حقانی صاحب! کیسے بھول جائیں؟

ہماری حالیہ مفاداتی سیاست کے پس منظر میں ہمارے کچھ نامور و معزز صحافیوں اور دانشوروں کی طرف سے ایک مطالبہ پیہم دہرایا جا رہا ہے کہ پیچھے جو کچھ بھی ہوا جس کسی نے جو بھی زیادتیاں کی ہیں مٹی پاؤ پالیسی کے تحت ان سب کو بھول جاؤ معاف کردو کا رویہ اپنانا چاہیے۔

بصورتِ دیگر اسے انتقام سمجھا جائے گا اور انتقام بڑی بری چیز ہے، اس کا تسلسل کہیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ اس سلسلے میں نوازبزادہ نصر اللہ خاں کا نام بھی لیا جاتا ہے اور ہمارے ان احباب میں سے کئی شاید یہ تمنا بھی کرتے ہوں گے کہ وہ نوابزادہ صاحب کی اس مصالحتی گدی پر بیٹھ جائیں اور محبتوں کے پھول بانٹیں۔

بظاہر تو یہ میٹھی میٹھی باتیں کانوں کو بھلی لگتی ہیں محبت، پیار، دوستی اور بھائی چارے کی باتیں کرنے والا شاید کوئی بھی انسان اس میٹھے پروپیگنڈے سے نکل کرآگے نہیں جاسکتا اور نہ اس کی مخالفت میں کچھ بول سکتا ہے جب آفتاب ِ صحافت یہ فرما رہے ہوں کہ آپ اپنی سیاسی مخالفت کرنے والے بھائیوں کو اگر برداران یوسف کہتے ہیں تو پھر یوسف جیسے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گویا ہوں کہ لاتثریب علیکم الیوم ”آج تمھارے سے کوئی بدلہ نہیں“۔ سب کیلئے معافی ہے، کبھی فتح مکہ کی مثالیں دی جارہی ہوتی ہیں کہ اپنوں کو کس طرح معافی تلافی دی

جاتی ہے وغیرہ ۔

اور تو اور اس میں ہمارے ممدوح ذہین و فطین حسیں حقانی صاحب بھی شامل ہیں جو ربع صدی قبل سے اپنا مشن بتا رہے ہیں کہ ماضی کو دفن کردیا جائے اور یہ کہ یہاں مسئلہ ”قیادت کے بحران” کا نہیں ہے “برداشت کے بحران“ کا ہے۔ اس سلسلے میں کبھی وہ امریکا کی مثالیں دیتے ہیں اور کبھی فرانس اور ہندوستان کی کبھی جمال عبدالناصر اور صدر انور سادات کی شخصیات سامنے لاتے ہیں اور مدعا ان کا یہ ہے کہ ہمارے غلام محمد سکندر مرزا اور یحییٰ خان جیسے بھی تھے، پاکستانیوں کیلئے ماضی محض ایک گھناؤنا راز ہے جسے کسی تہہ خانے میں دفن کردینا چاہیے۔ ان تمام بڑے دل والے معززین کی ایسی محبت بھری باتیں سنتے پڑھتے ہوئے یہ ”تنگ دل“ درویش سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس تمام تر معافی تلافی کی ہوائیں چلانے کے پیچھے اصل مدعا کیا ہے؟ اور یہ سب نیک آوازیں بیک وقت بالخصوص انہی دنوں کیوں اٹھ رہی ہیں؟

بالفرض ان نیک تمناؤں کی مطابقت میں معافی تلافی کے تحت مٹی پاؤ سکیم کا میاب ہو جاتی ہے تو یہاں محبتوں کا ایسا کون سا زمزمہ پھوٹ پڑے گا جس کی شان میں ہمارے الطاف حسین قریشی صاحب کو قصیدہ لکھنا پڑے۔ حالانکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ معافیوں تلافیوں کے باوجود یار لوگوں کی اصلیتیں نہیں بدلتی ہیں اور ماضی کی ہستیوں کو بھی جس طرح بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس پر بھی بہت سی اگر مگر سامنے لاتے ہیں۔ ہمارے دانشورواقعات و حقائق کو اپنی مطابقت میں ڈھال کر پیش کرنے کی مہارت و صلاحیت رکھتے ہیں، ورنہ ان پر یہ واضح ہے کہ فتح مکہ میں معا فی ناموں کی اصل وجوہ کیا تھیں؟ اور بنو قریظہ کے معصوم، اس کے مستحق کیوں قرا ر نہ پاسکے؟ جبکہ بنو قینقاع والوں کی جانیں کیوں بچ گئیں؟ مکہ میں وہ کون سے بدنصیب 17افراد تھے جن کے نام لے کر یہ اعلان کرنا ضروری سمجھا گیا کہ فلاں ابن فلاں اگر غلافِ کعبہ سے بھی لپٹے ہوں تو انہیں ذبح کردیا جائے؟

