاشی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا تو گروہی یا پارٹی کی بنیاد پر مہم جوئی کا موقع بھی مل جائے گا۔ البتہ اگر بے وقت کی کھینچا تانی میں ملک کو نقصان پہنچایا گیا تو پچھتانے اور الزم تراشی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اسی لیے سب پارٹیوں کو انتخابی حکمت عملی بناتے ہوئے موجودہ حالات کی حساسیت کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔
یہی وجہ کہ الیکشن کمیشن، نگران حکومتوں اور دیگر ریاستی اداروں سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ کوئی ایسا غیر ضروری اقدام کرنے سے گریز کیا جائے جس سے انتخابات کے بارے میں شبہات پیدا ہوں یا یہ تاثر قوی ہو کہ بعض خفیہ طاقتیں کسی ایک پارٹی کو کامیاب کروانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ایسی کسی کوشش سے کوئی بڑا مقصد تو حاصل نہیں ہوگا لیکن انتخابات ملتوی کروانے یا ان کے بارے میں شبہات سے ملکی مفاد کے خلاف سرگرم عناصر ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں۔ البتہ سب کو مل کر کوشش کرنی چاہئے کہ اس بار یہ داغ ہمیشہ کے لیے مٹا دیا جائے۔ اسی طرح اسٹبلشمنٹ، الیکشن کمیشن، نگران حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں سرخرو ہوسکیں گی۔
یہ اشارے سامنے آتے رہے ہیں اور زمینی حقائق بھی یہی کہتے ہیں کہ انتخابات میں کسی ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے مقبولیت کے بلند بانگ دعوے تو ٹھیک ہیں لیکن کسی کو بھی ایسے دعوؤں کو حقیقت مان لینے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ ذہنی طور سے انتخابات کے بعد وسیع البنیاد حکومت قائم کرکے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ملک کو موجودہ مسائل سے نکالنے کا مشن پورا کرنا چاہئے۔