انتخابات پر مولانا کا مؤقف اور معمولی جرم میں ناروے کے وکیل کو سزا

مسلم لیگ (ن) سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاہدہ کرنے کے  ایک روز بعد ہی پاکستان جمہوری تحریک کے صدر اور جمیعت علمائے اسلام  (ف) کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔ یہ دونوں صوبے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ ان حالات میں کیسے انتخابات منعقد ہوسکتے  ہیں؟  یہ سوال کرتے ہوئے البتہ ایک کائیاں سیاست دان کی طرح  انہوں نے یہ اضافہ ضرور کیا ہے کہ  ’ہم تو انتخابات کے لیے تیار ہیں لیکن ماحول بنا دیا جائے‘۔

مولانا فضل  الرحمان کو اپنے الفاظ کی قدر و قیمت کا اندازہ ہے ۔ وہ ناپ تول کر ذمہ داری سے بات کرنے والے جہاں دیدہ سیاست دان  کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس لیے ایک ایسے ماحول میں جب  ملک بھر میں غیر محسوس طور سے یہ خبریں عام کی جارہی ہیں کہ  سپریم کورٹ کے  ’حکم‘ کے باوجود  8 فروری کو انتخابات  نہیں ہوسکتے  کیوں کہ پاک فوج اور نگران حکومت مل  کر دوست ممالک سے کثیر سرمایہ کاری ملک میں لانے کی کوشش کررہی ہے۔ انتخابات کا انعقاد ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔  اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ انتخابات کو آئیندہ سال کے آخر تک ملتوی کردیا جائے۔ 

گویا جو صحافی انتخابات میں التوا کی خبر عام کرنے پر مامور کیے گئے ہیں، انہیں معیشت کاعذر بتایا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ  90 دن کے اندر  انتخابات منعقد کروانے پر صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے والی  سپریم کورٹ  انتخابات کے مزید التوا کے لیے معاشی بحالی کا بہانہ  قبول نہیں کرے گی۔  مولانا فضل الرحمان کے بیان کو اسی تناظر میں پڑھنا چاہئے۔ وہ انتخابات ملتوی کروانے کے لیے  سکیورٹی کو عذر کے طور پر پیش کررہے ہیں۔   وہ جانتے ہیں کہ سکیورٹی کی صورت حال ہی وہ واحد  وجہ ہوسکتی ہے جس کی بنیاد پر   انتخابات میں التوا کے لئے عدالت کو بھی اپنا حکم تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔  ایسے میں مولانا فضل الرحمان  جو  یوں تو پاکستان جمہوری تحریک نامی سیاسی اتحاد کے لیڈر ہیں، درحقیقت جمہوری راستہ میں رکاوٹ بننے کا سبب بن  رہے ہیں۔

مولانا کے اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کرنا  غیرمناسب نہیں ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان عوام  کی ترجمانی کی بجائے ان عناصر   کی نمائیندگی کررہے ہیں یا انہیں موقع فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ملکی مسائل کا حل غیر جمہوری طریقوں  کے ذریعے ہی تلاش کرنے کے حامی ہیں۔ یا جمہوریت کو ہتھکنڈے کے طور  پر استعمال کرتے ہوئے ملک پر ایسا نظام مسلط کرنا ضروری خیال کرتے ہیں جس میں عوام کے نمائیندے  پارلیمنٹ میں تقریریں کرتے رہیں لیکن فیصلوں کا مرکز کسی ایسی جگہ،  ان ہاتھوں میں  منتقل کیا جائے جسے امور  حکومت چلانے کا آئینی اختیار نہیں ہے۔

مولانا کے بیان، انتخابات  کی ضرورت، قانون کی حکمرانی اور عدالتوں کے کردار پر گفتگو  مکمل کرنے سے پہلے قارئین کو ناروے جیسے چھوٹے ملک میں رونما ہونے والا ایک معمولی  مگر دلچسپ قصہ  سنا دیا جائے۔   جو  کہانی یہاں بیان کرنا مقصود ہے ، وہ یوں تو ایک خبر کے طور پر ناروے کے میڈیا میں شائع ہوئی ہے لیکن جمہوریت، مساوات اور قانونی حکمرانی کے حوالے سے اسے  ایک قصہ ہی سمجھنا چاہئے۔ خاص طور سے پاکستان  جیسے ملک کے لوگوں کو جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کے بعض ممالک میں قانون کے سامنے سر جھکانے کا ایسا مزاج بھی موجود ہے اور اس میں نہ کسی کی بے عزتی ہوتی ہے، نہ کوئی  اسے اپنی ذات پر حملہ قرار دے کر کسی ریاستی ادارے کی سازش قرار دیتاہے  اور نہ ہی کسی عہدے، رتبے یا تعلق کا حوالہ دے کر گلو خلاصی کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