ایک اور پیاربھرا نظر یہ بھی ہمارے یہاں بہت پاپولر ہے یہ کہ اپنا مارے گا تو لاش کو سائے میں ہی پھینکے گا۔ قصد یہ کہ اپنے اور غیر میں فرق ہوتا ہے اپنے کیلئے نرمی ہوتی ہے حالانکہ سچائی یہ ہے کہ جس نے مارڈالا وہ کہاں کا اپنا ہے؟ پھر وہ لاش کو سائے میں پھینکے یا دھوپ میں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ امر بھی واضع رہے کہ ہر چیز کی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں غلطی اور بربادی میں فرق کی تمیز ہونی چاہیے۔ اس طرح انسان اور وحشی میں فرق بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے ایک موذی جانور کو آپ جتنا مرضی دودھ پلا لیں، اس کی سرشت میں ڈنگ مارنا ہے، وہ ضرور مارے گا۔

ہماری قومی سیاست میں درویش کوتین مرتبہ منتخب ہونے والا اس لیے پسند ہے کہ یہ شخص ہمیشہ ملک و قوم کی بھلائی کا سوچتا ہے۔ کمزور طبقات کیلئے برابری کی بات کرتا ہے، مذہبی چورن بیچنے سے احتراز کرتا ہے اور ہمسائیوں بالخصوص انڈیا کے ساتھ دوستی کو اعلیٰ ہمسائیگی اور تجارتی تعلقات تک بڑھانا چاہتا ہے۔ مگر جب وہ بھی اچھے برے کی تمیز نہیں کرتا تو درویش کو برا لگتا ہے۔ ایک موقع پر تو بہت ہی برا لگا جب دن رات زہر اگلنے والے، انسانیت سے گرے ہوئے شخص کو سٹیج سے گرنے پر وہ اس مغرور اور گھمنڈی کے گھر چلے گیا۔حالانکہ سٹیج سے گرنا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا انسانیت سے گرنا۔

جس متکبر شخص نے ہم سب کے سینوں کو چھلنی کررکھا تھا جو ملک و قوم اور آئین و جمہوریت کیلئے ناسور ثابت ہوا ہے اگر آپ اس کی عزت افزائی کررہے ہیں تو بالواسطہ طور پرغرور و تکبر کو پروموٹ کررہے ہیں۔ جب یہ شخص مذہبی، سیاسی اور سماجی منافرتوں کی گندگی پھیلا رہا تھا اور ہے جمالو والوں کے ریکارڈ توڑ رہا تھا اس وقت آپ معززین میں سے کس نے اسے لگام ڈالنے کی کوشش کی؟ اور وہ شخص آپ لوگوں کی لگام پہننے کے لیے بھلے تیار کب تھا؟ اور آپ کو آئندہ امید کاہے کی ہے اور کس برتے پر؟ بدتمیزی و بد تہذیبی بھی کئی سر پھرے کرتے ہیں لیکن اس کی بھی کچھ حدود تو ہوتی ہوں گی۔ جبکہ یہ شخص تو اول و آخر تمام حدود قیود کو پائمال کرتا چلاآرہا ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جو زبان اس شخص نے برتی سو برتی، اس نے تو ہمارے بگڑے کلچر میں اگر کوئی کمی رہ گئی تھی تو اس کی تمام حدود بھی پار کردیں۔ اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک بھی، لند ن چھوڑ مدینہ شریف میں بھی ، شرفا کے اوپر کون سی گندگی ہے جو نہیں پھینکی گئی؟ فوجی ڈکٹیٹروں کے خلا ف یہ درویش

