خزاں گزیدہ!
- تحریر علی اصغر عباس
- بدھ 06 / دسمبر / 2023
دسمبر کے آخری ہفتے میں ان شااللہ 66 ویں خزاں کا موسم مجھے 67 ویں خزاں کی دہلیز پر چھوڑے گا۔ اب وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، مجھے بِتاتی ہے یا میرے ساتھ بیتتی ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
ابھی تک تو میں ہمیشہ سے خزاؤں کی رُتیں زرد پتوں کی یورشوں میں یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑے سہتے نظمیں اور غزلیں لکھتے گذار بیٹھا ہوں۔ خزاں کے دن مجھے بہت بھاتے ہیں ان کی صبحیں ایک ایسی سہاگن جیسی پُر اسرار جمالیات سے آراستہ ہوتی ہیں جو سردیوں کی طویل رات نگارِ وصل سے مزین کرنے کی آرزو میں کورے میں بھیگتی رہی ہو۔ زمستانی سورج کی دھوپ کی پیلاہٹ اس کے چہرے کی زردی سے چھن چھن کر آتی وقتِ سحر کو جیسے سحر زدہ کرتی ہے وہ مجھے مبہوت کرکے رکھ دیتی ہے۔ مرحوم اذکار ازہر درانی سردیوں کی کپکپاتی دھوپ کو کچی دھوپ سے موسوم کیا کرتا تھا اور یہ نام اسے اتنا اچھا لگا کہ اس نے "کچی دھوپ " کے نام سے اپنا ایک شعری مجموعہ بھی شائع کیا تھا۔
شاید ہی کوئی ہو جسے سردی کی صبحیں، شامیں ہانٹ نہ کرتی ہوں۔ میرے لئے تو اس موسم کا ایک ایک پل کسی نہ کسی یاد سے جڑا ہوا ہے۔ ان سب کے بارے میں لکھنے کے لئے دفتر کے دفتر درکار ہیں اور جانے اب سب یادوں کو لوحِ قرطاس کی زینت بنانے کی مہلت مل بھی پائے گی کہ نہیں تو کیوں نہ کسی تقدیس کی حامل یاد میں آپ کو شریک کیا جائے۔
اباجی توفیقِ ایزدی سے پابند صوم و صلوٰۃ تو تھے ہی، میری دادی ماں کے انتقال کے بعد سے ان کے مصلے کی یادوں سے یوں چمٹے کہ مرتے دم تک ان کی کوئی نمازِ تہجد بھی قضا نہ ہوئی۔ یاد رہے کہ دادی جی کے انتقال کے وقت ابا جی کی عمر بیس برس تھی اور اباجی کا مارچ 1996 میں 95 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔ اللہم اغفرلھم وارحمہ آمین
ہم چار اپریل 1979 کو لائلپور (حالیہ فیصل آباد) سے لاہور منتقل ہوئے اور سنت نگر میں سکونت اختیار کی۔ گھر سے پاک ٹی ہاؤس کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ شام ہوتے ہی گھر سے نکل کر ٹی ہاؤس جا بیٹھتا۔ تقریباً دس بجے زاہد ٹی ہاؤس بند کرتا تو ہم دوست سڑکیں ناپنے لگتے۔ میں مال روڈ کی سیر کرتے بیڈن روڈ کی نکر کی میوے والی دکان سے پانچ دس روپے کے چلغوزے لے کر کوٹ کی جیب میں ڈال لیا کرتا تھا۔ نہر کی طرف پیدل چلتے ہوئے چلغوزے چھیل چھیل کر گریاں دوسری جیب میں ڈالتا جاتا۔ گھر پہنچ کر یہ گریاں ایک رکابی میں ڈال کر اباجی کی نماز تہجد کے وقت کے لئے تیار کی گئی چائے کے تھرموس کے پاس رکھ دیتا۔ اباجی نوافل کی ادائیگی یا نماز فجر کی چائے کے ساتھ چلغوزے کھاتے ہوئے جو دعائیں دیا کرتے، وہ آج تک مجھے اپنے حصار میں لئے رہتی ہیں بحمداللہ۔
چلغوزے، کہ ہمیں جن کا ذائقہ تک تقریباً بھول ہی چکا تھا کہ گزشتہ دنوں بیٹی نے ابوظہبی کے سفر سے واپسی پر بطور تحفہ خرید کر پرفیوم کے قیمتی تحفے کے ساتھ پیش کیا تو آپ یقین کریں کہ مجھے مہنگے پرفیوم سے زیادہ بیش قیمت چلغوزوں کا تحفہ لگا۔ چلغوزے، جو ہمارے بچپن اور لڑکپن کے دور کی خوبصورت یادوں کا یادگار حصہ بن چکے ہیں کہ اب انہیں خرید کرنا بھی ایک سٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ پونے دو سو روپے آٹا خریدنے والا ہم جیسا بے روزگار شخص گھر کی دال روٹی پوری کرنے کی سوچ سے نکلے تو کسی تکلف کا خیال کرے۔
آج سوچتے ہیں کہ ہم کتنے خوش قسمت تھے جنہیں والدین سردیوں میں رات بھر جاگ کر دو تین من دودھ کا گاجر کا سپیشل حلوہ بنا کر اس میں دس سیر کے لگ بھگ چلغوزے، بادام، کاجو، پستہ، اخروٹ، کشمش وغیرہ شامل کرکے ایک بار تازہ تازہ کھلا کر باقی کے حصے بنا کر ڈبوں میں بند کرکے، ہمیں دے دیتے کہ چاہو تو ایک بار میں کھا کر ختم کر دو، چاہے تو پوری سردیاں چلاؤ۔
اللہ بخشے رضا سہیل سب سے پہلے اپنا ڈبہ ختم کر لیا کرتا تھا جبکہ میرا ڈبہ سب سے آخر میں اباجی ہی ختم کیا کرتے تھے۔ اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اس قسم کی صحت بخش غذائیت سے بھرپور خوراک کھلانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ایسے میں سردی کے موسم کا لطف کیا خاک ہوگا۔ کام و دہن کے ان مزوں سے عاری سوشل میڈیا پر دسمبر کے حوالے سے شاعری پوسٹ کرنے والوں کو کیا خبر کہ زمستاں کے دنوں کی اداس گھڑیاں جس حُسنِ فراواں سے دلوں کو تاراج کرتی ہیں اسے کورا پڑتی راتوں کے دونوں کناروں پر نم دیدہ آنکھوں سے دھند کے جلو میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ کورا جو پڑتا باہر ہے مگر گرتا اندر ہے۔
نظم پڑھ لیجیے :
موسمِ سرما!
کتنے چھوٹے دن لایا ہے
موسمِ سرما
صبح سے شام
پھر ایک طویل اندھیری رات
ہم بھی کتنے چھوٹے سے ہیں
بچپن اور بڑھاپا
پھر اک لمبی رات
موسمِ سرما
تم بھی اپنے جیسے ہو
تم نے کبھی دوپہر نہ دیکھی
ہم نے کبھی جوانی
تم نے دھند میں صبحیں دیکھیں
اور غبار میں شامیں
بچپن ہم کو یاد نہیں ہے
ہم تو بڑھاپا کاٹیں
ایک سیاہ اندھیری کُٹیا اور اک لمبی رات کا خوف زرد رگوں میں ہولے ہولے اُترے بن کر روگ تم نے بھی اب جوگ لیا اور ہم نے بھگتا بھوگ کون منائے سوگ؟