احتسابی عمل متنازعہ کیوں رہتا ہے؟
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 06 / دسمبر / 2023
ویسے تو ہمارے ہاں شروع دن سے ہی احتسابی عمل متنازعہ رہا ہے لیکن ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے بری ہونے اور القادر ٹرسٹ کیس میں سابقہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف نیب ریفرنس دائر ہونے سے ملک میں احتسابی عمل کی قانونی و اخلاقی حیثیت پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
سابقہ پی ٹی آئی حکومت میں نواز شریف کو جن مقدمات میں سزائیں ہوئی تھیں موہ ایک ایک کر کے ان مقدمات سے بری ہو رہے ہیں جب کہ نواز شریف کو سزائیں دلوانے میں سرگرم عمران خان آج ایک کے بعد دوسرے مقدمے کا سامنا کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔نواز شریف کے حامیوں کا خیال ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے نواز شریف کو احتسابی عمل کے ڈریعے سیاسی وانتخابی منظر نامے سے باہر کیا گیا جب کہ آج عمران خان کے حامی یہ سوچ رہے ہیں کہ نواز شریف کو پھر سے اقتدار دلوانے کے لیے عمران خان کو طویل عرصے کے لیے جیل میں رکھنے کی منصوبہ بندی پر عمل ہو رہا ہے۔کل نواز شریف کے حمایتی نواز شریف کو ملی والی سزاؤ ں کو انصاف کا قتل کہہ رہے تھے تو آج عمران خان کے عقیدت مند یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سزائیں دینا انصاف کا گلہ گھونٹنے کے مترادف ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز شریف کو ملنے والی سزائیں عمران خان کے حامیوں کے خٰیال میں عین انصاف پر مبنی تھیں جب کہ آج نواز شریف کے سپورٹرز یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ عمران خان کے خلاف احتسابی عمل قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اپنے دور میں عمران خان اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے مرکزی قائدین کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے متمنی تھے جب کہ حالیہ مہنیوں میں مریم نواز انصاف کے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کرنے کی خواہاں رہی ہیں جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ نہ صرف ماضی میں نواز شریف کے خلاف بنائے گئے مقدمات ختم کرو بل کہ آج 9مئی اور دیگر مقدمات میں عمران خان کو سزائیں دے کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھیں۔
کوئی شک نہیں کہ کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف ملکوں میں حکومتی و سیاسی اور سماجی و انتظامی سطح پر پائی جانے والی کرپشن کی نوعیت اور شدت میں فرق موجود ہے۔تقریبا ًدنیا کے تمام ممالک میں ریاستی و حکومتی سطح پرایسے ادارے سرگرم عمل ہوتے ہیں جن کا مقصد حکومتی وسیاسی اورسماجی و انتظامی سطح پر کرپشن کی روک تھام کے لئے تسلسل سے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جن ممالک میں ریاستی وحکومتی سطح پر "احتساب سب کا " کے اصول پر سختی سے عمل پیرا رہتے ہوئے کرپشن کے سدباب کے لئے کوششیں کی جائیں وہاں کرپشن کی شرح بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن جہاں "احتساب سب کا" کے اصول پرعمل پیرا ہونے کی بجائے احتساب کے دوہرے معیار کو فروغ دیاجائے وہاں کرپشن میں کمی کی بجائے الٹا اضافہ ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان بھی ایسے کچھ ممالک میں شامل ہے جہاں احتساب کا دوہرا معیار رائج رہا ہے۔