نو عمری سے لکھتا بولتا چلا آرہاہے لیکن کسی آرمی چیف کو نکال باہر پھینکنے کے لیے 9مئی کو جو اوچھا ہتھکنڈا پوری پلانگ اور ذمہ داری کے ساتھ اس شخص نے مہلک ہتھیار یاوار کی طرح آزمایا، اس پر مٹی ڈالنے کا مطلب ہوگا کہ اس ملک میں اگر کہیں ڈسپلن کی کوئی رتی بچی ہے تو اس بدنصیب ملک کو اس سے بھی فارغ کردیا جائے۔ کھلاڑی پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے کہ مجھ پر بڑا ظلم ہوا ہے، جمہوریت پر وار ہوا ہے۔ بندہ پوچھے کون سا وار اورکس جمہوریت پر؟ کیا یہ موصوف وہی نہیں ہے جو انہی بیساکھیوں کے سہارے کندھوں پر سوار ہوا تھا؟ اور خالصتاَ آئین کی عین مطابقت میں پارلیمنٹ نے فارغ کیا۔ چولی کے پیچھے جو بھی تھا سچائی تو یہی ہے۔ لیکن اس پر یہ رد عمل کہ اس ملک پر چاہے ایٹم بم گرجاتا بھلے کروڑوں عوام بھسم ہوجاتے مگر میری اکڑ بو اورتکبر پر حرف نہ آتا۔  

مظلوم تو وہ تھا جو دو تہائی حاصل کرتا دکھتا تھا اور ماقبل دو تہائی اکثریت والی اسمبلیوں سے یک بینی و دو گوش آئین کا کھلواڑ کرتے ہوئے نکال باہر پھینکا گیا۔ وہ شریف انسان زہر جیسے دکھوں بھرے پیالے صبر اور حوصلے کے ساتھ پی گیا۔ مگر کبھی آئین و جمہوریت یا انسانی اقدار پر آنچ نہ آنے دی۔ آپ لوگ کیوں نہیں چاہتے کہ استقامت دکھانے والوں کو ان کے صبر کا پھل ملنا چاہیے۔ جوجینوئن لوگ اور پارٹیاں ہوتی ہیں، وہ یوں خزاں کے پتوں کی طرح نہیں جھڑتے۔ میں میں کرنے والے آج آخر کیوں اس پوائنٹ پر آچکے ہیں کہ مائنس ہونا بھی قبول ہے اور پھینکا ہوا چاٹنا بھی شہد ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ انسان کو فرعون یا ہٹلر بنتے وقت اس کے مضمرات کا ادراک بھی کرلینا چاہیے بصورت دیگر مٹی پاؤ کی بجائے مکافات  عمل بھگتنے کیلئے بھی ہمت ہونی چاہیے۔ محترم حقانی صاحب! آپ امریکا، فرانس، مصر اور انڈیا کی مثالیں دیتے ہوئے جرمنی کو بھی بیچ میں لے آئیں۔ جرمن بھی بڑے مہذب اور جمہوری الذہن لوگ ہیں۔ انسانی حقوق اور انسان نوازی پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیا آپ انہیں یہ مشورہ دیں گے کہ ہٹلر کو معاف کردیں؟ وہ آپ کا منتخب چانسلر تھا، اس سے جو بھی غلطیاں ہوئی ہیں، آپ لوگ اس پر مٹی ڈالیں یا اس کا نام احترام سے لیں؟

ہمارے یہاں بھی لاکھوں لوگوں کا خون ہوا ہے، لاکھوں انسانوں کی تذلیل ہوئی ہے، ہم روز فوجی ڈکٹیٹروں کو کوستے ہیں۔ ضرور کوسیں جبر کے جو بھی مرتکبین ہیں تاریخ انہیں معاف کرسکتی ہے، نہ روشن ضمیر انسان لیکن جو سویلین ہوتے ہوئے جمہوریت کے لبادے میں یونیفارم والوں سے بھی بدتر ثابت ہوئے ہوں، کم از کم اس درویش کا ضمیر تو کبھی یہ قبول نہیں کرسکتا کہ احرام میں لپٹے شیطانوں کو معاف کردے۔