اسرائیل پر غزہ کے عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے دباؤ

  • اتوار 03 / دسمبر / 2023

صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو عام فلسطینی شہریوں کی اموات روکنے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری جانب اتوار کو غزہ میں اسرائیل کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور مرنے والے کی تعدا پندرہ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعے کی صبح عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد اسرائیلی حملوں میں دو سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان سات اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں غزہ میں اب تک 15 ہزارسے زائد اموات ہوئی ہیں جب کہ 40 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

طبی حکام کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں 70 فی صد خواتین اور بچے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لگ بھگ 20 لاکھ فلسطینی بے گھر ہیں اور پناہ کی تلاش میں ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ دن کے دوران غزہ میں حماس کے 400 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں 50 سے زائد حملے جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس اور اس کے اطراف کیے گئے۔ اسرائیل نے غزہ کے جنوبی شہر خان یونس پر شدید فضائی حملے کیے ہیں اور رہائشیوں نے اسے اب تک کی سب سے بھاری بمباری قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے شہر کے مشرقی علاقوں کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مزید جنوب کی طرف نکل جائیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ حماس کے کچھ رہنما شہر میں موجود ہیں، جہاں بہت سے شہری شمالی علاقوں سے فرار ہونے کے بعد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی افواج آئی ڈی ایف نے جمعے کو غزہ میں حماس کے خلاف دوبارہ اپنی کارروائی شروع کیں۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 15200 سے تجاوز کر گئی ہے۔

جمعے کو عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے نئے آپریشن کے پہلے دن حماس کے 400 سے زیادہ 'دہشت گردی کے اہداف' کو نشانہ بنا گیا ہے۔