اسرائیلی فوج جنوبی غزہ میں داخل ہوگئی، دست بست جنگ

  • سوموار 04 / دسمبر / 2023

غزہ میں تین دن کی شدید بمباری کے بعد اب اسرائیلی افواج جنوبی غزہ میں داخل ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے ان  رپورٹس کی تصدیق کی ہے۔

ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے خان یونس کے شمال میں زمینی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بی بی سی نے خان یونس شہر کے قریب موجود اسرائیلی ٹینک کی تصاویر کی بھی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی ڈیفینس فورس آئی ڈی ایف کے سربراہ ہرزی حلیوی نے فوجیوں کو اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ آئی ڈی ایف جنوبی غزہ میں بھی بھرپور طریقے سے جنگ لڑ رہی ہے۔

آئی ڈی ایف کے ترجمان نے بعد میں تصدیق کی کہ اسرائیل نے غزہ کے تمام علاقوں میں زمینی دراندازی کو بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں فوجیوں کی عسکریت پسندوں کے ساتھ دو بدو(آمنے سامنے) جنگ کا سلسلہ بھی شامل ہے۔

ایک ہفتے سے جاری عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد جمعے سے اسرائیل نے غزہ پر بڑے پیمانے پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہوا ہے جسے خان یونس کے رہائشیوں نے حملوں کی اب تک کے سب سے مہلک حملے قرار دیا ہے۔ عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کی گئی ۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ اس نے نئے آپریشن کے پہلے دن حماس کے 400 سے زیادہ ’دہشت گردی کے اہداف‘ کو نشانہ بنا گیا ہے۔۔

ایک بریفنگ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ’تمام اہداف حاصل کرنے‘ تک اسرائیلی فوجی آپریشن جاری رکھنے کا عہد کیا۔

سات روزہ جنگ بندی میں حماس نے غزہ میں قید 110 یرغمالیوں کو رہا کیا جس کے بدلے میں 240 فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔ اتوار کی صبح اسرائیلی فوج نے خان یونس کے کئی اضلاع سے انخلا کے احکامات جاری کرتے ہوئے لوگوں کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف سے منسلک جیمز ایلڈر نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کے بعد ہونے والی بمباری کو بے لگام اور تباہ کن قرار دیا ہے۔ جیمز ایلڈر نے بی بی سی کو جنوبی غزہ کے ایک ہسپتال کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس علاقے میں مسلسل بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کی مسلسل بمباری کا نہ تھمنے والا سلسلہ تباہ کن ہے اور بڑے سائز کے بم مسلسل جنوب کے مختلف حصوں میں گر رہے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت نے جنگ میں ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ساڑھے پندرہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ایک نیوز کانفرنس میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے کہا کہ سات اکتوبر سے اب تک 41 ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

دوسری طرف امریکہ نے اسرائیل پرزور دیا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کیلیفورنیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ عام شہریوں کی جانوں کی حفاظت کرے۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں رہنے والے 22 لاکھ میں سے تقریباً 18 لاکھ افراد اندرونی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں کی درست تعداد کا تعین مشکل ہے۔

ایک اور عارضی جنگ بندی کے لیے معاہدے تک پہنچنے اور سات اکتوبر کو اغوا کیے گئے لوگوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت سنیچر کے روز ختم ہو گئی۔ مذاکرات سے واقف ایک فلسطینی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں۔ کوئی رابطہ یا کسی نئے جنگ بندی کے منصوبے تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے مصر کے صدر سے ملاقات میں کہا ہے کہ ’امریکہ کسی بھی صورت میں غزہ یا مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، غزہ کا محاصرہ کرنے یا سرحدوں کو دوبارہ طے کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘ لیکن انہوں نے امریکی موقف کو بھی دہرایا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس سی او پی 28 کے موقع پر دبئی میں اپنی ملاقات کے دوران انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے کہا کہ امن کی کوششیں صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہیں جب ’فلسطینی عوام کے لیے ایک واضح سیاسی افق کے ساتھ ایک نئی فلسطینی اتھارٹی کے زیر قیادت ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف قدم بڑھایا جائے۔‘