ملک کو یہاں تک پہنچانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے: نواز شریف

  • ہفتہ 09 / دسمبر / 2023

سابق وزیر اعظم و سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم نے گزشتہ 4 برس میں مشکل دور دیکھا ہے، ملک کو یہاں تک پہنچانے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔

لاہور میں پارٹی کے ٹکٹ امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ قوم نے گزشتہ 4 برس میں مشکل دور دیکھا ہے۔ 2017 میں جب تک میں وزیراعظم تھا تب تک بڑا اچھا دور تھا، ترقی عروج پر تھی، کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

دنیا بھی اعتراف کررہی تھی کہ پاکستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک خواب تھا جو ادھورا رہ گیا۔ اسے پورا ہونا چاہیے تھا لیکن کچھ ایسے عوام اور کردار بیچ میں آگئے جنہوں نے دوڑتے پاکستان کو ٹھپ کرکے رکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اُس وقت سے ہماری معیشت نیچے جارہی ہے، ہماری اقتصادی ترقی بھی رک گئی، جی ڈی پی ریٹ بھی نیچے گر گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس مک کی باگ ڈور کیسے ایک اناڑی کے ہاتھوں سپرد کردی گئی۔ اچھے بھلے لوگوں سے اچھی بھلی حکومت لے کر ایک اناڑی کے ہاتھوں میں دے دی گئی۔ لوگوں نے ہمیشہ ہمیں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا۔  ہم نے اچھے اچھے کام کیے اور ہر دفعہ ہمیں نکال دیا گیا، کیوں نکال دیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ کم از کم ہمیں پتا لگنا چاہیے کہ 1993 میں ہمیں کیوں نکالا گیا؟ اس وقت ہم نے معاملات کو صحیح طرح سنبھالا اور ہم نے کہا تھا کہ کارگل میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ کیا اس لیے ہمیں نکال دیا گیا تھا؟ آج وقت ثابت کررہا ہے کہ ہم صحیح تھے۔ ہمارے دور میں بھارت کے 2 وزرائے اعظم واجپائی اور مودی پاکستان تشریف لائے۔ اس سے پہلے کب کوئی آیا تھا؟

انہوں نے کہا کہ صرف اقتصادی اور معاشی ترقی نہیں بلکہ ہر شعبے میں ترقی کرنی چاہیے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کے ہمسائے آپ سے ناراض ہوں یا آپ ان سے ناراض ہوں اور آپ دنیا میں کوئی مقام حاصل کرلیں۔ ہمیں اپنے معاملات کو بھارت کے ساتھ بھی ٹھیک کرنا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بھی ٹھیک کرنا ہے، ایران کے ساتھ بھی مضبوط کرنا ہے۔ چین کے ساتھ بھی مزید بہتر اور مضبوط کرنا ہے، ہمارے پیچھے تو سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔

نواز شریف نے کہا کہ دنیا میں ہم بہت پیچھے رہ گئے۔ ارد گرد کے ممالک کودیکھ کرشرم آتی ہے، جنہوں نے ملک کویہاں تک پہنچایا ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے کہ آپ نے ملک کے ساتھ یہ سلوک کیسے اور کیوں کیا؟  کوئی محبِ وطن پاکستانی ملک کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا۔ یہ ہمارا ملک ہے جہاں ہماری نسلوں نے رہنا ہے۔ کم از کم ہم ان کے لیے ایک اچھا ملک تو چھوڑ کر جائیں۔