خبر کے مطابق اوسلو کی ایک عدالت نے نارویجئین  وکلا  یونین کے صدر یون ویسل اوس کو نشے کی حالت میں کار چلانے کے الزام میں تین لاکھ نارویجئن کرونر  (تقریباً 75 لاکھ پاکستانی روپے)جرمانہ، 18 دن کی مشروط یامعطل  سزا (یعنی   کسی دوسری قانون  شکنی کی صورت میں ملزم کو جیل جانا  پڑے  گا) اور 19 ماہ کے لیے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ  کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ 19 ماہ کے بعد یون ویسل کو خود بخودلائسنس واپس نہیں مل جائے گا بلکہ   انہیں  لائسنس حاصل کرنے کے لیے دوبارہ ٹیسٹ دینا پڑے گا۔ جن لوگوں کو یورپ یا عرب ممالک میں گاڑی چلانے  یا لائسنس لینے کا تجربہ ہے، انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ یہ کس قدر کٹھن  مرحلہ ہوتا ہے ۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے  کثیر وسائل صرف ہوتے ہیں۔

وکلا یونین کے صدر یون ویسل اوس ملک کے ممتاز قانون دان ہیں۔ انہوں نے  اپنے خلاف   عدالتی فیصلے میں کوئی خامی تلاش کرنے  ، اس پر نکتہ چینی کرنے یا  پولیس  پر غلط معلومات  فراہم کرنے کا الزام عائد کرنے کی بجائے، بخوشی اس سزا کو قبول کیا ہے۔ فیس بک پر ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ اکتوبر میں ایک روز  ان کا کنٹرول ہؤا اور نشے کے ٹیسٹ کے دوران ان کے خون میں الکوہل   کی شرح اعشاریہ 88  تھی۔  قانون کے مطابق کارچلاتے ہوئے یہ شرح اعشاریہ 50 ہونی چاہئے۔ ویسل اوس کا کہنا ہے کہ وہ ایک پارٹی میں شریک تھے، انہیں کار چلانے سے پہلے زیادہ وقفہ کرنا چاہئے تھا تاکہ  خون میں الکوہل کے اثرات قانون کی مقررہ حد کے اندر آجاتے۔ انہوں نے جلدی میں غلطی کی۔  انہوں  نے عدالتی حکم،  اس حقیقت کے باوجود قبول کیا ہے کہ  ان کی ڈرائیونگ کے دوران کوئی ناخوشگوار  وقوعہ نہیں ہؤا۔  وہ کسی حادثہ میں ملوث نہیں تھے۔ بلکہ روٹین کے پولیس کنٹرول میں انہیں ٹیسٹ کے لیے کہا گیا جو انہوں نے دے دیا۔  نہ پولیس کو خیال آیا کہ  ’اتنے بڑے آدمی اور نامی وکیل‘ کو کنٹرول کے بغیر جانے دیا جائے  اور  اگر شرح تھوڑی بہت زیادہ  بھی ہے تو اسے نظر انداز کردیا جائے۔  بلکہ فوری طور سے قاعدہ کے مطابق ان  کے خلاف معمول کی کارروائی کی گئی۔

معمولی نشے میں گاڑی چلانے پر جرمانے  کی یہ شرح غیر معمولی طور سے زیادہ ہے۔  لیکن اس کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ قصور وار کوئی عام شخص نہیں تھا بلکہ ایک ممتاز وکیل اور اعلیٰ سماجی رتبے پر فائز تھا۔ عدالت نے  انہیں سخت سزا دے کر  واضح کیا ہے کہ  کوئی قانون سے بالا دست  نہیں ہے۔ اور اگر کوئی ایسا شخص کسی قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے  جو خود قانون کا پاسبان  ہے، تو اسے اس کی سزا بھی زیادہ ملنی چاہئے۔ یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے یہ اضافہ کرنا  بھی مناسب ہے کہ  ناروے میں  وکلا کی درجنوں تنظیمیں نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی مختلف عدالتوں یا مختلف علاقوں میں پریکٹس کرنے والے وکیل علیحدہ علیحدہ یونین کے رکن ہوتے ہیں۔ ملک بھر کے تمام وکلا خواہ وہ کسی بھی سطح کی عدالت میں پیش ہوتے ہوں اور کسی بھی شعبے میں پریکٹس کرتے ہوں ، یہ سب ایک  ہی وکلا یونین کے رکن بنتے ہیں جو ان کے  مفادات کے علاوہ ملک میں قانون کی  عمل داری کے لیے کام کرتی ہے۔

