افغان مہاجرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا سلسلہ ترک کیا جائے: عمران خان

  • جمعہ 08 / دسمبر / 2023

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں خصوصاً افغان مہاجرین کی واپسی کی پالیسی کو غلط قرار دیا ہے۔

جیل سے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے مابین دیرپا تعلقات میں ایک مستقل دراڑ کا اندیشہ ہے۔ ایکس پر شائع بیان میں کہا گیا ہے کہ قوموں کے لیے اپنے ہمسائے بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ وقت کے بہاؤ کے ساتھ انہیں ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ گہرے بااعتماد تعلقات پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے

خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے گذشتہ روز پشاور کے دورے کے دوران کہا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے غیر قانونی غیر ملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اب تک پاکستان چھوڑنے والے غیر قانونی افغان باشندوں کی تعداد 4 لاکھ 14 ہزار 452 تک پہنچ چکی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک اور ہمسایہ ہے۔ دونوں ممالک کے عوام صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے 40 برس تک افغان مہاجرین کی خدمت کی ہے۔ محض ناقص حکمتِ عملی کے باعث برسوں پر محیط مہمان نوازی کے اثرات ضائع کئے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پچیس کروڑ آبادی کے ملک کے لئے پندرہ لاکھ مہاجرین کچھ زیادہ بوجھ نہیں ہے۔  پناہ کی تلاش میں آنے والے مہاجرین میں نڑا حصہ غریب ترین لوگوں پر مشتمل ہے۔  پورے معاملے کو تہذیب، شائستگی اور حکمت سے نہ نمٹائے جانے کی وجہ سے پوری افغان قوم میں منفی جذبات جنم لیں گے۔ ناقص حکمتِ عملی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدمزگی ان کی نفسیات کا حصہ بنے گی اور دونوں ممالک کے مابین دیرپا تعلقات میں ایک مستقل دراڑ کا اندیشہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغان مہاجرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا سلسلہ ترک کر کے پورے معاملے کو حکمت و دانش سے دیکھنے اور ان کی عزت نفس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ایک آبرو مندانہ راستہ اختیار کرنا ہو گا۔