فوج کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے

دنیا کے تمام بڑے ممالک کے پاس فوج ہے۔ ہر ملک کی حفاظت کا دارومدار ایک پیشہ ور مضبوط فوج پر ہوتا ہے۔ ماضی قریب اور حال میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ جن ممالک بالخصوص مسلمان ممالک کا دفاع کمزور تھا، انہیں کس طرح استعماری طاقتوں نے تباہ و برباد کیا ہے۔

پاکستان کو تو اپنے جنم کے ساتھ ہی ایک دشمن بھی مل گیا اور وجہ دشمنی بھی پاکستان کا جنم تھا کیونکہ بھارت پاکستان کے وجود ہی کے خلاف تھا۔ بھارتی سیاستدانوں کا منشور اکھنڈ بھارت تھا جس میں طاقت ہندووں کے پاس رہے اور باقی تمام مذاہب بلکہ شودر ہندو بھی ان کی غلامی میں رہیں۔ دوسری طرف برطانوی سامراج نے تقسیم برصغیر میں ایسی ڈنڈی ماری کہ کشمیر جو ہر لحاظ سے پاکستان میں شامل ہونا تھا کو متنازعہ بنا دیا گیا۔

ان حالات میں پاکستان کی پہلی ترجیح ایک مضبوط دفاع تھا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے بعد تو پاکستان کے لیے ایک مضبوط فوج اور جدید جنگی ساز و سامان ناگزیر ہو گیا، دنیا کے تمام ممالک کے عوام اپنی فوج کی اور تمام ریاستی اداروں کی تعظیم کا خیال رکھتے ہیں۔ فوج کا احترام اس لیے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ یہ دفاع وطن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ ویسے تو فوجی بھی دوسرے سرکاری ملازمین کی طرح اپنے کام کی تنخواہ لیتے ہیں مگر جس طرح یہ دفاع وطن میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر بے جگری سے لڑتے ہیں وہاں تنخواہوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ ہم پاکستانی تو اپنی فوج کو بہت زیادہ مقدس سمجھتے رہے ہیں اور ان کی ہر بات پر یقین بھی کرتے رہے ہیں۔ 65 اور 71 کی جنگوں کے دوران عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عوام اور فوج میں خلیج پیدا ہوتی گئی اور اب یہ خلیج اتنی وسیع ہو چکی ہے کہ جیسے فوج ہماری نہیں کسی دشمن ملک کی ہے۔

اس بات کا ادراک فوجی قیادت کو بھی بخوبی ہو چکا ہے۔ اسی لیے سپہ سالار پاکستان نے کئی مواقع پر اس طرف اشارہ کیا ہے لیکن سپہ سالار صاحب کو ان وجوہات پر بھی غور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے ہماری فوج متنازعہ بنی اور عوام کے دلوں سے دور ہو رہی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن اس وقت پاکستانیوں کی اکثریت فوج سے بدظن ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں پاکستان کے موجودہ حالات میں فوجی جنرلز کا سب سے زیادہ کردار ہے۔ پاکستان کے عوام سقوط ڈھاکہ کے وقت سمجھتے تھے کہ یہ بنگالیوں اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے کسی طرف سے بھی کوئی ایسی توانا آواز نہیں ابھری تھی کہ پاکستان کے دو لخت ہونے کے پیچھے مارشل لا اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے وہ فیصلے تھے، جن کو بنگالیوں نے قبول نہیں کیا تھا۔

پھر 77 میں جو شب خون مارا گیا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی ایک سیاسی جماعت پر مظالم ڈھائے گئے۔ اس جماعت کے ہر دلعزیز اور بین الاقوامی سطح پر اپنی قابلیت ثابت کرنے والے لیڈر کو ناحق پھانسی دی گئی جس کے پیچھے امریکہ کا بھی ہاتھ تھا۔ تو اس جماعت کے لوگوں کے دلوں میں فوج کے لیے محبت کم ہو گئی۔ 11 سالہ آمریت کا خاتمہ ایک طیارہ حادثے پر ہوا تو پھر 88 کے عام انتخابات میں آئی جی آئی کی تشکیل سے شروع ہونے والا کھیل اگلے 11 سال تک جاری رہا اور اس کے بعد 99 میں ایک بار پھر سول حکومت پر شب خون مارا گیا اور منتخب وزیراعظم کو معذول کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد جو ہوتا رہا وہ سب تاریک تاریخ ہے۔

پھر پاکستان کی اکثریت کا خیال ہے کہ عمران خان کے کامیاب جلسوں کے پیچھے بھی آئی ایس آئی تھی اور 2014 کے دھرنے سے شروع ہونے والا کھیل 2017 میں ایک بار پھر منتخب وزیراعظم کی معذولی پر منتج ہوا اور 2018 کے انتخابات کو بھی متنازعہ سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت قائم ہوئی تھی۔ لیکن اس حکومت کے دوسرے برس ہی وزیراعظم اور اس وقت کے سپہ سالار کے درمیان اختلافات کی خبریں آنے لگیں اور حکومت ساڑھے تین برس ہی پورے کر پائی۔ بظاہر اسمبلی میں عدم اعتماد کے ذریعے عمران کی حکومت کو چلتا کیا لیکن لوگ اس کے پیچھے بھی فوجی قیادت کو دیکھتے ہیں۔ اس طرح ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو باری باری زیر عتاب لانے کے بعد ہر طرف سے یہ بات کی جاتی ہے کہ حکومت بنانے اور حکومت گرانے میں سارا کردار فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہوتا ہے جو اصل میں ان کا کام نہیں ہے۔  

اس وقت بھی اسلام آباد اور چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر میں جو حکومتیں ہیں. ان سب پر سوالیہ نشانات ہیں کہ یہ کس کی ایما پر اور کس آئین کے تحت چل رہی ہیں؟ پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں پر بنائے گئے مقدمات اور ان کے راہنماؤں کو یکے بعد دیگرے رہائی کے بعد گرفتار کیا جانا اور جو راہنما عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کرتا ہے اس کو رہا کیا جانا بھی یہ ثابت کر رہا ہے کہ اس ملک میں سیاست وہی کر سکتا ہے جس کے سر پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح میاں نواز شریف سمیت پی ڈی ایم کی ساری سیاسی قیادت پر قائم کیے گئے بدعنوانی کے مقدمات کو عجلت میں بھونڈے طریقے سے ختم کیا جانا، اور نگران حکومتوں کی طرف سے ن لیگی قیادت کے لیے فضا ہموار کرنا بھی سب کے اوپر عیاں ہے.

جناب سپہ سالار صاحب اب وقت بہت بدل چکا ہے۔ دنیا گلوبل ویلج کا روپ دھار چکی ہے۔ اب نئی نسل کو صرف قومی ترانوں اور بیانیوں سے بہلایا نہیں جا سکتا۔ اس لیے اب وقت کا تقاضا ہے کہ پاک فوج کو سیاست سے صرف الگ نہیں بلکہ بہت دور کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ دنیا کے بیشتر ممالک جمہوری عمل سے گزر کر ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمیں پاک فوج کی ضرورت بھی ہے اور اس کی عزت بھی لازمی ہے اور اس عزت کو بحال کرنے کا سب سے بڑا کردار آپ ہی ادا کر سکتے ہیں۔ ہمارا ملک عوام اور فوج کے بیچ خلیج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فوری طور پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جس سے عوام کا فوج پر ایک بار پھر اعتماد قائم ہو اور سب فوج کی تکریم کریں۔