اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیے

  • منگل 05 / دسمبر / 2023

پی ٹی آئی کے بانی رکن  اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو چیلنج کیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی ہے کہ الیکشن کمیشن نئے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دے اور غیرجانبدار تیسرا فریق مقرر کرے جو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کی نگرانی کرے۔ شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کرانے تک انتخابی نشان’ بلا‘ استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پی ٹی آئی الیکشن محض دکھاوا، فریب اور الیکشن کمیشن کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش تھی۔ فراڈ انتخابی عمل نے پی ٹی آئی ارکان کو ووٹ دینے اور انتخاب میں حصہ لینے کے حق سے محروم کر دیا۔ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ 217 کے سیکشن 208 اور ذیلی شق 2 کی خلاف ورزی ہے۔

اکبر بابر نے درخواست کے ہمراہ ویڈیو فوٹیج اور دیگر شواہد بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائے۔ چیف الیکشن کمشنر کے نام تین صفحات پر مشتمل درخواست میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اکبر بابر نے درخواست میں کہا ہے کہ 30 نومبر2023 کو پی ٹی آئی کور کمیٹی کی پریس ریلیز میں 2 دسمبر کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا اعلان کیا گیا جس میں نیاز اللہ نیازی کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا جبکہ وفاقی سطح پر کمیشن کے کسی اور عہدیدار کا نام نہیں بتایا گیا۔

الیکشن قواعد و ضوابط، شیڈول، کاغذات نامزدگی کا وقت اور طریقہ کار کا نہیں بتایا گیا۔ کاغذات کی وصولی اور مسترد کرنے کی تاریخ، اپیلوں کی سماعت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ 2دسمبر تک انتخابات کے بارے میں کسی قسم کی معلومات پی ٹی آئی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں تھیں۔

میں یکم دسمبر 2023 کو چار بجکر 45 منٹ پر پی ٹی آئی ارکان کے وفد کے ہمراہ مرکزی سیکریٹریٹ گیا۔ درخواست گزار کے مطابق پی ٹی آئی نمائندے نے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی۔ یہ واقعہ قومی ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا۔ اسی روز الیکڑانک میڈیا پر پی ٹی آئی عہدیداروں کے بلامقابلہ انتخاب کی خبریں نشر ہوئیں۔

اکبر بابر نے پی ٹی آئی کی ویب سائیٹ پر جاری ہونے والی خبر بھی درخواست کے ساتھ منسلک کی ہے۔ واضح رہے تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ  اکبر ایس بابر گزشتہ ایک دہائی سے پارٹی کے رکن نہیں ہیں۔