چلاس میں بس پر فائرنگ کے ملزمان گرفتار
دیامر پولیس نے گزشتہ روز گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں اسلام آباد جانے والی بس پر حملے کی ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
ہفتے کی شام نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے پہاڑں سے ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 2 فوجیوں سمیت کم از کم 9 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ واقعے میں 21 دیگر مسافر زخمی بھی ہوئے تھے۔ گلگت بلتستان کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ فائرنگ کی وجہ سے بس ڈرائیور نے ایکسلریٹر پر قدم رکھا جس کی وجہ سے بس مال بردار ٹرک سے جاٹکرائی۔ انہوں نے فائرنگ حملے کو دہشت گردی قرار دیا۔
ابھی تک کسی تنظیم نے فائرنگ واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ آج ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کمشنر دیامر کے تعلقات عامہ کے افسر (پی آر او) نے کہا کہ ایس ایچ او دیامر عظمت شاہ کی جانب سے نامعلوم شرپسندوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اب تک چھ مشتبہ افراد کو دو تھانوں میں حراست میں لیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور خطے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ پولیس نے دیامر بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، شاہراہ قراقرم پر ٹریفک آج معطل رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر دیامر ریٹائرڈ کیپٹن عارف احمد نے بھی ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ دوسری جانب شاہراہ قراقرم کی بندش کے باعث گلگت بلتستان جانے والے سینکڑوں مسافر بشام، کوہستان اور دیگر علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس واقعے کے خلاف چلاس اور ہنزہ میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، مظاہرین نے فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر میں اس سے قبل بھی مسافر بس پر نامعلوم افراد اور دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کے واقعات پیش آچکے ہیں۔