ناروے میں ہی چند ماہ پہلے ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر کو جو ملکی پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں، صرف اس لیے اپنے عہدے سے علیحدہ ہونا پڑا تھا کیوں کہ  ایک پروازلیتے ہوئے  ہوئی اڈے کی ایک دکان پر وہ ادائیگی کیے بغیر دھوپ کا ایک چشمہ ساتھ لے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حرکت  ایک بھول تھی اور انہوں نے موقع پر ہی نہ صرف  چشمے کی قیمت ادا کی بلکہ  پولیس کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ بھی ادا کردیا۔ تاہم ایک سیاسی لیڈر کے حوالے سے خبر سامنے آنے کے بعد ان کے  لیے بدستور پارٹی لیڈر رہنا  ممکن نہیں رہا۔  حالانکہ پارٹی  نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ لیکن میڈیا میں اٹھنے والے طوفان اور  رائے عامہ کا  احترام کرتے ہوئے انہوں نے اپنا سیاسی کیرئیر  قربان  کر دیا۔

دنیا کے ایک چھوٹے سے ملک ناروے میں جمہوری روایت کی پاسبانی اور قانون کی عملداری کے ان واقعات کی روشنی میں اگر جمہوری نظام کو  نصب العین قرار دینے والے ملک پاکستان میں سیاسی لیڈروں اور دیگر سماجی رہنماؤں کے قول و فعل کے تضاد پر نگاہ کی جائے تو جانا جاسکتا ہے  کسی معاشرے  میں قانون کی عمل  داری اور سب کے لیے یکساں سلوک کا مقصد حاصل کرنے کے  لیے معاشروں کی پرداخت کیسے کی جاتی ہے۔ چند روز پہلے ہی سوشل میڈیا پر یہ خبر گشت کررہی تھی کہ لاہور پولیس  ضلعی  عدالت کے باہر   ہیلمٹ پہنے بغیر موٹر سائیکل چلانے والے نوجوانوں کی گرفت کررہی تھی، جبکہ اس دوران  ’معزز وکلا‘ کسی ہیلمٹ کے  بغیر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے پولیس کے سامنے سے گزر رہے تھے لیکن کسی پولیس افسر میں یہ حوصلہ نہیں تھا کہ وہ ان سے پوچھتا کہ ’میاں منہ میں کے دانت ہیں‘۔

مولانا نے انتخابات کے التوا کا  مقدمہ مضبوط کرنے کے لیے جوبیان دیا ہے، جمہوریت کو مسائل کا حل  سمجھنے والا کوئی شخص ایسی گفتگو کا  متحمل نہیں ہوسکتا ۔ انتخابات کے دوران   میں یا عام دنوں میں امن و امان کا قیام، دہشت گردی کی روک تھام اور حالات کو  پرسکون رکھنے کی ذمہ داری ملکی حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ سیاسی طور سے متحرک عناصر  کبھی امن و امان کو عذر بناکر انتخابات کو بھلا دینے کا پیغام عام نہیں کرسکتے۔ مولانا نے سوال کیا ہے کہ دو صوبوں میں  بدامنی و دہشت گردی کی صورت حال میں انتخابات کیسے ہوسکتے ہیں؟ اس کا سادہ اور آسان جواب یہ  ہے کہ  انتخابات اس لیے منعقد ہونے چاہئیں تاکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت عوام دشمن عناصر کی بیخ کنی کی ذمہ داری پوری کرسکے۔

کیا مولانا  فضل الرحمان مشکل حالات میں انتخابات کے انعقاد کی بجائے ایک غیر منتخب  و غیر نمائیندہ حکومت کو غیر معینہ مدت تک ملک  کی تقدیر کے فیصلے کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