مختلف ادوار میں ملک میں ہونے والے احتسابی عمل بارے عمومی تاثر یہ ہے کہ یہاں سب کا یکساں احتساب کرنے کی بجائے ایسے مخالفین کے گرد احتساب کا گھیرا تنگ رکھا جاتا ہے جو یا توحکومت وقت کے سخت ناقد و ناپسندیدہ ہوں یا پھر جو مقتدر حلقوں کی نظروں میں خار کی طرح کھٹکتے ہوں۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں احتساب کا شکنجہ یا تو کسی ناپسندیدہ سیاسی پارٹی کو کھڈے لائن لگانے یا کمزور کرنے کے لئے کسا جاتا ہے یا پھر کسی باغی سیاسی رہنما کو جھکانے یا سیاست سے بے دخل کرنے کے لئے احتسابی عمل کا راگ الاپا جاتا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر ہونے والے ایسے احتسابی عمل سے سیاسی مخالفین کو ڈرا دھمکا کراپوزیشن کرنے سے وقتی طور پر تو روکا جا سکتا ہے لیکن ایسے امتیازی احتساب سے ریاستی و حکومتی اور انتظامی و سماجی سطح پر کرپشن میں قابل ذکر حد تک کمی لانا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوتا۔
کوئی دو رائے نہیں کہ کرپشن کے سدباب کے لئے احتسابی عمل کا جاری رہنا ناگزیر ہوتا ہے لیکن یہ عمل اسی صورت بہتر نتائج دے سکتا ہے جب احتسابی ادارے یک طرفہ احتساب (صرف حکومتی مخالفین یا ناپسنددہ افراد)کی بجائے سب کا احتساب کرنے میں نہ صرف آزاد و خود مختار ہوں بل کہ سب کا احتساب کرتے ہوئے نظر بھی آئیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومتی و سیاسی جماعتوں سمیت کوئی بھی ادارہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کی بجائے دوسروں کے احتساب کا متمنی ہے۔ زیادہ پیچھے نہ جائیں گزشتہ دو حکومتوں میں ہونے والے احتسابی عمل کو دیکھ لیں تو احتساب کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ سابقہ نواز دور حکومت میں جب تک نیب اور ایف آئی اے سندھ حکومت کی مبینہ کرپشن کے خلاف کاروائیاں کرتی رہی، اس وقت کی وفاقی حکومت اسے نیب کے 'ڈلیور" کرنے سے تشبیہ دیتی رہی لیکن جیسے ہی نیب کی کارروائیوں کا رخ پنجاب اور وفاق کے منصوبوں کی طرف مڑا توسابق وزیراعظم سمیت حکمران جماعت کے وزرا نے نہ صرف نیب کے طریقہ کارپر سخت تحفظات کا اظہار کیا بلکہ اس کی آزادی و خود مختاری پر قدغنیں لگانے کے لیے آئینی ترمیم لانے پر غور وفکر بھی کیا گیا۔
پی ٹی آئی حکومت کے دور میں نواز حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ نیب کا سیاسی استعمال ہو تا رہا۔ اگرچہ ن لیگ کی مرکزی قیادت پی ٹی آئی حکومت کے آنے سے پہلے ہی نیب کے زیر عتاب تھی لیکن حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی شریف خاندان سمیت ن لیگ کے اہم رہنماؤں کے خلاف نیب کی کاروائیوں میں بہت تیزی آ گئی۔ حکومت اور مقتدر قوتوں پر سخت تنقید کرنے والوں کو ایک ایک کرکے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ احتسابی عمل کو جامع بنانے کے لئے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے لئے احتسابی اداروں کو ڈرامائی انداز میں حرکت میں لایا گیا لیکن اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے واویلے کے باوجود احتسابی ادارے پی ٹی آئی حکومتی منصوبوں میں سامنے آنے والی کرپشن پر کوئی کاروائی نہ کر سکے۔
احتسابی عمل متنازعہ ہونے بارے پہلے سیاسی وصحافتی حلقوں میں بحثیں ہوتی تھیں لیکن اب تو گلی محلے کی سطح پر زیر بحث سیاست میں بھی احتسابی عمل شدید تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ ہماری سیاسی جماعتیں مقتدرہ کے ہاتھوں استعمال ہو کر ایک دوسرے کے خلاف احتسابی عمل میں بڑی پھرتیاں دکھاتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مقتدر حلقے بھی سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے برسرپیکار رکھ کے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کاکھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حرف آخر یہی کہ جب تک سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے مقتدرہ کا سہارا لیتی رہیں گی، یہاں متنازعہ احتسابی عمل سے کل کے ہیرو آج کے زیرو بنتے رہیں گے۔